شریعت کی رو سے بینک کی نوکری کرنا حلال ہے یا حرام؟
  5  اپریل‬‮  2017     |      کاروبار

اے آر وائی ڈیجیٹل نیٹ ورک کے اسلامی چینل کیو ٹی وی کے ایک براہ راست پروگرام میں مفتی عاصم نے سائل کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بینک کی نوکری میں حلال و حرام کا اختلاط ہے جس کے باعث کلی طور پر اسے حرام یا حلال قرار دینا مناسب نہیں۔مفتی عاصم ایک سائل کے سوال کا جواب دے رہے تھے جس میں ان سے پوچھا گیا تھا کہ بینک کی نوکری حلال ہے اور بینک میں نوکری کرنے والوں کے ساتھ کس قسم کے سماجی رابطے یا روابط رکھنا چاہیے۔مفتی عاصم نے کہا کہ بینک میں کام کرنے والے تمام افراد ہی اس ذمرے میں نہیں آسکتے کیوں کہ بینک میں جہاں پی ایس ایل اکاؤنٹ پہ کام ہوتا جو کہ ممنوع ہے وہیں کرنٹ اکاؤنٹ پر بھی کام ہوتا ہے جو کہ عین اسلامی اکاؤنٹ ہے کیوں کہ اس میں سود کا لین دین اور منافع شامل نہیں ہوتا۔اس لیے بینک جو ملازمین براہ راست سود اور قرض کے لین دین میں ملوث نہیں ہیں ان کی ملازمت اور کمائی درست ہے جب کہ جو ملازمین براہ راست قرضے دینے اور پھر ماہانہ یا سالانہ قسط بہ طور سود وصول کرنے پر مامور ہوتے ہیں ان کی کمائی درست نہیں اور ایسے لوگوں کے یہاں کھانا پینا درست نہیں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
78%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
22%
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کاروبار

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved