پلاسٹک کی 480ارب بوتلوں کی خرید و فروخت
  7  جولائی  2017     |      کاروبار

لاہور (ویب ڈیسک ) مشروبات کی بڑھتی ہوئی پیاس نے ایشیائی ممالک میں پلاسٹک کی بوتلوں کے استعمال کو خوفناک حد تک بڑھا دیا ہے ۔ یہ ماحول کی بدقسمتی ہے کہ ہم اپنے گھروں کو صاف ستھرا رکھنے کے لیے پلاسٹک کی بوتلیں خریدتے ہیں لیکن یہ پلاسٹک انسان کی جان نہیں چھوڑتا ۔ ان میں سے ایک چوتھائی کو ری سائیکل کر لیا گیا ۔ شمالی امریکہ میں 2 کروڑ 20 لاکھ بوتلیں ہر سال چشموں میں پھینک دی جاتی ہیں ۔ مشی گن جھیل میں ہر سال پلاسٹک کی ضائع شدہ بوتلوں سے اولمپک سائز کے 100 سوئمنگ پول بنائے جاسکتے ہیں ۔ مچھلیاں اور دوسری آبی حیات پلاسٹک کی بوتلوں کو ’مائیکرو پلاسٹک ‘میں تبدیل کر کے کھا جاتی ہیں ۔ مگر 2050ء میں ضائع شدہ بوتلوں کی تعداد سمندروں کی ’خوراک ‘ سے کہیں زیادہ ہوگی ۔ امپیریل کالج لندن کے مطابق سمندر میں پلاسٹک کی بوتلوں کی تعداد میں اضافے سے سمندری جانور دم گھٹنے سے مر جائیں گے ۔ دنیا بھر میں روزانہ پلاسٹک کی 480 ارب بوتلوں کی خریدو فروخت ہوتی ہے جس میں سے صرف 240 ارب بوتلیں ری سائیکل کی جاتی ہیں ، باقی ماندہ بوتلیں دریائوں ، نہروں اور سمندر کے صاف پانی کو گندا کرنے اور سیوریج سسٹم کے گندے پانی کی نکاسی کو بند کر کے بدترین ماحولیاتی آلودگی کو جنم دیتی ہیں ۔ ایشیائی ممالک میں ان بوتلوں کا ری سائیکل کرنے کا مناسب انتظام نہیں ۔ ایشیائی ممالک میں 2021ء تک ان خالی بوتلوں کی تعداد میں 20 فیصد اضافہ ہوگا اور عالمی سطح پر ان بوتلوں کی تعداد 583 ارب سالانہ سے متجاوز ہو جائے گی ۔ پچھلے سال امریکہ میں 50 ارب بوتلیں ضائع ہوئیں ۔ ایسا ضرور ہوگا کہ 2050ء میں سمندری مچھلیاں اور دوسرے آبی جانور دم گھٹنے سے مرنا شروع ہو جائیں گے ۔ یہ بھی یاد رہے کہ امریکہ میں پلاسٹک کی بوتلوں کی تیاری کے لیے 1 کروڑ 70 لاکھ بیرل پٹرول پھونکنا پڑتا ہے جس سے 25 لاکھ ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ پیدا ہوتی ہے ۔ ایک لیٹر پانی کی بوتل کی تیاری کے لیے 3 لیٹر پانی ضائع ہو جاتا ہے ، ہمیں اپنے ماحول کو صاف رکھنے کے لیے اپنے طرز زندگی کو بدلنا ہوگا ورنہ یہ طرز زندگی ہماری پروٹین کی سب سے اہم غذا یعنی مچھلیوں کے لیے جان لیوا ثابت ہوگا ۔ بوتلوں کو ری سائیکل کر لیا جاتا ہے ، باقی بوتلیں سمندر کے پانی کو گندا کرنے کا سبب بن رہی ہیں لاہور (روزنامہ دنیا ) مشروبات کی بڑھتی ہوئی پیاس نے ایشیائی ممالک میں پلاسٹک کی بوتلوں کے استعمال کو خوفناک حد تک بڑھا دیا ہے ۔ یہ ماحول کی بدقسمتی ہے کہ ہم اپنے گھروں کو صاف ستھرا رکھنے کے لیے پلاسٹک کی بوتلیں خریدتے ہیں لیکن یہ پلاسٹک انسان کی جان نہیں چھوڑتا ۔ دنیا بھر میں روزانہ پلاسٹک کی 480 ارب بوتلوں کی خریدو فروخت ہوتی ہے جس میں سے صرف 240 ارب بوتلیں ری سائیکل کی جاتی ہیں ، باقی ماندہ بوتلیں دریائوں ، نہروں اور سمندر کے صاف پانی کو گندا کرنے اور سیوریج سسٹم کے گندے پانی کی نکاسی کو بند کر کے بدترین ماحولیاتی آلودگی کو جنم دیتی ہیں ۔

ایشیائی ممالک میں ان بوتلوں کا ری سائیکل کرنے کا مناسب انتظام نہیں ۔ ایشیائی ممالک میں 2021ء تک ان خالی بوتلوں کی تعداد میں 20 فیصد اضافہ ہوگا اور عالمی سطح پر ان بوتلوں کی تعداد 583 ارب سالانہ سے متجاوز ہو جائے گی ۔ پچھلے سال امریکہ میں 50 ارب بوتلیں ضائع ہوئیں ۔ ان میں سے ایک چوتھائی کو ری سائیکل کر لیا گیا ۔ شمالی امریکہ میں 2 کروڑ 20 لاکھ بوتلیں ہر سال چشموں میں پھینک دی جاتی ہیں ۔ مشی گن جھیل میں ہر سال پلاسٹک کی ضائع شدہ بوتلوں سے اولمپک سائز کے 100 سوئمنگ پول بنائے جاسکتے ہیں ۔ مچھلیاں اور دوسری آبی حیات پلاسٹک کی بوتلوں کو ’مائیکرو پلاسٹک ‘میں تبدیل کر کے کھا جاتی ہیں ۔ یہ بھی یاد رہے کہ امریکہ میں پلاسٹک کی بوتلوں کی تیاری کے لیے 1 کروڑ 70 لاکھ بیرل پٹرول پھونکنا پڑتا ہے جس سے 25 لاکھ ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ پیدا ہوتی ہے ۔ ایک لیٹر پانی کی بوتل کی تیاری کے لیے 3 لیٹر پانی ضائع ہو جاتا ہے ، ہمیں اپنے ماحول کو صاف رکھنے کے لیے اپنے طرز زندگی کو بدلنا ہوگا ورنہ یہ طرز زندگی ہماری پروٹین کی سب سے اہم غذا یعنی مچھلیوں کے لیے جان لیوا ثابت ہوگا ۔ مگر 2050ء میں ضائع شدہ بوتلوں کی تعداد سمندروں کی ’خوراک ‘ سے کہیں زیادہ ہوگی ۔ امپیریل کالج لندن کے مطابق سمندر میں پلاسٹک کی بوتلوں کی تعداد میں اضافے سے سمندری جانور دم گھٹنے سے مر جائیں گے ۔ ایسا ضرور ہوگا کہ 2050ء میں سمندری مچھلیاں اور دوسرے آبی جانور دم گھٹنے سے مرنا شروع ہو جائیں گے ۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کاروبار

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved