دسمبر آ گیا
  2  دسمبر‬‮  2016     |     کالمز   |  مزید کالمز
دسمبر کا مہینہ جب بھی آتا ہے ، اپنے ساتھ چند ایسی یادیں بھی لاتا ہے جن سے درد و الم کا ایک گہرا احساس تڑپا کر رکھ دیتا ہے۔ یہ پت جھڑ کا موسم ہے۔ ہریالی کی جگہ زردی نے لے لی ہے۔ پتوں میں جیسے آگ لگی ہے۔ کشمیر میں چنار جیسے جل رہے ہیں۔ دسمبر میں کئی بڑے واقعات رونما ہوئے جن میں سے سقوط ڈھاکہ اور بابری مسجد کی شہادت ہمارے لئے ہی نہیں بلکہ عالم اسلام کے لئے بھی انتہائی تکلیف دہ ثابت ہوئے۔ بھارت نے ان دونوں سے سیاست چمکانے اور پاکستان و مسلمانوں ہرزہ سرائی کے لئے استعمال کیا۔ آج بھی بھارت میں بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کے نام پر سیاست جاری ہے۔ اترپردیش یا یو پی اور پنجاب میں اسمبلی انتخابات کے موقع پر ایک بار پھر بابری مسجد کی جگہ رام مندر تعمیر کرنے کا انتخابی فریب دیا جا رہا ہے۔ہندو عوام کو بے وقوف بنانے کا یہ عمل برسوں سے جاری ہے۔ بی جے پی اور ہندو شدت پسند نریندر مودی کی ہدایت پر نام نہاد سیکولر انڈیا کا جنازہ نکال رہے ہیں۔سپریم کورٹ آف انڈیا کے فیصلے کے باوجودمسلم دور کے مغل بادشاہ بابر کی تعمیر کردہ یہ مسجد 6دسمبر 1992 کو شہید کر دی گئی۔مگر توہین عدالت کا کوئی کیس نہ چلا۔ عدالت نے فیصلہ سنایا تھا کہ’’ سٹیٹس کو‘‘قائم رکھا جائے۔ مگر مسجد شہید کر کے اس کی جگہ مندر تعمیر ہونے لگا۔ ننگی مورتیاں رکھ کر ان کی پوجا ہونے لگی۔کانگریسی وزیراعظم نرسمہا راؤ نے اعلان کیا کہ وہ مسجد کی جگہ تعمیر ہونے والے مندر کو گرادیں گے۔ لیکن یہ وعدا پورا نہ کیا گیا۔مسجد کی شہادت کو 24 سال ہو گئے۔آزاد ہندوستان کا ایک بڑا سانحہ، مسلمانوں کے خلاف سوچی سمجھی سازش،جس کا ایک مقصد مسلمانوں کو جبری طور پر وطن چھوڑنے پر مجبور کرنا تھا۔ 21سال بعد بھی تاریخی مسجد کو شہید کرنے والوں کو سزا نہیں ملی۔ایل کے ایڈوانی جیل جانے کے بجائے بھارت کے نائب وزیر اعظم بن گئے۔ مرلی منوہر جوشی کو مرکزی وزیر بنایا گیا۔کلیان سنگھ کی وزارت اعلیٰ قائم رہی۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ہندوستان میں عدالتوں اور کمیشنوں کی کیا اہمیت ہے۔ انصاف کے تقاضے کیسے پورے ہوتے ہیں۔ دنیا نے دیکھاکہ کس طرح مسجد کے تین گنبد زمین بوس کر دیئے گئے۔ بھارتی حکومت نے خفت مٹانے کے لئے لبراہن کمیشن بنایا۔یہ دعویٰ کیا گیا کہ کمیشن تحقیقا ت کر ے گا۔قصور واروں کوانصاف کے کٹہرے میں لائے گا۔ کمیشن نے اپنی رپورٹ میں سابق وزیر اعظم اے بی واجپائی، ایل کے ایڈوانی ، کلیان سنگھ، مرلی منوہر جوشی سمیت 68افراد کو ملزم نامزد کیا ۔ابھی تک معاملہ لٹکا ہوا ہے۔ کمیشن مسجد کی شہادت کے دس دن بعد تشکیل دیا گیا۔ جس کی مدت تین ماہ تھی۔ لیکن یک نفری کمیشن کو 50بار توسیع دی گئی۔ 17سال بعد2009کو اس نے رپورٹ وزیر اعظم منموہن سنگھ کو دے دی۔ خفیہ ایجنسی آئی بی کے اس وقت کے جوائنٹ ڈائریکٹر ملوئے کرشنا دھر نے اپنی کتاب Open Secretsیا ’’کھلے راز‘‘ میں لکھا ہے کہ انہیں ہدایت ملی تھی کہ آر ایس ایس ، بی جے پی اور وی ایچ پی کے ایک اجلاس کی کوریج کا بندوبست کیا جائے۔اس اجلاس کے ٹیپ اس نے خود تیار کئے۔ اجلاس میں بابری مسجد کی شہادت کا منصوبہ بنایا گیا۔ جن سنگھیوں کی یہ میٹنگ مسجد کی شہادت سے دس ماہ پہلے ہوئی تھی۔یہ کانگریس اور ہندو انتہا پسندوں کا ایک مشترکہ منصوبہ تھا۔ گزشتہ69سال میں پہلی بار بھارت میں ایک مسلمان آصف ابراہیم کو125سال سے قائم اہم خفیہ ایجنسی انٹلی جنس بیورو یا آئی بی کا چیف مقرر کیا ہے، جو ریاست مدھیہ پردیش کے انڈین پولیس سروس( آئی پی ایس) کیڈر سے تعلق رکھتے ہیں۔ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت اور بابری مسجد مومنٹ رابطہ کمیٹی کے اپیل پر ہندوستان میں مسلمان آج ایک بار پھر سرا پا احتجاج ہیں۔ اور بھارتی پارلیمنٹ کی توجہ اس جانب مبذول کر رہے ہیں جس نے ابھی تک جسٹس لبراہن رپورٹ پر بحث مناسب نہیں سمجھی۔ سپریم کورٹ نے ابھی تک حتمی فیصلہ نہیں دیا۔ بھارتی حکومت نے ابھی تک شہادت کی ذمہ داری قبول کرنے، جشن منانے اور اس کا فخر سے کریڈٹ لینے والوں کیخلاف کارروائی نہیں کی۔ایسا لگتا ہے کہ ہندوستان میں انصاف کے پہیے یا تو خراماں خراماں چل رہے ہیں یا بالکل منجمد ہو رہے ہیں۔ اقلیتوں کو خاص طور پر بھارت کے سیکولر ازم، جمہوریت اور جوڈیشل سسٹم پر سے اعتماد اٹھ چکا ہے۔ کشمیری نوجوان افضل گورو کو بھارتی عدلیہ نے یک طرفہ کارروائی کرتے ہوئے قتل کرا دیا۔یہ عدالتی قتل بھارت میں انصاف کا قتل تھا۔افضل گورو کا تختہ دار پر لٹکایا جانابھارتی انصاف کی جانبداری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ (جاری ہے )

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved