آخر معیار کیا ہے ؟
  9  دسمبر‬‮  2016     |     کالمز   |  مزید کالمز
قائد اعظم یونیورسٹی کے فزکس ڈیپارٹمنٹ کو ڈاکٹر عبدالسلام کے نام سے موسوم کرنا نواز حکومت کی قادیانیت پر پہلی نوازش نہیں ہے بلکہ مشرف کے بعد جب سے انہوں نے اقتدار سنبھالا ہے یہ نوازشات جاری ہیںاور ہر شعبہ میں قادیانیوں کی بے جا مداخلت اپنی تمام حدود پھلانگتی ہوئی دکھائی دیتی ہے، یہاں تک کہ پنجاب پولیس آج تک قادیانیت کی مربی بنی ہوئی ہے ، تمام تر شکایات کے باوجودایڈیشنل آئی جی ابوبکر خدا بخش اور اس کا بھانجا وزیر اعلیٰ ہائوس کے چہیتے ہیں،یہ پہلی بار ہوا ہے کہ پنجاب میں پولیس نے ختم نبوتۖ کے لٹریچر کو فرقہ وارانہ قرار دیکر مقدمات درج کئے ،آیئن پاکستان کی قادیانیت سے متعلق شق کیلنڈر پر شائع کرنے پر چھاپے اور گرفتاریاں ہوئیں۔ 2013میں وزیر اعلیٰ ہائوس میں قادیانی وفد سے ملاقات کے بعد ایک نادر شاہی حکم جاری ہوا کہ پنجاب میں 6تعلیمی ادارے فوری طور پر قادیانیوں کے حوالہ کر دئے جائیں، محکمانہ کارروائی میں تاخیر ہوئی تو ریمائنڈر بھیجے گئے ، جب سرکاری افسروں نے اسے ناقابل عمل قرار دیا اور دوسری جانب عوام اور طلبہ نے سڑکوں پر آنے کا اعلان کیا تو یہ فیصلہ واپس لینے کے بجائے دبا دیا گیا ، اس بات کے ٹھوس شواہد موجود ہیںکہ قادیانی حکومت کے مشورہ سے اس معاملہ میں عدالت میں گئے اور حکومت نے اس مقدمہ میں کوئی دلچسپی نہ لے کر قادیانیوںکو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی اور بجائے اس کے کہ ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا جاتا نومبر کے اوائل میں ایک نیا رنجیت سنگھ سٹائل حکم جاری ہوا کہ یہ سکول ابھی تک حوالہ کیوں نہیں ہوئے ۔یہ حکم ابھی واپس نہیں لیا گیا اور معاملہ التوا میں ہے ، طلبہ اور ان کے والدین الگ پریشان ہیں کہ ان کا بنے گا کیا ۔ چناب نگر سے آئے روز ممنوعہ اور شر انگیز لٹریچر پکڑا جاتا ہے مگر حکومت کو اس سے کوئی دلچسپی ہی نہیں، الٹا چھاپہ مارنے والے افسروں کی پیشیاں اور ان کے خلاف کارروائیاں کی جاتی ہیں۔اسی حکومت کے ایما پر پہلی بار ایسا ہوا کہ میڈیا کو یوم ختم نبوت منانے پر نوٹس جاری ہوئے اور پیشیاں بھگتنا پڑیں اور گو کہ اس وقت وہ دونوں ٹی وی چینل مقدمہ جیت گئے مگر اب ان میں سے ایک نیو ٹی وی کو اسی کی بانداز دگر سزا دی گئی اور دوسرے کی بھی نگرانی جاری ہے۔ سمجھ سے بالا تر ہے کہ قادیانیوں کی جو خدمت پرویز مشرف تک نہ کرسکا یہ حکومت کیوں اس کے لئے مری جارہی ہے ،صرف اندرون ملک نہیں بیرون ملک بھی یہی سیاپا ہے کہ کئی جگہ یوم آزادی تک قادیانیوں کے مراکز میں منانے کا حکم دیا گیا اور منایا گیا ۔قادیانی افسروں کی غیرمعمولی تعداد کو جس طرح آئوٹ آف دی وے جاکر اس حکومت نے ترقیاں کم الارمنگ نہیں ہے۔ اس کے علاوہ اسلام آباد میں بھی صورتحال زیادہ اچھی نہیں۔ ایسا نہیں کہ یہ سب لاعلمی میں ہورہا ہے کیونکہ نواز شریف خاندان ایک مذہبی شناخت رکھتا ہے ، قادیانیت کے مسئلہ کی حساس نوعیت سے پوری طرح آگاہ ہے ۔ خود میاںشریف صاحب باخبر تھے اور ان کی اولاد سے یہ توقع نہیں کہ ان کے عقائد اس سے مختلف ہونگے ۔اور وہ نبے خبر ہونگے کہ آئین ان کے حوالہ سے کیا کہہ رہا ہے ، خود مسلم لیگ قادیانیوں کو کافر قرار دینے کے عمل میں شریک رہی ہے ، راجہ ظفرالحق کی خدمات کا انکار ممکن نہیں ، سابق صدر پاکستان رفیق تارڑ نے قادیانیت کے خلاف ایک تابناک کردار ادا کیا اور آج تک مذہبی حلقے ان کا اسی بنیاد پر احترام کرتے ہیں، وزیر اعظم کے داماد اور محترمہ مریم کے شوہر کیپٹن صفدر کی اسمبلی میں کی گئی ایک تقریر سے بھی یہ علم ہوا کہ وہ اس مسئلہ کی سنجیدگی اور اس فتنہ کے عزئم سے پوری طرح آگاہ ہیں اس سب کے باوجود آخر وہ کونسی مجبوری جو انہیں قادیانیت کی دہلیز چومنے پر مجبور کر رہی ہے ۔ حیرت بھی حیرت زدہ رہ جائے کہ ایک دینی شعور رکھنے والے وزیر اعظم نے عین اس مہینے میں خاتم النبیین ۖ کے گستاخ اور باغی ٹولہ کو نوازانے کا فیصلہ کیا جس ماہ میں نبی محترم ۖ کی ولادت کی خوشی منائی جارہی ہے ، اسے کیا سمجھا جائے ؟یہ عمل کوئی معمولی نہیں کہ اسے نظر انداز کیا جاسکے ۔ سنیئر صحافی دوست رضوان الرحمٰن رضی کا خیال ہے کہ بریگیڈیئر نواز نے چونکہ نواز خاندان کی جان بچاکر جدہ فرار میں مدد کی تھی اس لئے پہلے ایک دفاعی سودے میں اس کو نوازا گیا اور اب اسی کی ہدایات پر قادیانیت کو نوازا جا رہا ہے ۔ کیونکہ وہ ایک سکہ بند قادیانی تھا ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ وہ تو اس دنیا میں نہیں رہا ۔ اس سے کئے گئے قول و اقرار کا اتناہی خیال ہے تو میاں صاحب اپنی کوئی فیکٹری اس کے نام لگا دیں ، پانامہ میں چھپائی دولت کا کچھ حصہ اس کے خاندان کو دیدی کوئی اعتراض نہیں کرے گا انہیں یہ حق کس نے دیا کہ قوم کے سینے پر مونگ دلتے ہوئے قادیانیت نوازی کی نئی تاریخ رقم کریں۔ بریگیڈیئر نیاز والی داستان درست بھی ہوسکتی ہے ، مگر یہ اصل قصہ نہیں کیونکہ نواز خاندان تو زندہ لوگوں کا احسان جوتے کی نوک پر رکھنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتا ایک مرے ہوئے شخص کا کیا خیال رکھے گا، معاملہ کوئی اور ہے اور اس کی کھوج بہر حال لگانا ہی پڑے گی ۔وزیر اعظم نے ایک تعلیمی ادارہ میں قادیانیت کا بیج بونے کا فیصلہ ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب طلبی کی جمہوری طریقہ سے نمائندگی کرنے والی تنظیمیں بھی فعال دکھائی نہیں دے رہیں ، اسلامی جمیعت طلبہ ایک موثر جمہوری آواز ہوا کرتی تھی 1974کی تحریک کا ہراول دستہ بھی وہی بنی تھی مگر اب اس کے اجتماعات کی خبروں کے جاوجود برسر الزام ہی کہیں نام سننے کو ملتا ہے ورنہ اس فیصلہ کے بعد اب تک کوئی بیان تو آہی جاتا ۔ اسی طرح جمیعت طلبا اسلام اور انجمن طلبا اسلام بھی اپنی اپنی حیثیت میں دینی شعار کی محافظ گنی جاتی تھیں ۔ اب ان کا معاملہ ہر کہیں کہ ہیں مگر نہیں ہیں ولا دکھائی دیتا ہے ۔ ایسے میں یہ ذمہ داری بھین ختم نبوت کا کام کرنے والی جماعتوں کو ہی نبھانا پڑے گی کہ ملکی تعلیمی اداروں کا دفاع کریں اور پر امن جمہوری طریقہ سے تعلیم اور طلبہ کو قادیانیت سے بچایا جائے اور توقع ہے کہ مسلم لیگ کے با شعور طبقات بھی اس میں اپنا کردار ادا کر نے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔ اب تو حالت یہ ہے کہ بعض ابو جہل قادیانیوں کو کافر قرار دینے پربھی اعتراض کرتے ہیں، دراصل یہ لوگ قومی دانش اور جمہوریت پر اعتراض کرتے ہیں۔ دوسری جانب دیکھا جائے تو پاکستان کی ریاست نے انہیں1974میں کافر قراردیا ان کے اپنے گرو مرزے نے تو اس سے سوسال پہلے اپنی تحریروں میں مسلمانوں سے الگ قرار دے دیا تھا ، جس کی تو ثیق ظفراللہ نے بائونڈری کمیشن میں قادیانیوں کو مسلمانوں سے الگ قرار دیکر کردی ، اسی کی روشنی میںاگر پاکستانی پارلیمنٹ نے انہیں غیر مسلم قرار دیدیا تو رونا کس بات کا وہی بات کہی ہے جو ان کا گرو کہتا تھا ،گلہ کیسا؟۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
75%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
25%



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved