مارِ آستین
  26  ‬‮نومبر‬‮  2016     |     کالمز   |  مزید کالمز
پاکستان کا وجود بعض عناصر کے سینے میں خنجر کی طر ح پیوست ہے۔ بھارت کا خبثِ باطن روزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔ وطن عزِیزکو غیر مستحکم کرنے کیلئے مشرقی اور مغربی سرحدات پہ کی جانے والی جارحیت کیساتھ ساتھ اندرونی محاذ پہ دہشت گردی کے وسیع نیٹ ورکس سرگرمِ عمل ہیں۔ کل بھوشن یادو کی گرفتاری سے اجیت دول کی انٹرنیٹ پہ موجود زہریلی تقریر کا عملی ثبوت بھی سامنے آگیا۔کراچی ، بلوچستان اور افغانستان سے متصل سرحدی علاقے بھارت کے اہم اہداف ہیں۔ فرقہ وارانہ اور لسّانی تعصّبات کی آگ بھڑکاکے دُشمن ہمارے آشیانے کو خاکستر کرنا چاہتاہے۔شدّت پسندی کی آگ پہ مذہب کی غلط تشریحات کا تیل چھڑک کے ناپُختہ اذھان کو دہشت گردی کی تاریک کھائی میں دھکیلا جارہا ہے۔اس پیچیدہ جنگ کے کئی پہلو ہیں۔ عسکری محاذ پہ قومی ادارے دُشمن کے ناپاک ارادوں کو ناکام بنانے کیلئے شب وروز سرگرمِ عمل ہیں۔البتہ غیرعسکری محاذ پہ صورتِ حال اطمینان بخش نہیں۔ غیر عسکری محاذکی اصطلاح سُن کے آپ حیران نہ ہوں۔یہ وہ فکری اور نظریاتی محاذ ہے جس پہ ہمارے دشمن مُسلسل سرگرمِ عمل ہیں۔وطن عزِیز کے وجود کو پارہ پارہ کرنے کے لئے جدید دور کے تمام وسائل استعمال کرکے زہریلا پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے۔ اخبارات ۔ ٹی وی چینلز جرائد ور سائل کیساتھ ساتھ سوشل میڈیا پہ انتہائی وسیع پیمانے پہ منظّم مہم جاری ہے۔ یہ وطن دشمن عناصر ملک کی نظریاتی اساس کو ہدف بنارہے ہیں۔ علیحدگی پسند دہشت گرد تنظیموں کے مُجرم عناصر کو ہیرو بناکے پیش کیا جارہاہے۔نئی نسل کے ناپختہ اذہان میں دیگر لسانی اکائیوں کے خلاف نفرت اور تعصّب کا زہر بھر ا جارہاہے۔اس غیر عسکری محاذ پہ نوجوانوں کو برین واش کرکے دہشت گردی کیلئے تیار کیا جاتا ہے۔حال ہی میں بلوچستان کی ایک انتہائی قابلِ احترام اور معزز سیاسی شخصیت نے ذاتی حیثیت میں ایسی ہی زِہریلی پروپیگنڈہ مہم کی نشاندہی کی۔بُلوچستان ٹائمز کے نام سے ایک آئن لائن میگزین انٹرنیٹ پہ دستیاب ہے۔اس میگزین میں علیحدگی پسند اور دہشت گرد عناصر کو بُلوچستان کی نام نہاد آزادی کے ہیرو بناکے پیش کیا جاتاہے۔ کون نہیں جانتا کہ بُلوچستان میں بے گُناہ انسانوں کے خون سے ہولی کھیلنے کے منصوبے بھارت کی سرزمین پہ تیار ہوتے ہیں۔ان دہشت گردوں کانان ونفقہ مُودی سرکار کے ذمّہ ہے۔ان کا مقصد اقتصادی راہداری منصوبے کو ناکام بناکے بلوچستان کی ترقی کے امکانات کو برباد کرنا ہے۔بیروزگاری ، پسماندگی ، جہالت اور نفرت کے بطن سے شدّت پسندی جنم لیتی ہے۔پاکستان کی بربادی کیلئے غیر عسکری محاذ پہ چلائی جانے والی مہم کا اولین مقصد یہی ہے کہ نئی نسل کے ذہنوں میں نفرت اور تعصّب کا زِہر بھر کے اندرونی محاذپہ قتل وغارت گرمی کا بازار گرم رکھا جائے ۔مشرقی پاکستان میں بھی ہمارے خلاف یہی ہتھیار استعمال ہواتھا ۔ مقام افسوس ہے کہ ذمّہ دار ادارے اس محاذپہ غفلت کا شکار کیوں ہیں ۔بلوچستان ٹائمز ایسا واحد آن لائن میگزین نہیں ہے۔انٹر نیٹ اور سوشل میڈیا زہریلے وطن دشمن مواد سے بھر ا ہواہے۔ اس محاذ پہ نہایت سوچ وبچار کے ساتھ بھرپور کاروائی کی ضرورت ہے ۔ ارباب ِ اختیار کو اگر کرپشن کے الزامات پہ اپنے ذاتی دفاع سے فرصت ملے تو کچھ دیر وطن عزیز کی سلامتی پہ بھی غور فرمانے کی زحمت اُٹھالیں۔ یہ امر توجہ طلب اور تشویشناک ہے کہ ایسے منفی وطن دشمن منصوبوں میں بہت سی عالمی طاقتیں بھارت کی پشت پہ ہیں۔بلوچستان ٹائمز میں ایک نوجوان بلوچ خاتون کی تشہیر کی گئی ہے۔بی بی سی نے جن 100 نامور خواتین کو اپنی ویب سائٹ کے لئے منتخب کیا اُن میں کریمہ بلوچ نامی خاتون بھی شامل ہیں۔ان موصوفہ کی واحد خصوصیت پاکستان دشمنی اور بلوچستان کی پاکستان سے علیحدگی کے بھارت نواز ایجنڈے کی حمایت ہے۔آخر کیا وجہ ہے کہ پاکستان کے وجود کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو برطانیہ جائے پناہ اور دستِ تعاون فراہم کرتا ہے۔الطاف حسین کی لندن مارکہ ایم کیوایم ہو، جعلی لبرل دانشوروں کا اجتماع ہو، حزب التحریر کے نظریات کا پرچار ہو یا علیحدگی پسند دہشت گردوں کی نظریاتی سرپرست۔ بالا آخر اُن کا کُھرا برطانیہ میں جانکلتا ہے۔ بات چل نکلی ہے تو کیوں نہ اِس حقیقت کا بھی اظہار کرلیا جائے کہ آج مسلم اُمہّ کو درپیش اہم ترین مسائل کا کُھرا بھی برطانیہ تک جانکلتا ہے۔اشارہ کشمیر ، فلسطین اور ڈیورنڈ لائن کے تنازعات کی جانب ہے۔وزیر داخلہ برطانیہ کی یاترا پہ ہیں ۔ کاش کہ اِس موضوع پہ کچھ ٹھوس پیش رفت ہو۔پی ٹی اے کے زریعے قابلِ اعتراض وطن دشمن مواد کو بلاک کیا جانا چاہئے ۔ اربابِ اختیار ہوش کے ناخن لیں۔ مارِ آستین وطن عزیز کے وجود کو نفرت وتعصّب کے زِہر سے گھائل کررہے ہیں۔ ان آستین کے سانپوں کا سرکچلاجانا چاہیے۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved