حلب یا ھلب
  18  دسمبر‬‮  2016     |     کالمز   |  مزید کالمز
حلب ڈٹ گیا ، حلب نے فرقہ پرست سپاہ کو لوہے کے چنے چبوا دئے، مٹھی بھر مجاہدین حلب چار برس سے فرقہ پرستوں کے حلق کا کانٹا بنے ہوئے تھے ۔وہ لڑتے رہے ، مرتے رہے ، مارتے رہے، بھوک ،پیاس،اندھیرے اور بیماریاں یہاںتک کہ بمباریاں بھی انہیں جھکا نہ سکیں، وہ اپنے رب کے آسرے پر کھڑے رہے، لڑتے رہے،جان دیتے رہے، یقیناً وہ باخبر تھے کہ ان کی مدد کو کوئی نہیں آئے گا، انہیں علم تھا کہ ہر مسلم کے پیروں میں مجبوریوں کی بیڑیاں ہیں،مگر وہ جھکے نہیں، وہ بکے نہیں،وہ تھکے نہیں۔ آٹھ ہزار نیم تربیت یافتہ مجاہدین اس سے زیادہ کیا کرسکتے تھے کہ چار برس سے نا قابل شکست تھے۔دو برس سے ایک لاکھ ایرانی،شامی افواج ان کا محاصرہ کئے ہوئے تھیں، دس ہزار سے ز ائد لبنانی حزب اللہ کے غنڈے اور دنیا بھر سے جمع کردہ تیس تنظیموں کے ایران سے تربیت یافتہ فرقہ پرست اس سے الگ تھے ،مگر وہ انہیں جھکا نہ سکے ،دبا نہ سکے اس سے زیادہ وہ کیا کرتے ، وہ کر ہی کیا سکتے تھے ۔سوائے اس کے کہ انہوں نے دنیا کو بتا دیا کہ فرقہ پرست کتنے بزدل اور گھٹیا ہیں۔اس ڈیڑھ برس کی لڑائی کے جو اعدا دوشمار ایرانی پارلیمنٹ میں پیش کئے گئے ہیں ان کے مطابق حلب کی ڈیڑھ سالہ لڑائی میںدس ہزار ایرانی فوجی مارے گئے،تین ہزارلبنانی آنجہانی ہوئے، اور اتنے ہی دیگر فرقہ پرست جن میں افغانی اور پاکستانی بھی شامل تھے۔دوسری جانب ایک ہزار مجاہد اپنے رب کے حضور جا حاضر ہوئے ۔ یہ مٹھی بھر جانباز اس کے سوا کیا کرتے؟انہوں نے وہ کردیا جو کوئی نا کرسکتا تھا اپنے دشمن کو بے حمیت اور بے نام ونمود ثابت کردیا ۔ یہی بہادر فرقہ پرست جنہیں چار برس سے شہر میں قدم رکھنے کی جرات نہ تھی ،راشن ، پانی ،بجلی اور دیگر تمام سہولیات زندگی توک کر بھی خوف زدہ تھے ۔ روسی فضائیہ کی مدد سے پورے شہر کو ملبہ کا ڈھیر بنا کر ، امریکی سازش کی مدد سے ممکنہ امداد کے راستے بند کرکے جب حلب کو موت کی نیند سلاچکے تو یہ بہادر داخل ہوئے ۔ ایک ہسپتال میں محصور دو سو بچے اور خواتین ان کی بہادری کا نشانہ بنیں ،بچے قتل ہوئے اور خواتین سے کیاہوا اس خط میں پڑھ لیں جوسوشل میڈیا پر وائرل ہے۔ وہ لکھتی ہے ۔''میں ان خواتین میں سے ایک ہوں جنھیں چند لمحوں بعد بدکاری و زیادتی کا نشانہ بنایا جائے گا کیونکہ اب ہمارے اور ان درندوں کے بیچ کوئی ہتھیار یا مرد نہیں رہے،مجھے آپ لوگوں سے کچھ بھی نہیں چاہیے، حتی کہ میں آپ سے دعا بھی نہیں چاہتی کیونکہ میں ابھی اس قابل ہوں کہ بول سکوں اور میرے خیال میں میری دعا ۔۔۔ آپ کے الفاظ سے زیادہ سچی ہے۔میں خودکشی کرنے جا رہی ہوں اور مجھے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ تم مجھے جہنمی کہو۔میں خود کشی کر رہی ہوں ،میں بغیر کسی وجہ کے خود کشی نہیں کر رہی، بلکہ اس لیے اپنی جان دے رہی ہوں کہ بشاری فوج کے درندے میری عصمت سے کھلواڑ نہ کر سکیں، یومِ حساب، یومِ قیامت حلب میں بپاہو چکا ہے اور میرا نہیں خیال کہ جہنم کی آگ اس سے بڑھ کر ہو گی۔ اور میں جانتی ہوں کہ آپ سب میرے جہنم میں داخلہ پرمتفق ہوں گے اور یہ وہ واحد چیز ہو گی جس پر آپ سب مسلمان متفق ہوں گے۔ آپ کے فتاویٰ میرے لئے لا یعنی ہیں، لہذا انھیں اپنے لیے اور اپنے خاندانوں کیلئے سنبھال کر رکھیے۔میں خود کشی کر رہی ہوں۔اور جب آپ یہ سب پڑھ رہے ہوں گے، میں پاکدامنی کیساتھ مر چکی ہوں گی''۔ وہ مرگئی اور اس کے ساتھ ہی حلب بھی مر گیا ۔ویران ہوگیا ۔جلا دیا گیا ۔ مصدقہ اطلاعات ہیں کہ حلب میں عزتوں کے کھواڑ سے لیکر ملبے کا ڈھیر بنے شہر کی راکھ میں سے چوری شدہ سامان کے ٹرک بھرکر لے جانے والوں میں کوئی اور نہیں حزب اللہ کے کارکن شامل تھے اور صرف وہی تھے ، اس پر اگر کسی کو عراق کا غدار علی علکمی یاد آجائے ،بنگال کا میر جعفر،میسور کا میر صادق یا اس کا پوتا سکندر مرزا یاد آجائے یا مشرقی پاکستان کا میر …… چھوڑیئے یہ تذکرہ کبھی پھر سہی! یہ سب تاریخ کا حصہ ہے یہ بھی کہ سکندر مرزاکی بیوی ناہید اصفہانی ایرانی انٹیلی جنس افسر تھی ،ایرانی ملٹری اتاشی کی بیوی کے طور پر پاکستان آئی اور پھر سکندر مرزا کے گھر کی ہورہی ۔ناہید اصفہانی کے شروع ہونے والے اس کھیل کا تسلسل ٹوٹا نہیں اور اس خون نے اپنی خو بھی نہیں بدلی ،حسین حقانی اب تک کی آخری کڑی ہے۔ ذکر تھا حلب کا اور بات پہنچ گئی فرقہ پرستوں کے طریقہ واردات تک ، یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ حلب واحد شہر نہیں جو اس انجام کو پہنچا اسدی خون اس سے پہلے بھی ایسی ہی درندگی کا مظاہرہ کر چکا ہے ، آج سے 36برس قبل ایسی ہی درندگی پہلے بھی دو شہروں تدمیر اور حماہ میں بشار کے باپ کے دور میں روا رکھی جاچکی ہے۔بشار کا چاچا رفعت برے فخر سے خود کو تدمیر کا قصائی کہتا تھا جہاں ایک دن میں بیس ہزار سے رائد لوگوں کو پھانسی پر چڑھایا گیا اور ان کیب خواتیں کو فوجیوں کے حوالہ کرنے کے بعد ان کی آنکھیں نکال دی گئیں، اس پر احتجاج ہوا تو 2فروری'' حماہ'' کا محاصرہ کرکے شہر کی بجلی کاٹ دی گئی ،پانی کی سپلائی روک دی گئی۔ بشار کے باپ نے بھی روسیوں کی مدد حاصل کی تھی۔ روسی فضائیہ کی بمباری سے سارا شہر خاک کا ڈھیر بنادیا گیا، اس دوران شہریوں کے خلاف زھریلی گیس بھی استعمال کی گئی۔ تین ہفتوں کی مسلسل بمباری کے بعد ٹینکوں اور بھاری توپ خانے کی مدد سے شامی فوج شہر میں داخل ہوئی اور حماہ کی ایک ایک عمارت کو مکینوں سمیت منہدم کردیا گیا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق جاں بحق ہونے والوں کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ تھی۔ اس میں شبہ نہیں کہ پورا عالم اسلام حلب کا مجرم ہے ، انسانیت کی بات چھوڑو، عالم اسلام نے کیا کرلیا ؟کچھ بھی کرنے کی ضرورت نہیں تھی صرف سفارتی دبائو ہی کافی ہوتا اس قتل عام کو روکنے کی خاطر لیکن سب نے اسے سعودی عرب اور ترکی کا معاملہ خیال کیا جبکہ امریکہ جو اس المیہ کا اصل پشتیبان ہے اس نے بڑی خوبصورتی سے سعودی عرب کو یمن میں پھنسایا اور ترکی ے دامن کو کردوں سے الجھا دیا ، حلب تنہا رہ گیا اور درندے اس پر ٹوٹ پڑے ۔ حلب کی گزری قیامت اور اس کے بعد متوقع اور ممکنہ اقدامات کو دیکھتے ہوئے امریکی منصوبہ بلڈ بارڈر پر ایک نظر ڈال لیں تو سمجھنامشکل نہیں کہ ہدف کیاہے اور اصل فائدہ کون اٹھا رہاہے ۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved