حکومت‘ عدلیہ اور اپوزیشن
  11  دسمبر‬‮  2016     |     کالمز   |  مزید کالمز

امریکی آئین ساز بھی کیا باکمال لوگ تھے۔ دور حاضر میں ”تفریق اختیارات“ کا اصول کارفرما نہ ہوتا تو تیسری دنیا کیا ساری دنیا کے حکمران بادشاہ کا روپ دھار چکے ہوتے۔ بادشاہ کسی قانون کے تابع نہیں ہوتا‘ وہ اپنی ذات میں مقننہ بھی ہوتا ہے‘ عدالت بھی ہوتا ہے اور حکمران بھی۔ ذرا تصور کیجئے کہ ہمارے ہاں عدالتیں نہ ہوتیں تو کیا حکمران آئین میں طے کی جانے والی اپنی ذمہ داریاں ادا کررہے ہوتے؟ بروز جمعرات عدالت عظمیٰ میں مردم شماری کا معاملہ زیر بحث تھا اور حکومت کے ترجمان اس کے انعقاد کی تاریخ دینے میں پس و پیش سے کام لے رہے تھے۔ عدالت نے اٹارنی جنرل صاحب کے حیلے بہانوں کو جس طرح مسترد کیا اور مردم شماری کرانے کی تاریخ دی اس کو دیکھ کر امریکی ”تفریق اختیارات“ کے نظریئے پر رشک آیا۔ پاکستان کے معروضی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے میری سوچی سمجھی رائے ہے کہ جہاں عدالتیں ایسے جیوڈیشل ایکٹو ازم کا مظاہرہ کرنے والی ہوں کہ ہر وقت حکومت اور حکومتی اداروں کی جان سولی پر لٹکی رہے جبکہ اپوزیشن ایسی لڑاکی اور کرخت ہو جو ہر لمحہ حکومت کے ناک میں دھواں دینی والی ہو اور حکومت کی جان کا وبال بن رہے۔ تب جاکر حکمرانوں کے ہوش ٹھکانے رہ سکتے ہیں اور وہ ناک کی سیدھ میں چلتے رہیں گے۔ اگر اپوزیشن تھوڑا سا لحاظ کرنے والی ہوگی تو حکمرانوں کے اللے تللے وہ ہوں گے جو زرداری صاحب کے وقت میں ہمیں دیکھنے کو ملے۔ ان دنوں ایک ملاقات میں مسلم لیگ (ن) کے چیئرمین راجہ ظفر الحق کو میں نے عرض کی کہ آپ پاکستانی تاریخ کی ایک ایسی اپوزیشن بن گئے ہیں جس کا حکومت کو ذرہ بھر خوف نہیں ہے۔ اگر حکومت کو اپوزیشن کا خوف ہوتا تو کیا وہ اس قوم پر قرضوں کا اتنا بوجھ پانچ سالوں میں لادھ سکتی تھی جو پاکستان نے اپنے قیام سے لیکر 2008 ء تک لیے تھے۔ نواز شریف نے صحیح معنوں میں اپوزیشن کاکردار ادا نہ کیا اور نہ ہی اب پیپلز پارٹی اب اپوزیشن کا درست کردار ادا کرتی نظر آرہی ہے۔ اس مک مکا کی سیاست نے پاکستان کا بیڑہ غرق کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ میں نے اکثر لکھا ہے کہ خارجہ امور میں بعض معاملات میں اپوزیشن تعاون کرتی ہے لیکن بعض ایسے امور ہوتے ہیں جن پر ملکی مفادات کے پیش نظر اپوزیشن ایسا موقف اختیارکرتی ہے جو حکومت کی بارگینگ پاور کو مضبوط کرتا ہرے اور وہ بہتر انداز سے بیرونی طاقتوں سے معاملہ کرنے کی پوزیشن میں آجاتی ہے۔ مثال کے طور پر وارآن ٹیرر میں جس کردار کو نبھانے کا وعدہ کرکے پیپلز پارٹی برسر اقتدار آئی تھی اگر مسلم لیگ (ن) قومی مفاد کے پیش نظر اس کی مخالفت کرتی اور اپنے سابقہ موقف پر کھڑی رہتی تو یہ ملک کے لئے بہتر ہوتا لیکن یہاں یہ ہوا کہ امریکہ کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے دونوں جماعتوں میں دوڑ لگ گئی۔ نواز شریف تو امریکہ سے تعلقات کی بحالی کے اس قدر خواہشمند تھے ک ہموصوف اپنی پوری ٹیم کے ہمراہ رچرڈ باؤچر سے ملاقات کیلئے امریکی سفارتخانے جاپہنچے‘ ایسے حالات میں پیپلز پارٹی کی حکومت امریکہ سے کیا بارگینگ کرتی؟ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پیپلز پارٹی کے دور میں پاکستان پر امریکی ڈرون حملوں کی بارش ہوگئی اور ریمنڈ ڈیوس جیسے لوگ ویزے حاصل کرکے پاکستان کے طول و عرض میں دندناتے رہے۔ پیپلز پارٹی دور حکومت کی اصل اپوزیشن عدالت عظمیٰ تھی جس نے اپنے تئیں حکومت کے آگے بند باندھنے کی کوشش کی۔ جسٹس افتخار چوہدری کا جیوڈیشل ایکٹو ازم پاکستان کی تاریخ کا ایک سنہری باب ہے‘ اگرچہ ان کی ذات بعد ازاں کچھ حوالوں سے متنازعہ بن گئی لیکن اس میں کیا شک ہے کہ انہوں نے حکومت اور حکومتی اداروں کو آئینی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لئے مجبور کئے رکھا۔ یہ بات کسی کو اچھی لگے یا بری‘ حقیقت یہ ہے کہ عدالتیں سر پر کھڑی نہ ہوں تو پاکستان میں نہ حکومت کام کرتی ہے اور نہ حکومتی ادارے اپنی ذمہ داری کو بطریق احسن نبھانے کی کوش کرتے ہیں۔ آئین پاکستان پابند کرتا ہے کہ لوکل گورنمنٹس قائم کی جائیں۔ کیا جسٹس افتخار چوہدری اصرار نہ کرتے تو مقامی حکومتوں کے انتخابات کا انعقاد کرانے میں صوبائی حکومتوں کی کوئی دلچسپی دکھائی دیتی تھی؟ امر واقعہ یہ ہے کہ لوکل گورنمنٹ الیکشنز کا انعقاد پاکستان کی عدلیہ کے احکامات کے تحت ہوا اور یہی صورت آج ہمیں مردم شماری کے انعقاد کے حوالے سے دکھائی دے رہی ہے۔ یہ دونوں کام وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے کرنے والے ہیں اور ان حکمتوں کا رویہ ہمارے سامنے ہے۔ آج ملک بھرمیں جو بلدیاتی ادارے ہمیں نظر آرہے ہیں وہ اعلیٰ عدلیہ کے احکامات کے مرہون منت ہیں ورنہ 2008 ء سے لیکر 2013 ء تک نام نہاد جمہوری حکمرانوں نے ”میثاق جمہوریت“ میں اتفاق اور عہد کرنے کے باوجود لوکل گورنمنٹ الیکشن نہ کرائے تھے۔ پنجاب کے جمہور حکمرانوں کا وطیرہ اب بھی ٹال مٹول کا ہے چنانچہ ڈیڑھ سال گزر جانے کے باوجود تاحال مقامی حکومتیں قائم نہ ہوسکی ہیں کیونکہ انہیں اختیارات منتقل کرنے میں پنجاب کے جمہور حکمران سنجیدہ و مخلص نہیں ہیں۔ ماسوائے خیبرپختونخوا کے جہاں گزشتہ سال اگست میں مقامی حکومتوں کو صحیح معنوں میں اختیارات منتقل کیے گئے ہیں کوئی دوسرا صوبہ ایسا نہیں جو چاہتا ہو کہ صوبائی حکومتوں کے اختیارات میں مقامی لوگ شریک ہوں۔ یہ ہے وہ غیر جمہوری انداز حکمرانی جس کے آگے عدالتیں کھڑی ہو جاتی ہیں اور حکمرانوں کو آئین کے تحت اپنا کام کرنے پر مجبور کردیتی ہیں۔ ایک بان سمجھ لیجئے کہ طاقتور اور خبردار اپوزیشن نہ ہو تو حکمران چوری اور سینہ زوری اس طرح کرتے ہیں کہ ڈاکٹر عاصم جیسے کردار 461 ارب روپے غریب قوم کے ڈکار جاتے ہیں اور عدالتیں سینہ تان کر کھڑی نہ ہوں تو ملک میں نام نہاد جمہوریت نواز غنڈہ راج سے گریز نہیں کرتے‘ بے تاج بادشاہوں کی اصطلاح شاید ایسے ہی حکمرانوں کے لئے استعمال کی جاتی ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
100%
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved