مولانا عبید اللہ سندھی
  20  ‬‮نومبر‬‮  2016     |     کالمز   |  مزید کالمز

جامعہ مدنیہ کریم پارک لاہور میں ''مجلس یادگار شیخ الاسلام پاکستان'' کے زیر اہتمام حضرت مولانا عبید اللہ سندھی کے حوالہ سے منعقد ہونے والے سیمینار کا گزشتہ کالم میں تذکرہ کیا تھا۔ میں نے اس موقع پر جو گزارشات پیش کیں انہیں تھوڑے سے اضافہ کے ساتھ قارئین کی نذر کیا جا رہا ہے۔ بعد الحمد والصلوٰة۔ حضرت مولانا عبید اللہ سندھی کے بارے میں گفتگو کے مختلف پہلو ہیں جن میں سے ہر ایک مستقل گفتگو کا متقاضی ہے۔ مثلاً ان کا قبول اسلام کیسے ہوا؟ ضلع سیالکوٹ کے گائوں چیانوالی کے سکھ گھرانے کے ایک نوجوان نے اسلام قبول کیا تو اس کے اسباب کیا تھے اور وہ کن حالات و مراحل سے گزر کر حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔ اسلام کی دعوت و تبلیغ اور غیر مسلموں کو اسلام کی طرف راغب کرنے میں اس سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ بوٹا سنگھ نامی نوجوان جب مسلمان ہوا تو سیالکوٹ سے جام پور اور وہاں سے بھرچونڈی شریف سندھ تک کے سفر کی داستان بھی توجہ کی مستحق ہے۔ بھرچونڈی شریف سلسلہ عالیہ قادریہ راشدیہ کی ایک اہم خانقاہ ہے، عارف باللہ حضرت حافظ محمد صدیق اس وقت اس سلسلہ کے سب سے بڑے پیشوا تھے، ان کی خدمت میں مولانا عبید اللہ سندھی کی حاضری اور حضرت حافظ صاحب سے استفادہ اور کسبِ فیض ایک مستقل موضوع بحث ہے۔ سیالکوٹ کے ایک نومسلم نوجوان کو وہاں ایسی محبت و شفقت ملی کہ وہ اپنے علاقائی نسبت ہی بھول گیا اور ہمیشہ کے لیے سندھی کا تعارف اختیار کر لیا۔ ابھی ہمارے فاضل دوست ڈاکٹر امجد علی شاکر اپنے خطاب میں بتا رہے تھے کہ مولانا سندھی پہلے صوفی بنے اور پھر عالم دین بنے۔ وہ اسی بات کی طرف اشارہ کر رہے تھے کہ یہ مسلم نوجوان پہلے بھرچونڈی شریف کی خانقاہ پہنچا اور پھر وہاں سے دیوبند کی طرف روانہ ہوا۔ اس کے بعد دیوبند میں مولانا سندھی کے تعلیم حاصل کرنے اور شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن کے ساتھ تعلق، استفادہ اور رفاقت کا دور ہے کہ انہوں نے اپنے وقت کے سب سے بڑے محدث، فقیہ، صوفی اور تحریک آزادی کے عظیم قائد کے معتمد ترین شاگرد اور ساتھی کا مقام کیسے حاصل کر لیا؟ پھر آزادیٔ وطن کی جدوجہد میں ان کے کردار اور محنت و قربانی کا دور آتا ہے کہ اس عظیم مشن کے لیے صرف اپنے ملک میں محنت نہیں کی بلکہ دنیا بھر میں دربدر کی خاک چھانی اور ایک قومی جدوجہد کو بین الاقوامی تحریک میں تبدیل کر دیا۔ مختلف ملکوں کا یہ سفر ہوائی جہاز اور لگژری کاروں کا نہیں بلکہ پیدل یا زیادہ سے زیادہ عام سطح کی پبلک ٹرانسپورٹ کا تھا۔ اس سفر کی ایک جھلک اس واقعہ میں دیکھی جا سکتی ہے جو میں نے اپنے شیخ محترم حضرت مولانا عبید اللہ انور سے سنا ہے کہ مولانا سندھی نے حضرت شیخ الہند کے حکم پر کابل کا سفر کرنا تھا، وہ سی آئی ڈی کے تعاقب سے بچنے کے لیے ادھر ادھر گھومتے ہوئے دین پور شریف پہنچے تو وہاں بھی اردگرد مخصوص لوگوں کو نگرانی کرتے ہوئے پایا۔ چند دن وہاں رہے مگر ان کی نگاہوں سے بچ کر نکلنے کی کوئی صورت دکھائی نہ دی۔ ایک دن تیز جلاب کی کوئی دوائی کھالی جس سے سخت اسہال شروع ہوگئے، نگرانوں نے یہ دیکھ کر کہ اب تو یہ دو تین دن تک کسی طرف جانے کے قابل نہیں رہے، نگرانی میں تھوڑی غفلت دکھائی۔ اس سے فائدہ اٹھا کر مولانا سندھی اسی حالت میں وہاں سے نکلے اور چھپتے چھپاتے قندھار کی طرف روانہ ہوگئے اور اپنی منزل تک پہنچ جانے تک کسی کو محسوس نہ ہونے دیا کہ وہ کون ہیں، کہاں سے آرہے ہیں اور کدھر جا رہے ہیں؟ یہ بات بھی تحقیق و مطالعہ کا اہم موضوع ہے کہ اپنی وطنی تحریک کو بین الاقوامی رخ دینے کے لیے اس مرد قلندر نے کیا کیا پاپڑ بیلے۔ اس وقت سلطنت برطانیہ دنیا کی سب سے بڑی طاقت شمار ہوتی تھی اور اس کے حریفوں میں جرمنی، خلافت عثمانیہ اور جاپان نمایاں تھے۔ ان تینوں بڑی قوتوں کو ایک منصوبے پر متفق کر کے آزادیٔ وطن کی قومی تحریک میں تعاون پر آمادہ کرلینا کوئی معمولی بات نہیں تھی۔ اس کے لیے سبھاش چندر بوس، مہندر پرتاب، برکت اللہ بھوپالی، عبید اللہ سندھی اور محمد میاں انصاری جیسے اصحابِ عزیمت کا حوصلہ کام آیا۔ اس حوصلہ اور اس کے مظاہر سے آج کی دنیا بالخصوص نئی نسل کو آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔ مولانا سندھی کی زندگی کا ایک پہلو ایک مفکر اور اجتہادی صلاحیتوں سے بہرہ ور بلند پایہ عالم دین کا بھی ہے، انہوں نے قرآن و سنت کی صرف تعبیر و تشریح نہیں کی بلکہ اپنے دور کی سماجی ضروریات اور معاشی تقاضوں کے ساتھ ان کی تطبیق و توفیق کی راہیں بھی نکالی ہیں۔ ضروری نہیں کہ ان کی ساری تعبیرات کو قبول کیا جائے لیکن ان کا یہ ذوق و جذبہ آج بھی ہم سب کے لیے لائق تقلید ہے کہ قرآن و سنت کے علوم صرف کتب اور درسگاہ کے لیے نہیں ہیں بلکہ ان کا اصل مقام سماج اور معاشرہ ہے۔ قرآن و سنت کی تعلیمات کے ساتھ ساتھ اپنے دور کے سماج اور سوسائٹی سے آگاہی بھی ضروری ہے اور ایک مفکر و مجتہد کا اصل کام یہ ہے کہ وہ قرآن و سنت کی تعلیمات اور سماج کی ضروریات کے درمیان تطبیق و مفاہمت کی راہیں تلاش کرے اور انسانی سوسائٹی کے مسائل و مشکلات کا قرآن و سنت کی روشنی میں حل پیش کرے۔ میں نے مولانا سندھی کی جدوجہد، خدمات اور حیات کے چند پہلوئوں کی طرف اشارہ کیا ہے جن پر کام کرنے کی ضرورت ہے اور ہمارے فاضل محققین کو اس طرف توجہ دینی چاہیے۔ لیکن آج میں ایک اور پہلو کے حوالہ سے بات کرنا چاہوں گا کہ حضرت شاہ ولی اللہ نے اپنی تصنیف حجة اللہ البالغہ میں قرآن کریم کے اعجاز کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ آنے والے دور میں جو نظاموں اور معاشرتی قوانین کے تقابل کا دور ہوگا، اس پہلو کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے کہ قرآن و سنت کا پیش کردہ نظام اور اس کے معاشرتی احکام و قوانین دنیا کے تمام نظاموں سے بہتر ہیں اور انسانی سوسائٹی کے مسائل و مشکلات کو زیادہ بہتر طور پر حل کرتے ہیں۔ مولانا سندھی کو اس بات کا زندگی بھر قلق رہا کہ ہم مسلمانوں کے پاس اسلام کے عادلانہ سماجی نظام کا کوئی عملی نمونہ عصر حاضر میں موجود نہیں ہے اس لیے سرمایہ دارانہ و جاگیردارانہ نظاموں سے نجات حاصل کرنے کے لیے دنیا کو کمیونزم اور سوشلزم کی طرف رجوع کرنا پڑ رہا ہے۔ اور وہ اس نمونہ کے قیام کے لیے ساری زندگی محنت کرتے رہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved