”کس کے پاس کتنی دولت تھی،دنیا کی تاریخ کی ماضی قریب کی امیر ترین شخصیات
  13  جولائی  2017     |      کاروبار

”کس کے پاس زیادہ دولت تھی، جان ڈی راک فیلر یا چنگیز خان؟“ یہ ایک سادہ سا سوال ہے، لیکن اس کا جواب نہایت مشکل ہے۔ معروف امریکی میگزین ’’ٹائم‘‘ کے مطابق اس سوال کا جواب حاصل کرنے اور دنیا کی تاریخ کے دس امیر ترین افراد کی رینکنگ تیار کرنے کے لیے ماہرین معیشت اور تاریخ دانوں سے کئی گھنٹوں پر مشتمل انٹرویوز کیے گئے اور اس کے نتیجے میں تاریخ کے دس امیر ترین افراد پر مشتمل ایک فہرست تیار کی گئی، جو درج ذیل ہے۔ چنگیز خان: عرصۂ حیات۔ 1162ء سے 1227ء ملک۔ سلطنتِ منگولیا دولت۔ بے تحاشا زمین بلاشبہ چنگیز خان کا شمار تاریخ کے کام یاب ترین جنگ جو حکم رانوں میں ہوتا ہے۔ اس کی سلطنتِ منگول چین سے لے کر یورپ تک پھیلی ہوئی تھی، جو تاریخ کی ایک بڑی سلطنت تھی۔ تاہم، اسکالرز کا کہنا ہے کہ چنگیز خان نے کبھی بھی دولت جمع نہیں کی اور اپنی سخاوت کی وجہ ہی سے اس کا رعب و دبدبہ قائم تھا۔ کوئنز کالج میں تاریخ کے نمایاں پروفیسر، مورس روسابی اور ’’چنگیز خان اینڈ دی میکنگ آف دی ماڈرن ورلڈ‘‘ کے مصنف، جیک ویدر فورڈ کے مطابق، چنگیز خان سارا مال غنیمت اپنے سپاہیوں اور لوگوں میں تقسیم کر دیتا تھا۔ منگول سپاہی اس زمانے کی دوسری افواج کی طرح لوٹ مار میں باقاعدہ حصے دار نہیں ہوتے تھے۔ اگر چہ چنگیز خان مال غنیمت میں سے حصہ لیتا تھا، لیکن وہ اس قدر نہیں ہوتا تھا کہ جو اسے امیر بنا سکے۔ اس نے نہ ہی ذاتی استعمال کے لیے یا اپنے خاندان کے لیے کوئی محل تعمیر کیا اور نہ ہی کوئی مزار بنایا اور حتیٰ کہ گھر تک تعمیر نہیں کیا۔ وہ ایک خیمے میں پیدا ہوا اور خیمے ہی میں اس کی موت واقع ہوئی اور اسے ایک عام فرد کی طرح دفن کیا گیا۔

ایلن روفوس: عرصۂ حیات۔ 1040ء سے 1093ء ملک۔ انگلینڈ دولت۔ 194 ارب ڈالرز انگریز فاتح، ولیم کے بھتیجے، روفوس نے نارمن کی فتح کے موقع پر اپنے چچا کے ساتھ جنگ میں شمولیت اختیار کی۔ جب وہ مرا، تو اس کی مجموعی دولت 11 ہزار پائونڈز تھی، جس کی موجودہ قدر 194 ارب ڈالرز ہے۔ جان ڈی راک فیلر: عرصۂ حیات۔ 1839ء سے 1937ء ملک۔ ریاست ہائے متحدہ امریکا دولت۔ 341 ارب ڈالرز روک فیلر نے پیٹرولیم کی صنعت میں 1863ء میں سرمایہ کاری شروع کی اور 1880ء میں اس کی اسٹینڈرڈ آئل کمپنی امریکا کی مجموعی ضرورت کا 90 فیصد تیل پیدا کرتی تھی۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق، روک فیلر نے 1918ء میں 1.5 ارب ڈالرز ان کم ٹیکس دیا اور اس کی اس وقت کی دولت کی قدر موجودہ 341 ارب ڈالرز کے مساوی ہے۔ اینڈریو کارنیگی: عرصۂ حیات۔ 1835ء سے 1919ء ملک۔ متحدہ ہائے ریاست امریکا دولت۔ 372 ارب ڈالرز اگر چہ روک فیلر کو امریکی پریس میں خصوصی توجہ ملی، لیکن اس کے مقابلے میں اینڈریو کارنیگی کو امریکی تاریخ کا سب سے دولت مند شخص قرار دیا جا سکتا ہے۔ اسکاٹ لینڈ سے نقل مکانی کرنے والے کارنیگی نے1901ء میں اپنی کمپنی ’’ یو ایس اسٹیل‘‘، ’’جے پی مورگن‘‘ کو 48 کروڑ روپے میں فروخت کی تھی۔ تب یہ رقم امریکی جی ڈی پی کے 2.1 فیصد کے مساوی تھی اور آج کے زمانے میں اس رقم کی قدر 372 ارب ڈالر بنتی ہے۔ جوزف اسٹالن: عرصۂ حیات۔ 1878ء سے 1953ء ملک۔ یو ایس ایس آر دولت۔ 9.6 فیصد عالمی جی ڈی پی رکھنے والے ملک کا کنٹرول اگرچہ اسٹالن کا شمار انفرادی طور پر امیر ترین افراد میں نہیں ہوتا، لیکن اپنے دور کی ایک بہت بڑی طاقت، یو ایس ایس آر کے سربراہ ہونے کے ناتے ان کا شمار تاریخ کے امیر ترین حکم رانوں میں ہوتا ہے۔ 1950ء کے ’’او ای سی ڈی‘‘ کے اعدادوشمار کے مطابق، اسٹالن کی موت سے پہلے عالمی معیشت میں یو ایس ایس آر کا حصہ 9.5 فیصد تھا اور موجودہ وقت کے اعتبار سے اس کی قدر 7.5 کھرب ڈالرز بنتی ہے۔ اکبر اوّل: عرصۂ حیات۔ 1542ء سے 1605ء ملک۔ ہندوستان دولت۔ دنیا کی 25فیصد جی ڈی پی کا مالک ہندوستان کی مغلیہ سلطنت کے عظیم بادشاہ، اکبر اوّل کا دنیا کی ایک چوتھائی دولت پر غلبہ تھا۔ ’’فورچون‘‘ کے کرس میتھیوز کا معروف معاشی مورخ آنگس میڈیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہنا تھا کہ اکبر کے دور میںؓ فی کس آمدنی کا موازنہ انگلینڈ کی ملکہ ایلزبیتھ کے زمانے سے کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، مغل حکم رانوں کا طرز زندگی یورپی حکم رانوں کے مقابلے میں بہت زیادہ پر تعیش تھا۔ شہنشاہ شین زونگ: عرصۂ حیات۔ 1048ء سے 1085ء ملک۔ چین دولت۔ عالمی جی ڈی پی کا 25 سے 30 فیصد حصہ رکھنے والے ملک پر حکومت کی چینی معیشت کے تاریخ داں، رونلڈ اے ایڈورڈز کے مطابق، چین کی ’’سونگ سلطنت‘‘ (960-1279) اپنے دور کی طاقت ور معیشت تھی اور اپنے عروج کے دور میں دنیا کی 25 سے 30 فیصد دولت پر اس کا کنٹرول تھا اور تب اس پر شین زونگ کی حکم رانی تھی۔ اگسٹس سیزر : عرصۂ حیات۔ 63 قبل مسیح سے 14 عیسوی ملک۔ روم دولت۔ 4.6 کھرب ڈالرز اسٹین فورڈ میں تاریخ کے پروفیسر، ایان مورس کے مطابق، آگسٹس کے دور میں نہ صرف روم کا دنیا کی 25 سے 30 فیصد دولت پر قبضہ تھا، بلکہ اس کی ذاتی دولت بھی پوری سلطنت کی دولت کے 20 فیصد حصے کے مساوی تھی اور اس مناسبت سے آج اس دولت کی قدر 4 کھرب 60 ارب ڈالرز بنتی ہے۔ مورس کے مطابق، آگسٹس ذاتی طور پر مصر کا مالک تھا۔ منسا موسیٰ: عرصہ حیات۔ 1280ء سے 1337ء ملک۔ مالی دولت۔ دنیا کا سب سے زیادہ دولت مند شخص ٹمبکٹو کے بادشاہ، مانا موسیٰ کو عموماً تاریخ کا سب سے دولت مند شخص قرار دیا جاتا ہے۔ فیرم کالج میں تاریخ کے پروفیسر، رچرڈ اسمتھ کے مطابق، موسیٰ کی یہ افریقی ریاست دنیا میں سب سے زیادہ سونا پیدا کرنے والی ریاست تھی اور تب سونے کی طلب بھی بہت زیادہ ہوا کرتی تھی۔موسیٰ کی دولت کے بارے میں ابھی تک درست اعدادوشمار دست یاب نہیں۔ تاہم، مختلف روایات سے پتہ چلتا ہے کہ جب اس کا قافلہ مکہ میں حج کے لیے جاتا، تو اس کے اخراجات اس قدر شاہانہ ہوتے کہ مصر میں کرنسی کا کال پڑ جاتا۔ بعض روایات کے مطابق، اس کے قافلے میں درجنوں اونٹ شامل ہوتے، جن میں سے ہر ایک کی کمر پر سیکڑوں پونڈ وزنی سونا لدا ہوتا اور ایک وقت ایسا بھی آیا کہ مالی میں سونے کی پیداوار ایک ٹن تک پہنچ گئی تھی۔ اسی طرح ایک اور مورخ کا کہنا ہے کہ موسیٰ کی فوج 2 لاکھ افراد پر مشتمل تھی۔ تاہم، تمام مٔورخین اس بات پر متفق ہیں کہ موسیٰ کی دولت اس قدر زیادہ تھی کہ اس کا اندازہ لگانا ممکن نہیں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کاروبار

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved