قرض جوابھی چکانا باقی ہے
  16  دسمبر‬‮  2016     |     کالمز   |  مزید کالمز
کچھ قرض ایسے ہوتے ہیں جو ادا نہ کئے جائیں تو نسلوں کو منتقل ہوجاتے ہیں۔روح کا بوجھ بن کر ،دل کی کسک بن کر زندہ رہتے ہیں اور معاشرے کو بے چین رکھتے ہیں۔ترقی کے ہر قدم پر، خوشی کی ہر گھڑی ،جیت کے ہر احساس اور فخر کے ہر لمحہ کا مزا خراب کر دیتے ہیں۔ ہماری تاریخ اس حوالہ سے زیادہ المناک ہے کہ ایک قرض چکانے میں تاخیر نے دوسرا قرض چڑھا دیا اور اب اسی دشمن کی جانب سے تیسرے حملہ کی تیاری کو دیکھتے ہوئے تاریخ سوال کرہی ہے کہ قرض چکانا ہے یا چڑھانا ہے؟ بد قسمتی کہیں یا اتفاق کہ قوم کا سر جھکانے والے دونوں قرض ایک ہی تاریخ کو واجب ہوئے ۔مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا چرکہ1 6 دسمبر1971 کو لگا ، اور 43برس تک بھی قرض چکانے میں کوتاہی اور دشمن کو بھول جانے کے نتیجہ میں دوسرا زخم بھی اسی 16دسمبر کو پشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملہ کی صورت 2014میں لگا ۔اس زخم کی شدت تھی کہ جس نے پوری قوم کو ایک بار پھر سے انتشار و افتراق سے نکال کر متحد کیا اور ضرب عضب کی صورت دشمن کو مرحلہ وار ادائیگی کا سلسلہ شروع ہوا ۔ مگر برا ہو سیاسی مفادات کا کہ قوم تو آج بھی اسی طرح یک مشت ہے مگر اس کی سیاسی قیادت یہ اتحاد صرف ایک دن قائم رکھ سکی اور کوئی لمحہ نہیں جاتا جب ایک دوسرے کا گریبان تار تار کرنے کی مشق نا جاری ہو۔ اب یہ کوئی راز نہیں رہا ، بلکہ آستیں کا لہو ہی نہیں زبان خنجر بھی پکار پکار کر بتا رہی ہے کہ کس کس کی مہر سر محضر لگی اور اور کس کس نے اندر سے غداری کرتے ہوئے دشمن کا ساتھ دیا ، ڈھٹائی کی حد تو یہ ہے کہ لوگوںکو ڈھاکہ جاکر اپنے آبا ء کے پاکستان کے قتل میں شریک جرم ہونے کا ایوارڈ وصول کرتے ہوئے بھی شرم نہیں آئی ۔دنیا بھر نے دیکھا کہ اندرا گاندھی ،جنرل اروڑہ اوربھارتی را کے اس وقت سربراہ کے ورثااور ان کے پاکستانی ایجنٹوں کے ورثا اکٹھے بیٹھے تھے ،پھر ہمیں کہا جاتا ہے کہ غدار نہ کہو۔ کیا دلچسپ اعتراض ہے ۔تم غداری کا حق محنت وصول کرتے ہوئے بھی نا شرمائو اور ہم اس کا تذکرہ بھی کریں تو قابل گردن زدنی قرار پائیں۔تم ہی کہو یہ انداز منصفی کیا ہے؟ تاریخ کو حال کے روبرو کرکے دیکھ لیں تو پہچان مشکل نہیں رہتی۔ وہی چہرے ہیں، وہی خاندان ، وہی انداز ،وہی وارداتیں اور وہی گھاتیں ہیں۔ سب اپنی اپنی ڈیوٹی پر ڈٹے ہوئے ہیں ،فرق صرف اتنا ہے کہ جو زندہ ہیں وہ خود تیسری بار حملہ آور ہونے کو دانت نکوس رہے ہیں اور جو مر کھپ گئے ان کی اولادیں اسی لائن میں دکھائی دے رہی ہیں۔ پتا پہ پوت جد پہ گھوڑا بہت نہیں تو تھوڑا تھوڑا ہمارا المیہ یہ ہے کہ قیادت کا بارجن کو سونپا گیا وہ اس کے اہل نہ تھے۔ قرض کیا چکانا دشمن کو ہی دل دے بیٹھے۔ 71کے المیہ کا تقاضہ تھا کہ دشمن نے جن چور راستوں سے نقب لگائی انہیں ہمیشہ کے لئے بند کردیا جاتا ، اس کے ساتھیوں اور دوستوں کو غدار کے طور پر شناخت کیا جاتا مگر ہم ایسا کرنے میں ناکام رہے ۔ جس نے چاکر اعظم بن کر دشمن کے ایجنٹ کی حیثیت سے قومی وجود کو چرکے لگائے ۔ ملک میں بھارتی بندوق برادر کا کردار ادا کرتے پکڑا گیا وہ آج اس ملک کا تجزیہ نگار ہے ، دفاع جیسے حساس امور پر رائے دیتا ہی نہیں رائے بناتا بھی ہے، وہ اکیلا ہی نوازا نہیں گیا وہ جو ڈھاکہ کے سٹیج پر اکٹھے تھے اور ڈھاکہ حکومت کو پاکستان کے دوستوں کے خلاف قتل عام کا مشورہ دیتے پائے گئے وہی بعد میں ٹی ٹی پی کے سہولت کار رہے ، اس کے امیج بلڈر بنے ۔ہم نے دشمن کی تکنیک کو سمجھا نہ اس کے ایجنٹو ں کولگام دی الٹا ان سانپوں کو دودھ پلایا ،نتیجہ پشاور کے آرمی سکول میں بچوں کی لاشوں کی صورت ہمیں مل گیا ؟سیاستدانوں کی بات دوسری ہے کہ ان میں سے اکثر بے حس اور مفاد پرست ہیں ورنہ قوم کے دل میں ان بچوں کی لاشیں اب بھی بے گورو کفن پڑی ہیں۔ زخم اتنا کاری ہے کہ ٹیسیں اب بھی اٹھ رہی ہیں،ان ادھ کھلے پھولوں کا تذکرہ آج بھی آنکھیں نم کردیتا ہے ، مگر قومی قیادت احساس سے عاری نا ہوتی تو انہیں عناصر کو بلوچستان میں میدان جنگ سجانے کو کھلا نا چھوڑتی۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ وہی تمام عناصر جن کے درمیان 71میں اتحاد ہوا تھا ۔ وہ سب جو 2014میں اکٹھے تھے اب بلوچستان میں بھی ساتھ ہیں۔ایک دوسرے کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے ایک نیا المیہ تخلیق کرنے کی کوشش کرتے ہوئے نت نئے منصوبے تراشتے اور انسانی جانوں سے کھیلتے جارہے ہیں۔ ہمارا بازوے شمشیر زن اپنا کام کررہا ہے ۔ مگر حکومت ، مگر یہ اہل سیاست ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دشمن کا ایک مہرہ کلبھوشن بلوچستان سے پکڑا گیا ۔ تاریخ کی ایک بڑی کامیابی مگر حکومت نے گویا لب سی لئے ۔ بھارت کے لئے اتنا پیار کہ اسے عالمی برادری میں ننگا کرنے کے بجائے اداروں پر سوال اٹھانے لگے اور اب تو حد ہی ہوگئی ہمارا مشیر خارجہ کہتا ہے ''کلبھوشن کے خلاف دہشت گردی کا کوئی ثبوت نہیں ، صرف باتیں ہیں '' ۔ یہ وہی صاحب ہیںجو اسلام آباد آنے پر شسما سوراج کی بانہوں میں جھولتے پائے گئے اور اب امرتسر میںاجیت دول سے ملاقات کا شرف حاصل کرنے پر پھولے نہیں سماتے، سشما یہاں بھی دکھائی دے رہی ہیں ،کہا کہ ''سرتاج کو امرتسر میں دیکھ کر دل خوش ہوگیا''۔ دشمن کا دل خوش کرنے والی یہ حکومت کیا پرانا قرض چکانے کی صلاحیت رکھتی ہے ؟کیا اسے اس کی فکر ہے کہ تاریخ کے قرض چکائے نہ جائیں تو نسلوں کو منتقل ہو جاتے ہیں ۔ کیا ہم بحیثیت قوم بیدار ہیں کہ بلوچستان کو بچا سکیں ۔ اس کے لئے سر ہتھیلی پر رکھ کر دشمن کے منصوبے ناکام بنانے والوں کی پشت پناہی کرتے رہنا ہوگا ، ورنہ یاد رکھیں''سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا ۔''تو کسک کیسی ؟زخم کیسا ؟درد کیسی؟۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved