دسمبر آ گیا
  3  دسمبر‬‮  2016     |     کالمز   |  مزید کالمز
(گزشتہ سے پیوستہ) آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت اور بابری مسجد مومنٹ رابطہ کمیٹی کے اپیل پر ہندوستان میں مسلمان آج ایک بار پھر سرا پا احتجاج ہیں۔ اور بھارتی پارلیمنٹ کی توجہ اس جانب مبذول کر رہے ہیں جس نے ابھی تک جسٹس لبراہن رپورٹ پر بحث مناسب نہیں سمجھی۔ سپریم کورٹ نے ابھی تک حتمی فیصلہ نہیں دیا۔ بھارتی حکومت نے ابھی تک شہادت کی ذمہ داری قبول کرنے، جشن منانے اور اس کا فخر سے کریڈٹ لینے والوںکیخلاف کارروائی نہیں کی۔ایسا لگتا ہے کہ ہندوستان میں انصاف کے پہیے یا تو خراماں خراماں چل رہے ہیں یا بالکل منجمد ہو رہے ہیں۔ اقلیتوں کو خاص طور پر بھارت کے سیکولر ازم، جمہوریت اور جوڈیشل سسٹم پر سے اعتماد اٹھ چکا ہے۔ کشمیری نوجوان افضل گورو کو بھارتی عدلیہ نے یک طرفہ کارروائی کرتے ہوئے قتل کرا دیا۔یہ عدالتی قتل بھارت میں انصاف کا قتل تھا۔افضل گورو کا تختہ دار پر لٹکایا جانابھارتی انصاف کی جانبداری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ہندوستان کے مسلمانوں کے اس حوالے سے بعض مطالبات انتہائی توجہ طلب ہیں۔1۔ لبراہن کمیشن کی رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کر کے اس پر بحث کی جائے۔اس رپورٹ کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ عمل کرنا تو دور کی بات ہو گی۔2۔ عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کو نمٹایا جائے۔لیکن مقدمات سالہا سال تک زیر التوا رکھے جاتے ہیں۔جوڈیشری میں مسلمانوں کو جج کے طور پر شال کرنے سے انکار کر دیا جاتا ہے۔ -3 سپریم کورٹ، آلہ آباد ہائی کورٹ کے سپیشل بنچ کے احکام کو زیر غور لایا جائے۔ 4۔حکومت بابری مسجد کی شہادت کے بعد شہید کئے گئے مسلمانوں کے لواحقین، معذوروں کو معاوضے دے ۔ نذر آتش کی گئی سیکڑوں تعمیرات کے بھی معاوضے دیئے جائیں۔ 5۔ ایودھیا میں شہید مساجد اور قبرستانوں کی بائونڈری دیوار یں تعمیر کرنے کی اجازت دی جائے۔ 6۔ مساجد کے تحفظ کے لئے حکومت مذہبی مقامات کی سکیورٹی سے متعلق1991کے قانون کو نافذکرے۔ بابری مسجد کی شہادت کے بعد بھارت میں درجنوں مسجدوں کو شہید کیا گیا۔ جبکہ لا تعداد مدارس بند کر دیئے گئے۔ یہ بھارت میں ہندو انتہا پسندوں کا تعصب ہے جس کا سلسلہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دراز ہوتا جا رہا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے مزاکرات میںیہ باتیں شاید ہی کبھی زیر بحث لائی گئی ہوں۔ بھارت میں اسلامی ثقافتی ورثہ کو لا حق خطرات کبھی کم نہیں ہوئے ہیں ۔ کیوں کہ بھارتی سیاست اب مسلم اور پاکستان دشمنی سے بھری پڑی ہے۔ بی جے پی اور جن سنگھیوں کے عروج سے کانگریس اور نام نہاد سکیولر ازم کی دعویدار پارٹیاں اپنے نئے اہداف مقررکر چکی ہیں۔ اس وجہ سے بھارتی کانگریس پارٹی کے نئے ولی عہد راہول گاندھی بھارت میں مسلمانوں کے کردار کو مشکوک قرار دے رہے ہیں۔ مسلمانوں کو منظم ہونے سے روکا جا رہا ہے۔ ان کی تنظیم سازی اور اتحاد کی کوششوں کو بھارتی ادارے سبوتاژ کرتے ہیں۔ بھارتی مسلمان ہر لحاظ سے امتیاز کا نشانہ بن رہے ہیں۔ آرمڈ فورسز میں ان کی شمولیت مشکوک سمجھی جاتی ہے۔ بھارتی ٹی وی چینل سی این این، آئی بی این کے مطابق اس وقت سوا ارب سے زیادہ آبادی والے ملک کی فوج میں صورف تین فی صد مسلمان شامل ہیں۔ 19کروڑ مسلمان آبادی میں سے صرف 25ہزار مسلمانوں کو فوج میں بھرتی کیا گیا۔ اگر مقبوضہ جموں و کشمیر کے فوجی فورس جسے جیکلائی (JKLI)میں 50فی صد مسلم فوج کو شامل نہ کیا جائے تو یہ اعداد و شمار اور بھی کم ہیں۔ یہی حال بیورو کریسی کا بھی ہے۔ جس میں مسلمان برائے نام ہی شامل ہیں۔ یہ غیر اعلانیہ سنسر شپ ہے۔ جو مسلمانوں کے خلاف نافذ العمل ہے۔ا متیاز کا یہ عالم بھی ہے پارٹیوں اور محفلوں کے بورڈ آویزان کر دیئے جاتے ہیں،'' یہاں کتوں اور مسلمانوں کا داخلہ ممنوع ہے''۔ بھارت میں جو لوگ غیر جانبداری پر یقین رکھتے ہیں وہ یرغمال بنے ہوئے ہیں۔ سچ یہ ہے کہ بھارتی مسلمان ہندو جنونیوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیئے گئے ہیں۔پاکستان کراچی ایگریمنٹ کے تحت بھارتی مسلمانوں پر ریاستی جبر کے خلاف آواز بلندکرنے کا پابند ہے۔ یہ دفاع اور استحکام پاکستان کی نفی ہے کہ بھارتی مسلمانوں کو ہندو دہشت گردوں اور حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے۔اب جب کہ مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشتگردی عروج پر ہے اور پانچ ماہ مسلسل ہڑتالیں اور بھارت مخالف مظاہرے ہو رہے ہیں۔ عوام آزادی پسندوں کے شیڈول پر عمل کرتے ہیں۔ بھارت جنگ بندی لائن پر گولہ باری کر رہا ہے۔ شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر اور جنگ بندی لائن پر آزاد کشمیر کے عوام کو صرف مسلمان اور کشمیری ہونے کی سزا دی جا رہی ہے۔ مسلمان بھارت کا ہو یا کہیں کا، بھارت کے سامنے وہ دہشت گرد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کو مختلف بہانوں سے قتل کیا جا رہا ہے۔ بابری مسجد کے بعد یہ تمام مساجد کو شہید کر دینا چاہتے ہیں۔ بھارت کے مسلمان متحد نہ ہوئے تو وہ طوفان کی لپیٹ سے بچ نہ سکیں گے۔ مسلم دنیا اپنے مفادات سے دلچسپی رکھتی ہے۔ اسے مسلم کے قتل عام اور مظالم کی کوئی پروا نہیں۔ مظلوم اور محکوم مسلمان خود اپنے زور بازو سے ہی نا مساعد حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے کمر بستہ ہوں تو زیادہ مناسب ہو گا۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved