نئے نوٹوں کو گھر بیٹھے کیسے حاصل کریں؟
  12  جون‬‮  2017     |      کاروبار
کراچی(ویب ڈیسک)اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ان بینکوں کی شاخوں کی فہرست اور برانچ کوڈز جاری کردیئے ہیں جہاں سے لوگ ایس ایم ایس سروس کے ذریعے نئے نوٹوں کی گڈیاں حاصل کرسکتے ہیں۔ اسٹیٹ بینک نے ایس ایم ایس فیس بھی کم کرکے ڈیڑھ روپے کردی ہے جبکہ شاخوں کی تعداد بھی گزشتہ سال کے مقابلے میں دوگنا بڑھا دی ہے۔ آپ اس لنک پر جاکر بینک کی شاخوں کے نام اور برانچ کوڈ دیکھ سکتے ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے گزشتہ ہفتے نئے کرنسی نوٹ کے لیے ایس ایم ایس سروس دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا اور صارفین 12 جون سے 23 جون تک اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ نئے کرنسی نوٹ 120 شہروں میں 1000 کمرشل بینک برانچز کے ساتھ ساتھ آن لائن بینکنگ میں دستیاب ہوں گے۔
سروس کے استعمال کا طریقہ کار نئے نوٹوں کے حصول کے لیے ایس ایم ایس سروس کے لیے صارفین کو اپنے شناختی کارڈ نمبر کے ساتھ بینک برانچ آئی ڈی نمبر کو 8877 پر ایس ایم ایس کرنا ہوگا۔ اس کے بعد صارف کو بینک کی جانب سے ٹرانزیکشن نمبر ایس ایم ایس کے ذریعے بھیجا جائے گا، جس کے ساتھ بینک برانچ کا ایڈریس اور تاریخ دی جائے گی تاکہ نئے نوٹ حاصل کیے جاسکیں۔ صارف کو نئے کرنسی نوٹ لینے کے لیے اصل شناختی کارڈ یا اسمارٹ کارڈ، اس کی فوٹو کاپی اور 8877 سے موصول ہونے والا کوڈ بھی ساتھ لانا ہوگا۔ بینکوں کی برانچوں کے ریفرنس کوڈز اسٹیٹ بینک کی ویب سائٹ یا پی بی اے ویب سائٹ پر دیکھے جاسکتے ہیں۔ ایک فرد کو کتنے نوٹ ملیں گے؟ ایک شخص کو نئے نوٹوں کی گڈیاں مخصوص تعداد میں ملیں گی، یعنی دس، پچاس اور سو کی دو، 2 گڈیاں لی جاسکتی ہے۔ ایس ایم ایس سروس سے استفادہ کرنے والے سے ایک مسیج کے چارجز ڈیڑھ روپے بمشول ٹیکس ہوں گے، جبکہ اس سروس سے ایک شخص صرف ایک بار ہی فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ اسی طرح ہر صارف اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کے لیے صرف ایک ہی نمبر اورایک ہی شناختی کارڈ نمبراستعمال کرسکتا ہے۔ اگر کوئی بھی صارف مختلف موبائل نمبر سے ایک ہی شناختی کارڈ یا اسمارٹ کارڈ نمبرسے مسیج بھیجتا ہے یا مختلف شناختی کارڈ نمبرز سے ایک ہی موبائل نمبر بھیجتا ہے تو ایسے صارف کی ٹرانزیکشن مکمل نہیں ہوگی البتہ صارف کے چارجز کاٹ لیے جائیں گے۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 




  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کاروبار

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved