اصل آئینہ
  2  دسمبر‬‮  2016     |     کالمز   |  مزید کالمز

بلاول بھٹو کے بیان سے شروع کروں تو الزام یہ ہے کہ گزشتہ تین سالوں میں میاں نواز شریف نے پاکستان کو 8کھرب روپے کا مقروض کر دیا ہے۔ نواز شریف عہد میں لے گئے قرضے کو ڈالروں میں منتقل کیا جائے تو یہ رقم تقریباً55ارب ڈالرز بنتی ہے۔ بلاول ہی کے مطابق میاں نواز شریف کے دور میں لے گئے یہ قرضے پاکستان میں آج تک کل لئے گئے قرضوں کا 1/3حصہ ہیں۔ یہ اعدادوشمار بیان کرتے وقت بلاول بھٹو زرداری اپنے والد محترم کے عہد گزشتہ میں لئے گئے قرضوں کی رقم کا ذکر کرنا بھول گئے ہیں۔ اسٹیٹ بنک کی ایک رپورٹ کے مطابق 2008ء تک پاکستان کے قرضوں کی مالیت 6691ارب روپے تھی جبکہ زرداری کے پہلے چار سالوں میں قرضوں کی مالیت بڑھ کر 14561ارب روپے ہوگئی تھی‘ یعنی 60سالوں میں لئے گئے قرضے ایک طرف اور پیپلزپارٹی کے دور 2008-2013 میں حاصل کئے گئے قرضے دوسری طرف تھے۔ دوسرے لفظوں میں 2008ء تک ایک پاکستانی مبلغ 37,170روپے کا مقروض تھا جبکہ جمہوری دور کی برکت کے باعث زرداری عہد کے پہلے چار سالوں میں ایک پاکستانی کا قرض بڑھ کر مبلغ80,894 روپے ہوگیا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ یہ سلسلہ رکا نہیں۔ میاں نواز شریف جو پہلے ادوار میں قرض اتارو ملک سنوارو کا فلسفہ قوم کے سامنے پیش کرتے رہے ہیں ،نے اقتدار میں آکر زرداری صاحب کی روایت کو آگے بڑھایا ہے ۔ میں جب کہتا ہوں کہ نواز شریف کی وزارت عظمیٰ کو زرداری نے گھٹی دی ہے تو اس کا ایک ثبوت ’’قرض لو اور کام چلاؤ‘‘ کی زرداری روایت کے تسلسل کی صورت میں واضح ہے۔ نواز شریف حکومت نے اپنے تین سالہ دور میں جتنا قرضہ لیا ہے اس کی مالیت زرداری عہد میں لئے گئے قرضے سے زیادہ ہے۔ یہ ہے وہ جمہوریت کا سنہری دور جس سے ہمیں گزشتہ آٹھ سالوں سے واسطہ ہے۔ امر واقع یہ ہے کہ ان آٹھ سالوں میں قوم پہلے کی نسبت زیادہ بدحال ہوگئی ہے یقین نہ آئے تو حال ہی میں شائع ہونے والے برطانوی ادارے ’’لیگائم انسٹی ٹیوٹ‘‘ کی رپورٹ پڑھ لیجئے۔ خوشحالی کا اعتبار سے پاکستان آج دنیا کے 149ممالک میں 139ویں پوزیشن پر ہے۔ ہمیں آئے دن معاشی ترقی کی کہانیاں سنانے والے ان رپورٹس پر بھی ایک نگاہ ڈا لیں جو پاکستان کو کرپشن‘ بیڈ گورننس‘ عدم تحفظ اور بدحالی کے لحاظ سے دنیا بھر میں بدترین ملک کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ لیگائم انسٹی ٹیوٹ نے خوشحالی کو واضح کرنے کے لئے جو آٹھ اعشاریے ترتیب دئیے ہیں ان میں معاشی مساوات‘ گڈگورننس ‘ صحت‘ تعلیم‘ سماجی ترقی‘ فطری ماحول اور سیفٹی و سیکورٹی شامل ہیں۔ ان اعشاریوں میں پاکستان کی جو مجموعی پرفارمنس ہے وہ 139ویں نمبر کی ہے۔ یہ رپورٹ گزشتہ دس سال کے حاصل کردہ اعدادوشمار کی روشنی میں مرتب کی گئی ہے ۔ ان دس سالوں میں 2008ء اور 2009ء کی مالیاتی کساد بازاری کے باوجود مجموعی طور پر دنیا کی خوشحالی تین فیصد بڑھی ہے۔ یعنی آپ پاکستان کی خراب صورتحال کی ذمہ داری عالمی کساد بازاری پر ڈال کر بری الذمہ نہیں ہوسکتے‘ دوسری بات یہ ہے کہ خوشحالی دنیا کی نظر میں محض معاشی خوشحالی نہیں ہے بلکہ ’’خوشحال‘‘ ہونے کا مطلب ہے کہ آپ اپنے شہریوں کو کتنی شخصی آزادی دے رہے ہیں‘ معاشی مساوات کے تحت کیا تمام شہریوں کو روزگار کاروبار کرنے اور آگے بڑھنے کے یکساں مواقع دستیاب ہیں اور یہ کہ تعلیم و صحت کی سہولتیں ہر خاص وعام کیلئے کیا ایک جیسی ہیں‘ سیکورٹی اور سیفٹی کی تو خیر بات ہی چھوڑ دیں کہ پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جو رہنے کیلئے خطرناک ترین قرار دئیے جاچکے ہیں۔ ہمارے بچے تعلیم کی سہولیات سے محروم ہیں اور ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کا 40فیصد بچے خوراک کی کمی کا شکار ہیں۔ میں جب نواز شریف کے موجودہ عہد کا ان کے ماضی کے ادوار سے تقابل جائزہ لیتا ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ ماضي کا نواز شریف ایک پرعزم رہنما تھا جس کے پیش نظر قومی چینلجز تھے اور ان سے نبردآزما ہونے کا جذبہ تھا جبکہ آج کا نواز شریف ’’ڈنگ ٹپاؤ‘‘ پالیسی پر عملدرآمد کرتا دکھائی دیتا ہے۔ ایک نواز شریف وہ تھا جو کشکول توڑنے کی بات کرتا تھا اور جس نے قرض اتارو ملک سنوار جیسا مشکل کام کرنے کی سعی کی‘ ایک نواز شریف یہ ہے جس کو اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ ملک قرضوں کی دلدل میں کس بری طرح دھنستا چلا جارہا ہے۔ کوئی مانے نہ مانے نواز شریف نے اس مرتبہ پیپلزپارٹی سٹائل میں حکومت کی ہے۔ پیپلزپارٹی اقتدار میں آنے کے بعد جس طرح قومی اداروں پر ملازمین کا اضافی بوجھ لادھ دیتی ہے اور اس بات کا ذرہ بھر خیال نہیں کرتی کہ ملکی ادارے تباہ ہو جائیں گے بالکل ویسے ہی اس بار نواز شریف نے بیڈ گورننس کا ریکارڈ قائم کیا ہے ۔ ہر ادارے میں اپنے منظور نظر افراد کو اہم تعیناتیاں دی گئی ہیں چنانچہ ملکی ادارے زبوں حالی کا شکار ہیں۔ دعویٰ تھا کہ پی آئی اے اور سٹیل مل جیسے بڑے قومی اداروں کو ٹھیک کیا جائے گا مگر آج مسلم لیگ کے تین سالوں میں پی آئی اے کا خسارہ 103ارب روپے ہے۔ میاں نواز شریف کے آنے کے بعد قوی امید تھی کہ پاکستان سٹیل کی حالت بہتر ہو جائے گی چونکہ سٹیل کے بزنس کا وسیع تجربہ رکھنے والی فیملی کے ہوتے ہوئے پاکستان کی سٹیل مل کے نقصان میں رہنے کے چانسز نہ ہونے کے برابر تھے لیکن ہم نے دیکھا ہے کہ یہ لوگ پاکستان میں اتفاق فاؤنڈری جیسی سٹیل مل لگائیں یا دبئی اور جدہ میں سٹیل مل لگالیں‘ ان کی سٹیل مل ہمیشہ کامیاب رہتی ہے مگر پاکستان کی سٹیل مل ان سے ٹھیک نہیں ہوسکتی۔ آج پرائیوٹائزیشن کے وزیر صاحب قوم کو مژدہ سنا رہے ہیں کہ آئندہ چار سے چھ ماہ میں پاکستان سٹیل مل کی نجکاری کا عمل مکمل ہو جائے گا۔ ہر چیز یہ حکومت بیچ رہی ہے ‘ ائیر پورٹ اور موٹروے گروی رکھے جارہے ہیں اور بے تحاشا قرضے لئے جارہے ہیں ۔ سمجھ نہیں آتا کہ اس قسم کی حکمرانی کو کیا نام دوں‘ بیڈ گورننس کی مثال اور کیا ہوتی ہے کہ حکومتی عہدوں کی بندربانٹ ہو اور حکومتی عہدیداران کے اللے تللے جاری ہوں اور کسی کو اس بات سے غرض نہ ہو کہ ملک کس طرف جارہا ہے اور آئندہ آنے والے کل میں ہمار اکیا بنے گا۔ قوم کیا ہوتی ہے اور قومی مفاد کا تقاضا کیا ہوتا ہے اس کو سمجھنا درکار ہو تو دنیا کی ان مہذب اقوام کی معاشرت اور طرز حکمرانی کا مطالعہ کیجئے جن کی مثالیں جمہوریت کے تناظر میں ہم روز و شب دیتے ہیں لیکن خود ہمارا عمل کیا ہے اس کو دیکھنے کے لئے اپنے گریبانوں میں جھانکنے کیلئے ہم تیار نہیں ہیں۔ ایک طرف وہ دعوے ہیں جو جمہور حکمرانوں سے ہم سنتے رہتے ہیں دوسری طرف اصل آئینہ ہے جس میں ان کے حقائق دھندلا رہے ہیں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved