بدترین سفارتی تنہائی
  9  دسمبر‬‮  2016     |     کالمز   |  مزید کالمز

ایک اصطلاح ہوتی ہے ''حالات کا جبر''۔ بسا اوقات آپ کو نہ چاہتے ہوئے بھی ایسا کام کرنا پڑ جاتا ہے جو خلاف مزاج و عادت ہوتا ہے۔ بحیثیت قوم بھی ناخوشگوار حالات میں ناخوشگوار فیصلے کرنا پڑتے ہیں۔ ایک آدھ جذباتی مذہبی رہنما کو چھوڑ کر کوئی اور ہوشمند ایسا نہیں ہوگا جو ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس میں مشیر خارجہ سرتاج عزیز کی شرکت کا مخالف ہو اور اسے موجودہ حالات میں غلط فیصلہ قرار دے۔ سرتاج عزیز نے کانفرنس میںشرکت کی اور انہیں حسب توقع ناگوار صورتحال کا سامناکرنا پڑا۔ سوال یہ نہیں کہ سرتاج عزیز نے متوقع صورتحال کو بھانپتے ہوئے کانفرنس میں شریک ہونے کی کیوں ٹھانی اصل سوال یہ ہے کہ ایسے حالات کیوں پیدا ہوئے ہیں کہ پاکستان اپنے پڑوسی ممالک میں اجنبی بن کر رہ گیا ہے؟ نریندر مودی نے جب کہا کہ وہ پاکستان کو سفارتی تنہائی کا شکار کرکے چھوڑے گا تو ہم نے اس کو ہرزہ سرائی قرار دیا اور ایک دیوانے کی بڑ سے زیادہ اس کو اہمیت نہ دی لیکن آج یوں لگ رہا ہے کہ پاکستان کا جنوب ایشیائی خطے میں کوئی حمایت نہیں رہا۔ قریب کے ممالک میں ایک چین ہے جو ہمارے ساتھ دوستی کے لازوال رشتے میں بندھا ہواہے اور جس کی اپنی مجبوریاں ہیں جو اسے پاکستان کی حمایت میں بیان دینے اور اقدامات اٹھانے پر مجبور کرتی ہیں۔ غور طلب بات یہ ہے کہ ہم لمحہ موجود میں اتنے نامعتبر کیسے ہوگئے ہیں کہ ایران' افغانستان' بھارت' نیپال' بنگلہ دیش' بھوٹان اور برما ہماری مخالفانہ صفوں میں پائے جاتے ہیں۔خارجہ محاذ پر یہ میاں نواز شریف تیسری مرتبہ ملنے والی وزارت عظمیٰ کے پہلے ساڑھے تین سالہ اقتدار کا تحفہ ہے۔ اس سے کہیں بہتر دور آصف علی زرداری کا تھا جو افغان صدر حامد کرزئی کی بانہوں میں بانہیں ڈال کر گھوما کرتے تھے اور جن کے دور میں افغان صدر کی زبان بند ہی رہی حالانکہ قبل ازیں جنرل مشرف اور ان کے درمیان تعلقات میں سخت کشیدگی دیکھنے میں آتی رہی تھی۔ زرداری نے اپنے تعلقات کو پاکستان کی بہتری اور مفاد کیلئے استعمال کیا۔ حیران کن بات یہ ہے کہ اس کے برعکس میاں نواز شریف ہندوستانی وزیراعظم مودی کے ساتھ اپنے ذاتی خوشگوار تعلقات کو پاکستان کے حق میں استعمال نہ کرسکے۔ دوسری جانب وزیراعظم مودی ہمارے ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستی بڑھاتا رہا اور اس دوستی کو مودی پاکستان کے خلاف محا ذ بنانے کیلئے بڑی خوبصورتی کے ساتھ بروئے کار لایا ہے۔ ایک عام پاکستانی کی حیثیت سے میرے لئے یہ بات انتہائی حیران کن اور تشویش کا باعث ہے کہ ایک جانب وزیراعظم نواز شریف اور وزیراعظم مودی کی دوستی اور قربت کے چرچے ہوتے ہیں جبکہ دوسری طرف مودی کشمیری انتفادہ کو دبانے کیلئے بدترین ریاستی طاقت کا مظاہرہ کرتا ہے' کنٹرول لائن پر آئے دن فائرنگ ہوتی ہے اور وزیراعظم مودی پاکستان کو سفارتی تنہائی کا شکار بنانے کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ کیا اس کا مطلب یہ لیا جاسکتا ہے کہ وزیراعظم مودی نواز شریف اور پاکستان کو دوستی کے اعتبار سے دو مختلف وجود سمجھتا ہے اور نواز شریف وزیراعظم مودی کی اس اپروچ سے سمجھوتہ کئے ہوئے ہیں؟ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ آپ کے تعلقات کی نوعیت ایسی ہو کہ کسی بین الاقوامی کانفرنس میں آپ کو سرگوشیاں کرتے دیکھا جائے اور آپ خصوصی طور پر ایک دوسرے کی خوشی اور تکلیف میں شریک ہوں لیکن جن ملکوں کی قیادت کا تاج آپ کے سر پر سجا ہو ان کے درمیان بدترین کشیدگی موجود ہو جو روز بروز بڑھتی جارہی ہو۔ کیا لوگ بھول گئے کہ وزیراعظم مودی خصوصی طور پر نواز شریف کی نواسی کی شادی کیلئے جاتی امراء پہنچے تھے اور یہ نواز شریف تھے جنہوں نے اپنے دل کے آپریشن سے قبل خصوصی طور پر وزیراعظم مودی کو فون کیا اور ان سے نیک تمنائوں کی درخواست کی۔ یہ سب کیا ہے؟ تاریخ کا سبق ہے کہ رہنمائوں کے تعلقات خراب ہو جائیں تو ملکوں کے تعلقات کشیدہ ہو جاتے ہیں اور رہنمائوں کے درمیان دوستی پیدا ہو جائے تو خراب تعلقات ٹھیک ہو جاتے ہیں لیکن یہاں معاملہ بالکل الٹ ہے۔ کل کا مورخ شاید اس گتھی کو سلجھا پائے ' زمانہ حال میں تو اس راز سے پردہ اٹھنے کی توقع دکھائی نہیں دیتی۔ سارک کانفرنس کو ملتوی کرکے ہم نے شرمندگی سے اپنے آپ کو بچالیا تھا چونکہ مالدیپ کے سوا شاید کوئی دوسرا سارک ملک ہندوستان کی مخالفت مول لے کر اسلام آباد نہ آتا۔ عام حالات ہوتے تو سارک کانفرنس کے بائیکاٹ کو بہانہ بناکر پاکستان ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کا بائیکاٹ کرسکتا تھا لیکن صاف سمجھ میں آرہا تھا کہ ہمارے آنے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا بلکہ الٹا ہماری تنہائی آشکار ہو جائے گی۔ یہ ہے کہ آج کا پاکستان جس کو مسلم لیگ نون کی ''تجربہ کار'' قیادت چلا رہی ہے۔ بقول ن لیگ اگر ''اناڑی'' برسر اقتدار آجاتے تو کیا اس سے بدتر کوئی صورتحال ہوسکتی تھی؟ میری رائے میں کل کا مورخ مسلم لیگ ن کے موجودہ دور کو سفارتی لحاظ سے پاکستان کی تاریخ کا بدترین دور قرار دے گا۔ یہ ایک ایسا دور ہے جس میں اپنے بھی خفا ہیں اور بیگانے بھی ناخوش ہیں۔ کوئی وقت تھا کہ دوستوں کی فہرست میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا نام جلی حروف میں لکھا جاتا تھا اور ہم فرض کرلیتے تھے کہ اگر ساری دنیا بھی ہمارے خلاف ہو جائے کم از کم یہ ممالک ہمارے ساتھ کھڑے ہو ںگے اور نہ صرف کھڑے ہوں گے بلکہ ہماری بقا ' سلامتی اور ضرورت کیلئے اپنے خزانوں کے منہ کھول دیں گے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved