ارب پتی بننے کے قریب ایشیائی کمپنیوں کی فہرست میں 5 پاکستانی ادارے شامل
  2  اگست‬‮  2017     |      کاروبار

لندن ( ویب ڈیسک)فوربز کی جانب سے ایشیا کی ارب پتی بننے کے قریب موجود کمپنیوں کی فہرست میں 5 پاکستانی ادارے بھی شامل ہیں جو گزشتہ برس کی 7 کمپنیوں سے کم ہیں۔اگریاٹو انڈسٹریز چیراٹ پیکجنگ فیروزسنز لیبارٹریز گندھارا انڈسٹریز اور سرلی کمپنی دو ہزار سترہ کی 200 کمپنیوں میں شامل کی گئی ہیں۔فوربز کی سالانہ رپورٹ میں ایشیا کی ایسی 200 پبلک کمپنیوں کو شامل کیا جاتا ہے جو اپنی افزائش کے لحاظ سے بہترین ریکارڈ رکھتی ہوں۔

ان کمپنیوں کی سالانہ آمدن ایک ارب ڈالر سے کم ہوتی ہے۔فوربز کے مطابق لسٹ میں دوسری بار شامل ہونے والے پاکستانی ادارے فیروز سنز نے گزشتہ برس اپنی آمدن میں 93 فیصد کا اضافہ کیا۔2011 میں فہرست میں 11 کمپنیاں رکھنے والے انڈیا کی رواں برس کی فہرست میں صرف تین کمپنیاں شالم ہیں۔فوربز کی حالیہ فہرست میں 13 مختلف ممالک کی ایسی کمپنیاں شامل ہیں جنہوں نے سیلز میں 55 فیصد، منافع کی شرح میں 24 فیصد اور سالانہ فی شئیر افزائش 113 فیصد حاصل کی ہے۔ان کمپنیوں میں بیشتر وہ ادارے شامل ہیں جنہوں نے اپنے آپریشن کو عالمی سطح پر بڑھایا ہے جب کہ چھوٹے سے درمیانے سائز کی کمپنیاں بنتے ان اداروں میں 70 ایسے ہیں جنہوں نے اپنے ہی علاقے میں آپریشنز کے ذریعے آمدن بڑھائی ہے۔چین نے 70 کمپنیوں کے ساتھ فہرست میں اپنی پوزیشن برقرار رکھی ہے جب کہ جاپان سے بھی خاصی تعداد میں ادارے اس فہرست کا حصہ ہیں۔ 38 کمپنیوں میں سے 33 ایسی ہیں جو صرف ایشیا ہی میں کام کر رہی ہیں۔ ان میں متعدد ادارے ایسے بھی ہیں جو آن لائن آپریشنز کے ذریعے اپنی آمدن بڑھا رہے ہیں۔فہرست میں شامل اداروں کی سالانہ آمدن 50 لاکھ ڈالر سے ایک ارب ڈالر کے درمیان ہے۔فوربز کے مطابق ٹریڈنگ کم کرنے والی یا ایسے ادارے جو ایک سال سے کم عرصہ سے ٹریڈنگ بزنس کا حصہ ہیں یا پھر تشویشناک اکاونٹنگ، مینجمنٹ، ملکیت اور قانونی مسائل کا شکار اداروں کو فہرست کا حصہ نہیں بنایا گیا ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کاروبار

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved