شاردہ تہذیب کو پاک بھارت گولہ باری سے نئے خطرات
  7  دسمبر‬‮  2016     |     کالمز   |  مزید کالمز
شاردہ۔۔۔۔شاردہ تہذیب۔۔۔شاردہ دیس۔۔۔شاردہ رسم الخط۔۔۔علم کی دیوی۔۔۔دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹی۔۔قدیم تہذیب و تمدن کا گہوارہ۔۔۔ 2ہزار سال سے زیادہ عرصہ کی معلوم تاریخ۔۔ ۔ کبھی علم و ادب اور ریسرچ کا مرکز۔۔۔شاردہ پل کے پاس کھڑے ہوں تو لگتا ہے جیسے کوئی گلاب کھل اٹھا ہے اوربھنورے کی طرح آپ اس کے درمیان پنکھڑی میں بیٹھے ہیں۔ آج ایک بار پھر گولہ باری کی زد میں ہے۔بھارتی فوج نے گزشتہ برسوں میں شاردہ پر بھی گولے گرائے۔ ہندو اور بدھ مت مائی ناردہ اور مائی شاردہ پہاڑیوں کو انتہائی مقدس سمجھتے تھے۔ بھارتی فوج نے مائی ناردہ کے پہاڑ گولہ باری سے زہر آلود کر دیئے۔ آج یہاں بارود کی بو آتی ہے۔جس نالہ پر ہندو کبھی ''اشنان '' کرتے تھے ، اس میں بھارتی فوج نے بارود اور زہر ملا دیا۔لوات میں مسافر گاڑی کو نشانہ بنا کر معصوموں کے خون سے ہاتھ رنگنے والے بھارتی حکمران صرف یہ جانتے ہیں کہ ان کے سامنے کشمیری اور مسلمان ہیں۔ ان کے سامنے کوئی علاقہ، برادری، مسلک نہیں۔ صرف مسلمان۔ وہ نظریات اور تہذیبوں کو تباہ کر رہے ہیں۔شاردہ تہذیب کا جنم وادی نیلم میں ہوا۔ بلکہ وادی نیلم شاردہ میں ہے۔آج یہاں کی لاکھوں آبادی ایک بار پھر اپنی شناخت کو ترس رہی ہے۔ ماضی کی رونقیں افسانہ لگتی ہیں۔تاریخ بکھر چکی ہے۔یہ ایک انتہائی خوبصورت مقام ہے۔ مقامی آبادی اسے'' چوراہا''قرار دیتی ہے۔ یہ علاقہ آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، مقبوضہ کشمیر اور ہزارہ کا سنگم ہے۔ شاردہ سرینگر سے تقریباً100کلو میٹر اور مظفرآباد سے136 کلو میٹرکی دوری پر واقع ہے۔ گزشتہ برسوں میں بھارتی گولہ باری کی زد میں یہ علاقہ بھی آیا ۔ آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد سے تقریباً 6گھنٹے کا سفر طے کرنے کے بعدشاردہ کا مقام آتاہے۔ وادی نیلم یوں تو انتہائی خوبصور ت وادی ہے۔ لیکن شاردہ ایک خوبصورت پیالے جیسا ہے۔ جس کے چاروں اطراف اونچے اور گھنے جنگلات سے گھرے پہاڑ ہیں۔ اس کے بیچوں بیچ دریائے نیلم یا کشن گنگا یا مدھو متی بہتا ہے۔ مدھومتی اس کا قدیم نام ہے۔ ہندوستان میں اس دریا کو کشن گنگا کہا جاتا ہے۔ بدھ ازم اور ہندو ازم میں گنگا کی انتہائی اہمیت ہے۔ گنگا کا دوسرا نام پاکیزہ ہے۔ ہندو پورے ہندوستان اور نیپال، سری لنکا سے یہاں آ کر اس دریا میں نہاتے تھے اور یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ اس دریا میں نہانے(گنگا اشنان) سے وہ پاک ہو جاتے ہیں۔شاردہ کو ہندو سرسوتی بھی کہتے ہیں۔ اور اسے شاردہ پیٹھ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ شاردہ میں بیساکھی میلہ بھی لگا کرتا تھا۔ جس میں دور دور سے لوگ آ کر شرکت کرتے تھے۔ یوں تو شاردہ کا علاقہ متعدد دیہات پر مشتمل ہے۔شاردا چک، شاردا گراں، کشن گھاٹی، میدان، چھپراں، ڈھوکری، بیلا، لڑی، کچھل، مالٹا، چور ناڑ، رتہ پانی، کھری گام، خواجہ سیری اس کا حصہ ہیں۔ بھارتی گولہ باری جاری رہی تو شاردہ تہذیب کے چھپے راز راز ہی رہیں گے۔ آثار قدیمہ کے ماہرین اس جانب متوجہ نہیں۔ اس علاقے کو صرف یاقوت اور قیمتی پتھروں کی نکاسی اور چوری کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ گوتم بدھ(623-547ق م)کے 50سال بعد کشمیر میں اشوکا(273-232ق م)کے دور میں بدھ ازم پھیلا۔شاردا میں کنشک(50-60ئ)نے بدھ ازم یونیورسٹی قائم کی۔11ویں صدی عیسوی کے آخر پر ہرش کے دور میں بدھ ازم کا زوال ہوا۔ اور شیو مت کو فروغ ملا۔ اس کے بعد مسلم دور کا آغاز ہوا۔ کہتے ہیں کہ شاردہ میں منوں کے قدین درخت کے نیچے سلطان زین العابدین المعروف بڈشاہ(1421-1474ئ) کی قبرہے۔ لیکن اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔شاردہ کی آبادی کا کہنا ہے کہ یہ قبر بڈشاہ کی ہی ہے۔البتہ یہ تصدیق ہوئی ہے کہ بڈشاہ نے اقتدار سنبھالنے کے فوری بعدشاردہ کا دورہ کیا تھا۔ شاردہ کو ہندو ازم میں شاردہ مائی کا نام بھی دیتے ہیں۔ کہتے ہیں یہ دو بہنیں ہیں۔ دوسری کا نام ناردہ مائی ہے۔ شاردہ کے بالمقابل پار ناردا پہاڑ ہے۔ شاردہ یونیورسٹی اور مندر کے جو کھنڈرات موجود ہیں ان میں استعمال ہونے والا خاص پتھر اسے ناردا پہاڑی سے لایا گیا ہے۔ کیوں کہ جو پتھر استعمال ہوا ہے وہ اس علاقے میں صرف ناردا پہاڑی پر ہی پایا جاتا ہے۔ یہ تعمیرات فن تعمیر کا ایک نمونہ اور شاہکار ہیں۔ مندر میں داخلے کے لئے پتھروں کے تختے نما سیلیں نصب ہیں۔ ایک زینے میں دو تختے استعمال ہوئے ہیں۔ ہزاروں سال گزرنے کے باوجود یہ سیڑھیاں سلامت اور محفوظ ہیں۔ یہ بڑے سلیقے سے تیار کی گئی ہیں۔ ان کی تنصیب بھی منفرد ہے۔ عبادتگاہ میں داخلے کے لئیصدر دروازے کا ایک حصہ موجود ہے، جو ان ہی بھاری تراشے ہوئے پتھروں سے تعمیر کیا گیا ہے۔اس کی چار دیواری بھی ہے۔ جس پر چاروں اطراف سے چھت تھی۔ جہاں رہائشی ہٹ تھے۔ ان دیواروں میں ہی پتھر کے حفاظتی کمرے بنائے گئے تھے ۔ جن کے اندر پہرہ دار ہر وقت موجود رہتے تھے۔ یہ کمرے اس وقت بھی موجود ہیں۔ ایک طرف کی دیوار مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے۔ یہ نالہ شاردہ کی طرف کا حصہ ہے۔ یہ نالہ بھی ہندوازم میں متبرک ہے۔لیکن شاردا نالے میں آنے والے سیلابوں اور تباہ کن زلزلوں نے یہاں کا جغرافیہ ہی بدل دیا۔ جو کسر بچی تھی ، وہ حکومتوں کی عدم توجہی اور جہالت کی نذر ہو گئی۔ اور اسے غافل حکام نے نکال دیا۔ یہاں کی اہمیت کسی مذہب کی عبادت گاہ کی وجہ سے نہ تھی بلکہ یہ عظیم دانش گاہ تھی۔ جس کا رقبہ کسٹوڈین محکمہ کی دستاویزات میں اب بھی موجود ہے۔ یہ یونیورسٹی کا علاقہ تقریباً70کنال اراضی پر مشتمل تھا۔ جو غالباً 1947کے مہاجرین کو الاٹ کیا گیا ہے۔ یونیورسٹی کا علاقہ دریا کے دائیں طرف واقع ہے۔ دریا پر کشتیاں چلتی تھیں۔ اس پورے علاقے میں دریائے نیلم ٹھر گیا ہے۔ کسی جگہ یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ دریا کا رخ کس جانب ہے۔ اس میںکشتی رانی آسانی سے ہو سکتی ہے۔ ٹو ارزم کے فروغ کے لئے بھی کشتی رانی کی جا سکتی ہے۔ جس کی جانب ابھی تک توجہ نہیں دی گئی۔ شاردہ نالے کے ایک طرف قلعہ ہے اور اس کی دوسری جانب یونیورسٹی کا علاقہ ہے۔پل عبور کرتے ہی جس جگہ جامع مسجد ہے ، وہاں پر رہائشی عمارتیں تھیں۔ جبکہ چبوترہ بھی موجود ہے جنکی اونچائی تقریباً 14فٹ ہے۔ یہ سلیقے سے تراشے اور جوڑے گئے بڑے بڑے پتھر ہیں۔ ایک پتھر کا وزن تقریباً2ہزار کلو گرام ہو گا۔ سیکڑوں پتھر اس تعمیر میں استعمال ہوئے ہیں۔جنھیں ناردا سے لایا گیا ۔ جو یہاں سے تقریباً 10 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ ناردا پہاڑی کے اپر میدان ہے۔ جہاں ایک تالاب ہے۔ کہا جاتا ہے کہ شاردا ایک جدید ترین شہر تھا۔ کھدائی کے دوران یہاں سے مٹی کی بنی پائپیں دریافت ہوئی ہیں۔ جو پینے کے پانی اور ڈرینج سسٹم کے لئے استعمال کی گئیں۔ یہاں ایک بڑا بازار بھی تھا۔ جس میں ضرورت کی ہر شے دستیاب تھی۔ سرینگر اور دہلی سے یہاں مال سپلائی ہوتا تھا۔ یعنی جدید مارکیٹ اس علاقہ کی دسترس میں تھے۔ یونیورسٹی کی ایک بڑی لائیبریری بھی تھی ۔ جو کتاب ٹیکسلا میں دستیاب نہ ہوتی ، وہ یہاں سے مل جاتی تھی۔ دودنیال نالہ سے یہاں کا رابطہ وادی سے ہو جاتا تھا۔ دودنیال نالے کو اسی وجہ سے کاشر ناڑ کہتے ہیں۔ شمالی کوریا ، جنوبی کوریا، چین کا راستہ گلگت اور کیل سے ہوتا ہوا نکلتا تھا۔کیل سے ایک راستہ اسکردو اور دوسرامژھل کی طرف وادی کشمیر کو جاتا ہے۔ نوری ٹاپ سے ٹیکسلا تک ڈیڑھ دن کا راستہ تھا۔ شاردا کا ٹیکسلا سے خاص لنک تھا۔ ایک راستہ سرگن ، نوری ٹاپ جھل کھڈ، بابو سر سے ہوتا ہوا چلاس کو نکل جاتا ہے۔ (جاری ہے) شہاب الدین غوری کیل کے راستے ہی حملہ آور ہوا تھا۔ ایک راستہ شونٹھر، رٹو، استور، اسکردو کو جاتا ہے۔ایک راستہ مظفر آباد کی طرف جاتا ہے۔ جبکہ ایک راستہ تائو بھٹ ، قمری، در مٹ، تاربل، کنگن کی جانب وادی کشمیر کو ملاتا ہے۔سرگن سے راستہ نوری ٹاپ جاتا ہے، نوری ٹاپ سے ناراں کاغان 9گھنٹے کا سفر ہے۔ شاردہ کے تقریباً 25افراد موجودہ جدوجہد میں شہید ہوئے۔ 2000ء کے بعد اس علاقے پر بھارتی گولہ باری ہوتی رہی۔ جنگ بندی لائن یہاں سے 14میل کی دوری پر واقع ہے۔ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو ٹنل کے زریعے ملایا جا سکتا ہے۔ شونٹھر نالے سے ہی ٹنل نکالنے کا اعلان سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر سردار عتیق احمد خان نے کیاتھا۔ اس اعلان کا بعض افراد نے مذاق اڑایا تھا۔ لیکن یہ سرنگ دو میل نمبر 2سے رٹو تک ہے۔شاردا کا مطلب سنسکرت زبان میں علم کی دیوی ہے۔ یہاں کی مناسبت سے ایک معروف رسم الخط ایجاد ہوا۔ جسے شاردا رسم الخط کہا جاتا ہے۔ جودیوانگری میں تھا۔ شاردہ اور تکری سے ہی گور مکھی نے جنم لیا ہے۔ ٹیپو سلطان کی نسل بھی اسی علاقہ میں آباد تھی۔تقسیم بر صغیر کے وقت یہاں ڈوگروں کی حکومت تھی۔ یہاں بڑی مورتی رکھی گئی تھی ۔ مہاراجہ نے حکم دیا اسے سرینگر پہنچادیا جائے۔ لوگ بہت پریشان تھے کہ کیسے اس بھاری پتھر کی مورتی کو اتنا دور لے جائیں گے۔ مقامی لوگوں نے مشاورت کی۔ دوسرے دن کچھ لوگ راجہ کے دربار میں پیش ہوئے، چیخ و پکار شروع کر دی، اور کہا کہ آپ بھگوان کو لے جائیں گے تو ہمارا کیا بنے گا ۔ ہم بھگوان کے بغیر کیسے زندہ رہ پائیں گے۔یہ علاقہ بھی ویران ہو جائے گا۔ راجہ نے کہا ٹھیک ہے اسے یہاں ہی رکھا جائے۔ لیکن پھر یہ بھگوان غائب ہو گیا۔ کہتے ہیں کہ اس میں ہیرے جواہرات تھے۔ بعض پجاریوں نے اسے توڑ کر نایاب ہیرے جواہرات لٹ لئے۔ بعض کہتے ہیں کہ اسے سامنے بہتے دریائے نیلم میں ڈال دیا گیا۔ جب راجہ نے اس کے بارے میں دریافت کیا تو کہا گیا کہ بھگوان آسمان کی طرف اڑ گیا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے اسے دریا میں ڈال دیا گیا تھا۔ مقامی لوگ آج بھی اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ ان کے بزرگوں نے دانش مندی اور حکمت عملی سے معاملہ حل کرنے میں کامیابی حاصل کر لی تھی۔ معروف مورخ البیرونی اپنی تصنیف'' کتاب الھند ''میں شاردہ کا ذکر کچھ یوں کرتے ہیں کہ سرینگر کے جنوب مغرب میں شاردہ واقع ہے ۔ اہل ہند اس مقام کو انتہائی متبرک تصور کرتے ہیں۔ اور بیساکھی کے موقع پر ہندوستان بھر سے لوگ یہاں یاترا کے لئے آتے ہیں۔ لیکن برفانی اور دشوار گزار علاقو ں کے باعث میں خود وہاں نہیں جا سکا۔ وہ لکھتے ہیں کہ کنشک اول کے دور میں شاردہ وسطی ایشیا کی سب سے بڑی تدریسی درسگا ہ تھی ۔ یہاں بدھ مذہب کی باقاعدہ تعلیم کے ساتھ ساتھ تاریخ، جغرافیہ، ھیت، منطق اور فلسفے پر مکمل تعلیم دی جاتی تھی۔ اس درسگاہ کا اپنا رسم الخط تھا۔ جو دیوانگری سے ملتا جلتا تھا۔ اس رسم الخط کا نام شاردہ تھا۔ اس مناسبت موجودہ گائوں کا نام بھی شاردہ ہے۔ اس عمارت کو کنشک اول نے 24تا27ء میںتعمیر کرایا تھا۔ کنشک اول نیپال کی ریاست کا شہزادہ تھا۔ شاردا یونیورسٹی کی عمارت شمالاً جنوباً مستطیل چبوترے کی شکل میں بنائی گئی ہے۔ عمارت کی تعمیر آج کے انجینئرز کو بھی حیرت میں ڈال دیتی ہے۔ یہ عمارت بر صغیر میں پائی جانے والی تمام عمارتوں سے مختلف ہے۔ خاص کر اس کے درمیان میں بنایا گیا چبوترہ ایک خاص فن تعمیر پیش کرتا ہے۔ جو بڑا دلچسپ ہے۔ اس کی اونچائی تقریباً 100فٹ ہے۔ چاروں طرف دیواروں پر نقش نگار بنائے گئے ہیں۔ مغرب کی طرف ایک دروازہ ہے۔ عمارت کے اوپر اب چھت کا نام و نشان باقی نہیں ہے۔ تا ہم مغرب سے اندر داخل ہونے کے لئے 63سیڑھیاں بنائی گئی ہیں۔ آج بھی کچھ قبائل 63زیورات پر مشتمل تاج ہاتھی کو پہناتے ہیں۔ اور پھر اس کی پوجا کرتے ہیں۔ 63کا عدد جنوبی ا یشیا کی تاریخ میں مذہبی حثیت رکھتا ہے۔ بدھ مت کے عقائد سے ملتی جلتی تصاویر اس میں آج بھی نظر آتی ہیں ۔ ان اشکال کو پتھر میں کرید کر بنایا گیا ہے۔ اس عمارت میں ایک تالاب بھی ہوا کرتا تھا۔ جو آج موجود نہیں۔ امراض جا سے متاثر لوگ اس تالاب میں غسل کرتے اور شفا پاتے ۔ چونکہ یہاں آنے ولا پانی دو کلو میٹر دور سے سلفر ملے ہوئیتالب سے لایا گیا تھا۔تاریخی شواہد کے مطابق شاردہ میں 5ہزار افراد موجود تھے۔ شاردہ سے کشن گھاٹی تک کا سارا علاقہ آباد تھا۔ کشن گھاٹی شاردہ کی مرکزی عمارت سے تین کلو میٹر جنوب مشرق میں واقع ایک پہاڑی کا نام ہے۔ جسے مقدس تصور کیا جاتا تھا۔ یہاں ایک لمبی غار تھی۔ جس میں ایک بت بنوایا گیا تھا۔ یہاں ہندو مردوں کو جلاتے تھے۔ اور اس راکھ کو کشن گنگا(مو جودہ دریائے نیلم )میں بہا دیا جاتا تھا۔ شاردہ ماضی بعید میں نانگا اور راوڑ قبائل کا مسکن رہا ہے۔ جس کے مذ ہبی عقائد بدھ اور جین مت سے ملتے جلتے ہیں۔ شاردہ قلعہ کے پس منظر سے لوگوں کی اکثریت نابلد ہے۔ اسی وجہ سے لوگوں میں اس تاریخی و تدریسی درسگاہ سے متعلق بڑی دلچس کہانیاں مشہور ہیں۔ جو یہاں آنے والوں کو سنائی جاتی ہیں۔ جن میں دیو مالائوں کا ذکر ملتا ہے۔ تا ہم آج یہ عمارت پرانے کھنڈر کا نظارہ پیش کرتی ہے اور عدم توجہ کا شکار ہے۔اس کی تعلیمی اور تدریسی اہمیت صرف ایک خواب لگتی ہے۔شاردہ میں نائیک ، میر، چوہدری، قونشی(پٹھانوں کی ایک نسل جن کا سلسلہ بٹگرام علاقے سے ملتا ہے)، بٹ، لون، ملک، خواجہ، شیخ جیسی قومیں آباد ہیں۔ کہتے ہیں کہ بدھ ازم کے حکمران راجہ کنشک اور اشوک کے زمانے میںیہاں یونیورسٹی قائم تھی۔ لیکن آج تعلیم کے میدان مین یہاں کے عوام ہزار سال پیچھے چلے گئے ہیں۔ شرح خواندگی 65فی صد ہے۔ انٹر کالج میں 350طلباء زیر تعلیم ہیں۔ گرلز ہائی سکول میں طلباء کی تعداد تقریباً 450ہے۔ بوائز مڈل سکول میں بھی اسی تعداد میں بچے زیر تعلیم ہیں۔دو پرائمری سکول ہیں۔ دو مسجد سکول ہیں۔ کالج مین عبد الحمید پیرزادہ سیاسیات لیکچرار ہیں جو 9سال سے ایڈہاک ہیں۔ یہ حکومت کا اس علاقے کے تعلیمی معیار کی جانب متوجہ ہونا ہے۔ کالج پرنسپل خواجہ محمد لقمان کا تعلق خواجہ سیری سے ہے۔ وزیر اعظم چوہدری عبد المجید نے یہاں کا دورہ کیا تو شاردہ یونیورسٹی کو بحال کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انھوں نے اراضی سے متعلق بھی جانکاری حاصل کی ہے۔ نہ جانے کب شاردہ یونیورسٹی ایک بار پھر علاقے کے عوام کو علم کے نور سے منور کرے گی۔ پاکستان کو شاردہ یونیورسٹی کی بحالی کی جانب توجہ دینا چاہئیے۔جب کہ بھارت میں ایک نجی یونیورسٹی شاردہ کے نام سے قائم ہو چکی ہے۔ نوئیڈہ نئی دہلی میں63ایکٹر پر شاردہ یونیورسٹی قائم کر لی گئی ہے۔ جو کہ عالمی معیار کے مطابق ہے۔شاردہ یوں تو دیودار کے جنگلات کے دامن میں ہے۔ لیکن یہاں قسم قسم کے درخت ہیں۔ چنار کے دو درخت تھے جن میں سے صرف ایک باقی ہے۔ چنار کشمیر کا قومی نشان بھی ہے۔منوں کے درخت کا مقامی آبادی خاص طور پر چرچا کرتی ہے۔ ایک درخت مندر کے صدر دروازہ میں ہے جب کہ دوسرا سامنے پار گائوں میں قبرستان پر ہے۔ یہ بڑا درخت ہے جس کے نیچے قدیم ترین قبر ہے۔ اس قبر کے بارے میں قیاس آرائیاں کی جاتی ہیں۔ ہزاروں برس قبل دنیا کا جدید ترین شہر آج اکیسویں صدی میں دنیا سے کٹ کر رہ گیا ہے۔مواصلات کا نظام مو جود نہیں۔ ایک نجی سٹیلائٹ پی سی او ہے جہاں 15روپے فی منٹ وصول کئے جاتے ہیں۔ پی ٹی وی ٹاور بھی نصب کیا گیا ہے لیکن آج تک ٹی وی کوئی نہ دیکھ سکا۔ ٹیلی فون کیبل وادی نیلم میں بچھائی جا رہی ہے ۔ توقع ہے کہ اس سے تمام علاقہ مستفید ہو گا۔ اس علاقے مین موبائل فون سروس کی اشد ضرورت ہے۔ اس سے سکیورٹی کا نظام بھی بہتر ہو سکتا ہے اور نگرانی اور مانٹئیرنگ سے دشمن کی کسی مداخلت یا سازش سے بھی بچا جا سکتا ہے۔ دنیا گلوبل ویلج بن چکی ہے۔ ان علاقوں کے عوام کو جنگ بندی لائن پر قیام پذیر ہونے کی سزا نہیں دی جانی چاہیئے۔ یہ عوام ایڈوانس پارٹی ہیں۔ ان کو زیادہ سے زیادہ مراعات دینے کی ضرورت ہے۔ بنیادی ضروریات سے محروم رکھنا بڑی زیادتی ہو گی۔ سڑکوں کی خرابی بھی اس علاقے اور وادی کے عوام کی پسماندگی اور ناخواندگی کی علامت ہے۔ اتنی پر فضاء سر زمین تک سیاحوں کی پہنچ آسان بن جائے تو علاقے کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ سیاحت کا کافی پوٹنشل ہے۔ رواں برس لاکھوں کی تعداد میں پاکستان بھر سے سیاح وادی نیلم کی سیر کو آئے اور اہم نظاروں سے محظوظ ہو کر واپس لوٹ گئے۔ انھوں نے یہاں بار بار آنے کی آرزو کی۔ یہاں ان کا گھر والوں سے رابطہ ہو، انر نیٹ، تیلیفون، موبائل، سہولیات میسر ہوں، سڑکیں بہتر اور کشادہ ہوں، سستی اور آرام دہ رہائش مل جائے ، لوگ بہتر میزبانی کریں تو یہ علاقے سیاحت کی جنت بن سکتا ہے۔ لیکن باہر کے لوگوں نے اس علاقے میں ہوٹل اور ریسٹ ہائسز کرایہ پر لئے ہیں۔ وہ سیاحوں کو لوٹ رہے ہیں۔ ان کا مقصد صرف مال کمانا ہے ۔ علاقے کی اقدار یا روایات یا میزبانی کا انھیں کوئی خیال نہیں ۔ اس سلسلے میں مق%A

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 




 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...

  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved