موسمیاتی تبدیلی: حکومت کی عدم توجہ سے زراعت کو شدید خطرات لاحق خطرہ
  29  مارچ‬‮  2017     |      کاروبار

اسلام آباد(روزنامہ اوصاف)پاکستان میں جہاں موسمیاتی تبدیلیاں زرعی شعبے کے لیے مسلسل خطرہ ثابت ہورہی ہیں، وہیں حکومت کی اس سلسلے میں کوئی واضح پالیسی نہ ہونے سے کاشتکاروں اور مقامی کسانوں کو بھی سخت مشکلات کا سامنا ہے۔وسائل کی کمی اور بہتر سہولیات نہ ہونے سے پاکستان کو ذراعت کے شعبے میں تقریباً 20 ارب ڈالر کا نقصان بھی ہوچکا ہے، جبکہ چھوٹے کاشتکار اس صورتحال کے سب سے زیادہ شکار نظر آتا ہے۔اسی حوالے سے ڈان نیوز کے پروگرام 'نیوز وائز' میں گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کسان اتحاد سے وابستہ خالد کھوکھر نے کہا کہ اگر زمینی حقائق کو دیکھا جائے تو چھوٹے اور بڑے دونوں طرح کے کاشتکاروں کو نقصان کا سامنا ہے۔خالد کھوکھر کا کہنا تھا کہ 'اس وقت سب سے بڑا مسئلہ فصلوں میں پانی کی شدید کمی کا ہے اور اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو رواں برس یہ مسئلہ مزید سنگین نوعیت اخیتار کرسکتا ہے'۔انھوں نے بتایا کہ ملک میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے درجہ حرارت میں اضافہ ہوا ہے، جس سے زمین کی زرخیزی کافی متاثر ہورہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ فصلوں تک پانی پہنچانے کے مصنوعی طریقے یعنی ڈرپ ایریگیشن کا نظام اس وقت پاکستان میں وسیع پیمانے پر رائج نہیں، لہذا کچھ علاقے ایسے ہیں جہاں چھوٹے کسانوں نے اپنی سہولت اور پیداواری مقصد کو پورا کرنے کے لیے اس کا استعمال کر رکھا ہے۔خالد کھوکھر نے کہا کہ بدقسمتی سے ہم نے چھوٹے اور بڑے کسان میں فرق پیدا کرکے اسے ایک سماجی مسئلہ بنا دیا ہے اور قرض بھی ان ہی کسانوں کو دیا جاتا ہے، جن کے پاس پہلے سے پانچ ایکڑ زمین موجود ہو۔اس سوال پر کہ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ ان حالات میں حکومت کو زراعت کے شعبے کو تباہی سے بچانے کے لیے کیا کچھ کرنے کی ضرورت ہے؟ تو انھوں نے کہا کہ سب سے پہلے تو پیداواری لاگت کو کم کرنا ہوگا تاکہ ڈیزل اور کھاد سمیت کاشتکاری کی ضرورت کے لیے استعمال ہونے والی اشیاء کو باآسانی خریدا جاسکے۔ان کا کہنا تھا کہ 'جب تک ہماری پیداواری لاگت کم نہیں ہوگی اُس وقت تک ہم موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ نہیں کرسکتے، لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں زرعی مصنوعات پر بھاری ٹیکسز عائد کر دیئے جاتے ہیں جوکہ پوری دنیا میں نہیں ہیں۔خالد کھوکھر نے حکومت پر زور دیا کہ وہ کسانوں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ نئی موسمیاتی صورتحال پر تحقیق کا عمل بھی تیز کرے تاکہ یہ شعبہ ترقی کرسکے۔پروگرام میں موجود ماہر موسمیات ڈاکٹر قمر الزمان کا کہنا تھا کہ جس طرح سے پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیاں ہورہی ہیں، بظاہر ہم اس پر کوئی مناسب حکمتِ عملی نہیں بنا رہے جوکہ تشویش کی بات ہے۔انھوں نے کہا کہ وزرات برائے موسمیاتی تبدیلی میں اس حوالے سے کام تو ہوا، لیکن وہ کوئی ایسے اقدامات نہیں جن سے ہم ان ممکنہ خطرات کا سامنا کرسکیں۔ان کا کہنا تھا کہ 'اس وقت حکومت کی توجہ دہشت گردی اور توانائی کے بحران کو حل کرنے پر مرکوز ہے، لیکن یہ مسئلہ ان دو مسائل سے کہیں زیادہ اہم ہے جسے اب تک نظر انداز کیا جارہا ہے۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں کچھ پیشرفت ضرور ہوئی ہے جس کے تحت حال ہی میں پارلیمنٹ سے موسمیاتی تبدیلوں کے حوالے سے ایک بل بھی منظور ہوا ہے اور اس کا مقصد بھی یہی تھا کہ ایک ایسی کونسل قائم کی جائے جس کی خود وزیراعظم نواز شریف سربراہی کریں اور صوبائی سطح پر ہونے والے موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹا جاسکے۔کچھ علاقوں میں چھوٹے کسان پیداواری مقصد کو پورا کرنے کے لیے ڈرپ ایریگیشن سسٹم کا بھی استعمال کررہے ہیںڈڈاکٹر قمرالزمان کا کہنا تھا کہ اگرچہ یہ پیشرفت بھی ضروری ہے، مگر حالات کے پیش نظر ہمیں ہنگامی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا تاکہ مزید نقصان سے بچا جاسکے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ وہ کاشتکاروں کی مدد کرے تاکہ فصلوں میں موجود پانی کی کمی کو دور کرکے غذائی فصل کو تباہ ہونے سے بچایا جاسکے، کیونکہ گذشتہ سالوں میں بارشیں کم اور گرمی کی شدت زیادہ دیکھنے میں آئی ہے۔خیال رہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے دوچار ممالک میں پاکستان اس وقت ساتویں نمبر پر ہے، لیکن حکومت کی عدم توجہی سے مستقبل میں ان تبدیلیوں سے مزید نقصانات کے خدشات جنم لے رہے ہیں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
100%
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کاروبار

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved