امریکہ کی امداد بند کر نے کی دھمکیا ں کسی کام نہ آئی
  29  اگست‬‮  2017     |      کاروبار

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) بین الاقوامی تعلقات کا بنیادی اصول ہے کہ ممالک کی دوستی صرف مفاد پر مبنی ہوتی ہے، لیکن پاکستان اور چین کی دوستی اس مسلمہ اصول سے بھی بالاتر ہے۔ اس کا ثبوت کئی دہائیوں پر محیط چین کی وہ بے لوث محبت ہے جس پر پاکستانیوں کو ہمیشہ فخر رہا ہے۔ سی پیک جیسا عظیم الشان منصوبہ اس دوستی کی ایک اور بڑی مثال کے طور پر سامنے آیا، لیکن شاید اکثر پاکستانیوں کے علم میںنہیں ہو گا کہ چین نے اسی طرح کے ایک اور تاریخی منصوبے کے لئے بھی پاکستان کو اربوں ڈالر فراہم کرنے کا معاہدہ کر لیا ہے۔ ان دونوں منصوبوں کی صورت میں چین کی پاکستان میں سرمایہ کاری کا حجم 100 ارب ڈالر(تقریباً 100کھرب پاکستانی روپے) سے بھی تجاوز کر گیا ہے۔ویب سائٹ DEVX.comکی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال کے آغاز میں حکومت پاکستان کی جانب سے امریکی ادارے یو ایس ایڈ کو ایک خط بھیجا گیا جس میں کہاگیا کہ دیامر بھاشا ڈیم کیلئے فیزیبلیٹی سٹڈیز روک دی جائیں۔ ‎پاکستان 2010 ءسے یو ایس ایجنسی برائے انٹر نیشنل ڈویلپمنٹ اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک پر زور دے رہا تھا کہ اس منصوبے کو مکمل کیا جائے۔ یو ایس ایڈ کا ہی تجزیہ تھا کہ یہ منصوبہ بجلی کی پیداوار ، زراعت کی ترقی اور سیلاب پر قابو پانے میں اہم کردار ادا کرے گا اور یوں اسے کسی بھی دیگر منصوبے کی نسبت پاکستان کی معیشت کیلئے زیادہ فائدہ مند قراردیا گیا تھا، لیکن اصل مسئلہ اس منصوبے کے بھاری اخراجات تھے۔

اگر امریکی حکومت اس منصوبے کے لئے ساڑھے 7 ارب (تقریباً ساڑھے 7کھرب پاکستانی روپے ) دینے کے لئے تیار ہو بھی جاتی تو ڈیم کی تعمیر کا تقریباً نصف حصہ مکمل ہو پاتا۔ یو ایس ایڈ نے اس منصوبے کی فیزیبیلٹی سٹڈیز پر 2 کروڑ ڈالر (تقریباً 2 ارب پاکستانی روپے ) خرچ کرنے کا فیصلہ کیا تھا تاکہ ایشین ڈویلپمنٹ بینک جیسی بین الاقوامی ادارے اس کیلئے فنڈنگ فراہم کرنے کی جانب مائل ہوں۔ یہ ایک طویل اور پیچیدہ عمل تھا، لیکن 2016 ءمیں یو ایس ایڈ کو پاکستانی حکومت کا خط ملا تو پہلی بار انہیں محسوس ہوا کہ پاکستان کو فنڈنگ کا کوئی اور ذریعہ دستیاب ہو گیا ہے ۔ ان کا یہ خیال درست تھا کیونکہ مئی 2017 میں اس منصوبے کی فنڈنگ کیلئے چین کے ساتھ 50 ارب ڈالر (تقریباً 50 کھرب پاکستانی روپے ) کے معاہدے پر دستخط کر دیئے گئے ۔ سی پیک کے بعد اس نئی چینی فنڈنگ نے پاکستان کیلئے چین کے قرضہ جات اور سرمایہ کاری کا مجموعی حجم 100 ارب ڈالر (تقریبا ً 100 کھرب پاکستانی روپے ) سے زائد کر دیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ آنے والے وقت میں اس حجم میں مزید اضافہ ہو گا اور یہ 150 ارب ڈالر (تقریباً 150 کھرب پاکستانی روپے) تک پہنچ جائے گا۔ چین کی جانب سے ملنے والی فنڈنگ میں سرمایہ کاری بھی شامل ہے اور قرضہ جات بھی۔ قرض کی شرح سود 5 فیصد تک ہے جو کہ کمرشل شرح کے قریب اور ورلڈ بینک و انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کی شرح سود سے زیادہ ہے، تاہم نئے انفراسٹکچر کی بدولت مطلوبہ اقتصادی نمو کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا تو پاکستان کے لئے اپنے قرضہ جات کی واپسی میں کوئی مشکل نہیں ہو گی۔‎


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
91%
ٹھیک ہے
3%
کوئی رائے نہیں
4%
پسند ںہیں آئی
1%


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کاروبار

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved