سول ملٹری ریلشن شپ
  1  دسمبر‬‮  2016     |     کالمز   |  مزید کالمز

قارئین اگر اپنے حافظے پر زور دیں تو انہیں آصف علی زرداری کے کہے ہوئے وہ ذومعنی جملے یا د آ جائیں گے جو اپنی خود ساختہ جلا وطنی سے قبل وہ اسٹیبلشمنٹ کو سنا کر گئے تھے۔ آصف علی زرداری نے کہا تھا کہ آپ تین سال کے لیے آتے ہیں اور آپ نے چلے جانا ہے جب کہ ہم نے ہمیشہ یہاں رہنا ہے۔ ہمیشہ رہنے سے مراد یہ تھی فوجی جرنیل تو تین سال کے لیے آتے ہیں مگر سیاستدان ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو آصف زرداری کی بات سو فیصد درست ثابت ہوئی ہے۔ جنرل راحیل شریف اپنا تین سالہ وقت گزار کر رخصت ہو رہے ہیں اور سیاست کے پردے پر آصف زرداری اور نواز شریف ابھی تک جلوہ افروز ہیں۔ زرداری کے فرزند ارجمند تو نئی توانائیوں کے ساتھ انٹری ڈال رہے ہیں اور میاں نواز شریف بھی آرمی چیف کی رخصتی کی خبر آنے کے بعد ہلکا پھلکا محسوس کر رہے ہیں اور ہشاش بشاش دکھائی دیتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ سیاست اور اہل سیاست میں دوسروں کی نسبت تادیر اپنے وجود کو قائم رکھنا بہترین انتقام ہوتا ہے۔ ہمارے یہاں یہ مقابلہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور اہلِ سیاست کے درمیان ہے۔ چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی کا گزشتہ کا بیان اس بات کا اعتراف کر رہا ہے۔ انہوں نے سول ملٹری ریلیشن شپ کو پاکستان کا سب سے بڑا چیلنج قرار دیا ہے۔ امر واقع یہ ہے کہ پاکستان میں جمہوریت انتہائی نازک قسم کی شے ہے اور اس کے وجود کا انحصار کلی طور پر اس بات پر ہے کہ جنرل راحیل شریف جیسا آرمی چیف تمام تر حکومتی کوتاہیوں سے صرفِ نظر کرتا رہے اور وقت آنے پر رخصت ہو جائے۔ کون نہیں جانتا کہ نواز شریف اور فوج کے مابین گزشتہ تین سالوں میں تعلقات خوشگوار نہیں رہے۔ تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے دھرنے کے دوران جب فائرنگ ' آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کے واقعات ہوئے تو کور کمانڈر کانفرنس میں چار پانچ فوجی جرنیلوں کے حوالے سے خبر آئی کہ انہوں نے مارشل لا لگانے کی تجویز دی ہے۔ 2015 اور 2016 کے سالوں میں بھی تنا ئو موجود رہا اور اب جب کہ جنرل راحیل رخصت ہو چکے ہیں فوجی قیادت شکوہ کناں ہے کہ فوج کو نیچا دکھانے کے لیے من گھڑت خبر سول حکومت کی جانب سے میڈیا کو فیڈ کی گئی ہے۔ اس خبر کا مواد کس قدر زہریلا اور خطرناک ہے اس کا اعتراف خود حکومتی وزیر داخلہ میڈیا کے سامنے کر چکے ہیں۔ اپنی فوج کو دبائو میں رکھنے کے لیے وہ ''بیانیہ'' میڈیا میں اچھالنے سے گریز نہ کیا گیا جو ہمارے دشمن کا ہے۔ اہلِ سیاست کے اکابرین چاہتے ہیں کہ وہ جو کچھ بھی کریں ان کے کام میں نہ فوج مداخلت کرے اور نہ ہی کوئی دوسرا ادارہ۔ سیاست دنیا میں اتنی بے لگام کم ہی ہوتی ہے لیکن بعض ممالک میں ہم اس بیمحایا آزادی کا مظاہرہ بھی دیکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر برطانیہ ہے' وہاں سیاست اتنی آزاد ہے کہ پارلیمنٹ کے فیصلوں کو امریکہ اور پاکستان کی طرح سپریم کورٹ یا کسی اعلی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ عدالتی نظر ثانی کی برطانوی آئین میں قطعا کوئی گنجائش نہیں ہے اور نہ ہی وہاں فوج کی یہ جرات ہے کہ وہ پارلیمان کی اتھارٹی کو چیلنج کر سکے اور اپنی مرضی مسلط کر ے۔ ان ممالک میں اہل سیاست کی دیگر اداروں پر برتری یوں ہی نہیں ہے بلکہ وہ اپنے اعلی کردار اور ذمہ دارانہ رویوں کی بدولت دیگراداروں کو کسی طرح کا موقع ہی نہیں دیتے۔ مثال کے طور پر جب گورڈن برائون وزیراعظم تھے اور ڈیوڈ کیمرون اپوزیشن رہنما کی حیثیت سے برطانوی پارلیمان میں موجود تھے۔ ممبران پارلیمنٹ کے اخراجات باغبانی اور صفائی کی مد میں ہونے والے اخراجات پر تنازعہ کھڑا ہوا تو دونوں رہنمائوں نے پہل کرتے ہوئے اپنے ذمے واجب الادا رقم فوری ادا کردی اور دوسروں کو ایسا کرنے کی ترغیب دی۔ پارلیمنٹ کے اراکین کا اعتراض تھا کہ آڈٹ والا ایک سول سرونٹ یہ اختیار کیسے رکھتا ہے کہ وہ اراکین پارلیمنٹ کے اخراجات کی حد طے کرے۔ اصولی طور پر یہ سوال بنتا تھا لیکن برطانوی رہنمائوں نے اصول اور قانون میں الجھنے کی بجائے اپنی ساکھ کو اہمیت دی۔ دوسری مثال ڈیوڈ کیمرون نے اس وقت پیش کی جب وہ وزیراعظم تھے اور برطانوی عوام نے یورپی یونین سے علیحدگی کے حق میں ووٹ دے دیا۔ ڈیوڈ کیمرون چونکہ علیحدگی کے خلاف تھے لہٰذا انہوں نے برطانوی عوام کے ووٹ کو اپنے خلاف عدم اعتماد سمجھا اور وزارت عظمی سے علیحدہ ہو گئے۔ ان کی پارٹی نے ان کی جگہ ایک دوسری رکن پارلیمنٹ کو وزیر اعظم کے منصب پر بٹھا دیا۔ جس پانامہ لیکس میں ہمارے وزیر اعظم پھنسے ہیں اس کی زد میں ڈیوڈ کیمرون بھی آئے لیکن ان کا عمل ہمارے محترم وزیر اعظم سے یکسر مختلف تھا۔ انہوں نے پارلیمنٹ میں اپنے اثاثوں اور ٹیکس کی مکمل تفصیلات پیش کر دیں تاکہ واضح ہو سکے کہ انہوں نے اپنے والد کی آف شور کمپنی سے غیر قانونی کوئی فائدہ نہیں اٹھایا تھا۔ یہ وہ مثالیں ہیں جو مہذب ممالک کے اہل سیاست کو ممتاز کرتی ہیں اور وہ فوج و دیگر اداروں پر اپنی برتری برقرار رکھتے ہیں۔ اب ان مثالوں کی روشنی میں اپنے اہل سیاست کا کردار بھی ملاحظہ کر لیجئے اور فیصلہ کیجئے کہ سول ملٹری ریلیشن شپ میں جو تنا ہے وہ کس کی غلطی کی وجہ سے ہے اور کون ہے جو اپنے غیر ذمہ دارانہ کردار اور رویوں کے سبب فوج اور دیگر اداروں کو مداخلت کا موقع دیتا ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved