گفتار کے غازی
  23  ‬‮نومبر‬‮  2016     |     کالمز   |  مزید کالمز
پاکستان کے ''مرد دانا'' کا بیان پڑھا تو اقبال یاد آئے۔ اقبال بڑا پدیشک ہے من باتوں میں موہ لیتا ہے گفتار کا یہ غازی تو بناکردار کا غازی نہ بن سکا جناب زرداری کی جانب سے فرمایا گیا ہے کہ ''جمہوریت کا ارتقاء سپریم کورٹ نہیں پارلیمنٹ میں ہوگا۔'' سو فیصد درست بات ہے کہ دنیا میں جمہوریت کی مضبوطی اور اسے ترقی کی منازل تک لے جانے میں ہمیشہ اہل سیاست کا کردار راہ ہے لیکن پاکستان کے سیاستدان؟ کہ جن کے رگ و پے میں اپنے مفادات گردش کررہے ہیں کیسے اس طرح کا دعویٰ کرسکتے ہیں۔ وہ پارلیمان اور ہوتی ہیں جو جمہوریت کے ارتقاء کا بیڑہ اٹھاتی ہیں یہاں تو بیڑہ غرق ہوچکا ہے۔ زرداری جس پارلیمان کی بات کرتے ہیں اس نے سیاسی جماعتوں کے حوالے سے پارٹی الیکشن کے انعقاد کی شق یعنی آئین پاکستان کا آرٹیکل17(4) اٹھارویں ترمیم میں اڑا دیا تھا۔ اب ہمیں یہ سمجھانے کی کوشش کوئی نہ کرے کہ پارٹی انتخابات کی آئینی بندش ختم کرکے جمہوریت کی کس طرح خدمت کی گئی ہے؟ جہاں پارلیمان جمہوریت کے ارتقا میں ممدو معاون ثابت ہوتی ہیں وہاں سیاسی جماعتیں قبضہ گروپوں کے ہاتھ یرغمال نہیں ہوتیں بلکہ ہر چار یا پانچ سال ان کی قیادت بولتی رہتی ہے۔ حال ہی میں امریکہ کے صدارتی انتخابات ہوئے ہیں ' دو جماعتوں ری پبلکن اور ڈیمو کریٹس کے درمیان مقابلہ تھا' کیا کوئی ان دونوں جماعتوں کے سربراہان کے نام بتاسکتا ہے؟ یہ ہیں زندہ قومیں اور زندہ معاشرے جہاں ادارے اور جماعتیں اہمیت رکھتی ہیں ' شخصیات آتی اور جاتی رہتی ہیں ۔ پاکستان سے ہجرت کرکے برطانیہ معاش کیلئے جانے والی فیملی کی برطانیہ میں پیدا ہونے والی سعیدہ وارثی کنزرویٹو پارٹی کی سربراہ برطانیہ جیسی سوسائٹی ہی میں بن سکتی ہے کہ وہاں کی ذاتی صلاحیتیں اہم ہیں اور آگے بڑھنے کے یکساں مواقع موجود ہیں۔ برطانیہ میں کئی وزیراعظم آئے اور چلے گئے ' ایک کے بعد دوسرا شخص پارٹی صدر بنتا ہے اور پھر قصہ پارینہ ہو جاتا ہے۔ ہم تو چہرے دیکھ دیکھ کر تھک چکے ہیں نہ چہرے بدلتے ہیں اور نہ نظام تبدیل ہوتاہے۔ جو سیاست گندے پانی کا جوہڑ بن جائے وہاں پارلیمنٹ جمہوریت کے ارتقا میں کیا کردار ادا کرسکے گی۔ جمہوریت کے ارتقا کیلئے ضروری ہے کہ سیاسی جماعتوں میں ارتقائی عمل جاری ہو لیکن وہاں تو مخصوص شخصیات اور خاندانوں نے قبضہ کررکھا ہے۔ زرداری اگر اتنے ہی مخلص بنتے ہیں تو پہل کریں اور پیپلز پارٹی کی چیئرمین شپ پارٹی کے کسی سینئر رکن کو سونپنے کا اعلا ن کریں' دیکھیں پیپلز پارٹی کو کیسے چار چاندن لگتے ہیں اور جمہوریت کس طرح پھلتی پھولتی ہے۔ یہی کام میاں نوازشریف کریں' نہ صرف یہ کہ وہ پارٹی قیادت بدلیں بلکہ آئندہ وزیراعظم نہ بننے کا اعلان کریں۔ یہ کہاں لکھا ہے کہ میاں صاحب نے سدا مسلم لیگ نون کا سربراہ رہنا ہے اور جب تک کہ وہ زندہ ہیں ان کے علاوہ مسلم لیگ (ن) کا وزارت عظمیٰ کا امیدوار اور کوئی نہ ہوگا۔ یہاں ان پیشہ ور اہل سیاست کی دلیل یہ ہوگی کہ چونکہ زرداری فیملی (جس نے بھٹو ہونے کا ٹیگ اپنے اوپر چسپاں کر رکھا ہے) اور نواز فیملی مقبول ہیں لہٰذا پارٹی قیادت کیلئے وہی موزوں ہیں اور انکے ہوتے ہوئے کوئی دوسرا رکن قیادت کا منصب حاصل کرنے کا خواہشمند ہی نہ ہوگا۔ یہ ایک بودی دلیل ہے۔ ہم نے تاریخ میں دیکھا ہے کہ مقبولیت کی معراج کو چھونے والوں نے بھی عہدے چھوڑے ہیں اور جمہوریت کی مضبوطی اور ارتقاء کیلئے دوسروں کو موقع دیا ہے۔ امریکہ کے جارج واشنگٹن کیا کم مقبول تھے؟ انہوں نے امریکہ کی جنگ آزادی کی قیادت کی تھی' وہ چاہتے تو تادم مرگ امریکہ کے صدر رہتے ' ان پر امریکی آئین و قانون کی کوئی ایسی بندش بھی نہ تھی کہ وہ تیسری مرتبہ امریکی صدر نہ بن سکتے تھے لیکن انہوں نے دوبارہ صدر بننے کے بعد صدارت کو خیرباد کہا اور یہ منصب دوسروں کیلئے خالی کر دیا۔ کیا ہمارے رہنمائوں کو نیلسن منڈیلا سے زیادہ مقبولیت کا دعویٰ ہے۔ نیلسن منڈیلا نے اپنی زندگی کے قیمتی 27 سال جیل میں گزارے لیکن جب نسلی امتیاز کے خلاف ان کی جدوجہد کامیابی سے ہمکنار ہوئی اور وہ جنوبی افریقہ کے پہلے منتخب صدر بنے تو انہوں نے پہلی چار سالہ صدارتی مدت ختم ہوتے ہی منصب صدارت چھوڑ دیا۔ نیلسن5دسمبر2013 ء تک زندہ رہے جبکہ وہ14 جون1999 ء کو صدارتی منصب کو خیر باد کہہ چکے تھے۔ یہ ہوتے ہیں قوموں کے اصل رہنما جو جمہوریت کی روح کو سمجھتے ہیں اور اس کی مضبوطی و ارتقاء کیلئے اپنی ذات کی قربانی دینے کیلئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ جمہوریت بہتے ہوئے صاف شفاف پانی کا نام ہے جہاں ٹھہرا ہوا پانی گندے جوہڑ کی شکل اختیار کر جائے وہ معاف کیجئے گا جمہوریت نہیں ہوتی بادشاہت کے مماثلت کوئی نظام وجود میں آچکا ہوتاہے۔ اس ملک کی بدقسمتی اور کیا ہوگی کہ جہاں سیاست دو خاندانوں کی میراث بن کر رہ گئی ہو۔ میاں نواز شریف کے ساتھ کے تو بادشاہ بھی فوت ہوچکے ہیں ' لیبیا کے معمر قذافی گئے' مصر کے حسنی مبارک کا عہدہ تمام ہوا اور تو اور شاہ فہد کے بعد شاہ عبد اللہ بھی اگلے جہاں سدھار گئے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں پارلیمنٹ ربڑ سٹیمپ کی مانند ہو وہاں جمہوریت کا ارتقاء کیونکر ہوسکے گا؟زرداری نے بہانے بہانے سے کبھی فوجی جرنیلوں کو نشانہ بنایا ہرے اور کبھی وہ اعلیٰ عدلیہ کے معزز جج حضرات کو ان کی حدود یاد دلاتے رہتے ہیں۔ ان کی فلسفیانہ گفتگو کا نچوڑ یہ ہے کہ ان کی ''ڈومین'' میں کوئی دوسرا چھیڑ چھاڑ نہ کرے' درحقیقت یہ اجارہ دار ہیں اور اپنی اجارہ داری کا ہر قیمت پر تحفظ چاہتے ہیں۔ اپنی اصلاح انہوں نے کرنے کی کوشش نہ پہلے کی اور نہ وہ آئندہ اس قسم کا کوئی ارادہ رکھتے ہیں۔آخر زرداری ایسا کیا کرنے کا سوچ رہے ہیں جو پاکستان میں جمہوریت کی مضبوطی و ارتقاء کا باعث بنے اور کل کا مورخ ان کی باتوں کو سنہری حروف سے لکھے ۔ ابھی تک تو زرداری کی پہچان گفتار کے غازی کی ہے۔ نہ دل بدلا نہ دل کی آرزو بدل نہ وہ بدلے میں کیسے اعتبار انقلاب آسمان کرلوں

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved