سانحہ کوئٹہ رپورٹ ایک نئی چارج شیٹ
  20  دسمبر‬‮  2016     |     کالمز   |  مزید کالمز
پہلے رخصت ہونے والے چیف جسٹس کی چارج شیٹ ملاحظہ کر لیجئے۔ فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ آج کے پاکستان میںہرطرف پھیلی ہوئی افراتفری'تفرقہ بندی'اقرباپروری'بدانتظامی اور معاشی ناانصافی کا دور دورہ ہے نتیجتاً عوام میں بے حسی اور ناامیدی کا احساس پروان چڑھ رہا ہے جو کسی قوم کے لیے درحقیقت ایک تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔'' یہ ہیں چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کے خیالات جنہیں موجودہ حالات میں حکومت کے خلاف چارج شیٹ قرار دیا جا سکتا ہے۔ اب آئیے اس رپورٹ کی طرف جو عدالت عظمی کے ایک معزز جج نے کوئٹہ سانحہ کے تناظر میں تیار کی ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسی نے سانحہ کوئٹہ کی 110صفحات پر مشتمل رپورٹ میں وفاقی حکومت کی دو اہم وزارتوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ وزارت داخلہ کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ وزارت میں قیادت کا فقدان ہے اور یہ وزارت دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بارے میں کنفیوژن کا شکار ہے۔ اس کنفیوژن کا اظہار اس بات سے ہوتا ہے کہ ساڑھے تین سالوں میں وزارت داخلہ نے صرف ایک مرتبہ نیکٹا کی میٹنگ کا انعقادکیا ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ نیکٹا کی ایگزیکٹو کمیٹی نے جو فیصلے کیے وزارت داخلہ نے ان سے انحراف کی راہ اپنائی۔ معزز جج نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ وزارت کے افسران اپنے وزیر کی خدمت میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں بجائے اس کے کہ وہ پاکستانی عوام کی خدمت کا سوچیں۔ وفاقی حکومت کی دوسری وزارت جس کے بارے میں جسٹس قاضی فائز عیسی پر مشتمل یک رکنی کمیشن کی رپورٹ میں اظہار افسوس کیا گیا ہے وہ مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی کی وزارت ہے۔ اس وزارت کے وجود کے بارے میں رپورٹ میں جو انگریزی لفظ استعمال ہوا ہے اس کو اگر کسی شخص کے حوالے سے بولا جائے تو اس کا مطلب ہوتا ہے ''قریب المرگ شخص'' یعنی بستر مرگ پر پڑا ہوا آدمی۔ کسی شے کے بارے میں اس لفظ کے استعمال کا مطلب ہوتا ہے منجمد ہو کر رہ جانے والی' ختم ہو جانے والی ' تنزلی کا شکار وغیرہ وغیرہ۔ رپورٹ کی فائنڈنگ کا 20واں نکتہ یہ ہے کہ وزارت مذہبی امور ایک منجمد اور تنزلی کا شکار وزارت ہے جو اپنی بنیادی ذمہ داری مذہبی ہم آہنگی کو نبھانے سے قاصر ہے۔ کمیشن کی اس رپورٹ کی روشنی میں کم ازکم وزیر داخلہ کے اپنے منصب پر رہنے کا جواز نہیں رہتا ہے۔ وزیر داخلہ کے خلاف یہ رپورٹ ایک کھلی چارج شیٹ کے مترادف ہے چونکہ نیشنل ایکشن پلان پر ناقص عملدرآمدنیکٹا کی غیر فعالیت اور کالعدم تنظیموں کی بابت وزارت داخلہ کی کنفیوژن جیسے الزامات کے بعد وزیر داخلہ اپنے عہدے پر رہنے کا جواز کھو بیٹھے ہیں۔ پیپلزپارٹی ایک عرصے سے ان کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتی آرہی ہے۔ اب اس مطالبے کی حمایت تحریک انصاف نے بھی کر دی ہے۔ سانحہ کوئٹہ کے تناظر میں عدالت عظمی کے کمیشن نے جو جامع رپورٹ مرتب کی ہے اس کے بعد وزیر داخلہ کو رضاکارانہ طور پر استعفیٰ دے دینا چاہیے تھا لیکن نہ انہوں نے مستعفی ہونے کی پیش کش کی ہے اور نہ وزیر اعظم نے ان سے استعفیٰ طلب کیا ہے۔ اس کمیشن کی رپورٹ پر حکومت کی جانب سے جو پہلا ردِ عمل آیا ہے وہ رانا ثنا اللہ کا ہے جنہوں نے اس رپورٹ کو یکطرفہ قرار دے دیا ہے۔( انا للہ و انا الیہ راجعون)۔ دیکھ لیجئے ہمارے ہاں تحقیقاتی کمیشنوں کی رپورٹ کی یہ توقیر ہوتی ہے۔ اگر کسی نے ان رپورٹوں کی روشنی میں اپنی اصلاح نہیں کرنی اور غفلت کے مرتکب کسی شخص کو اگر سزا نہیں ملنی تو پھر اس طرح کے کارلاحاصل کا کیا فائدہ؟ یہ دوسرا موقع ہے کہ مسلم لیگ ن کی حکومت تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کو مسترد کر رہی ہے۔ جسٹس باقر نجفی پر مشتمل یک رکنی کمیشن تو پنجاب حکومت کا اپنا بنایا ہوا تحقیقاتی کمیشن تھا۔ اس کمیشن کی رپورٹ کو مسترد کر دیا گیا چونکہ سانحہ ماڈل ٹان کی مکمل ذمہ داری اس کمیشن نے پنجاب حکومت پر ڈالی تھی۔ کل ہائی کورٹ کے معزز جج صاحب کی تیار کردہ رپورٹ کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا گیا ' آج سپریم کورٹ کے معزز جج کی رپورٹ کا تمسخر اڑایا جا رہا ہے۔ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ وفاقی حکومت اس رپورٹ کو چنداں اہمیت نہ دے گی۔ مسلم لیگ ن کی حکومت کا یہ وہ رویہ ہے جس کو مدِنظر رکھتے ہوئے ملک کی اعلی ترین عدالت کے معزز جج صاحبان پکار پکار کر اصلاح احوال کا کہہ رہے ہیں مگر حکومت ٹس سے مس نہیں ہو رہی۔ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے جو کہا سو کہا وفاقی حکومت کے دیگر اداروں کے بارے میں دوسرے جج صاحبان کی رائے آئے روز میڈیا و اخبارات کی زینت بنتی ہے۔ چند روز قبل رینٹل پاور کے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران جسٹس عظمت شیخ نے وفاقی حکومت کے احتسابی ادارے نیب کے بارے میں جو کچھ کہا وہ ابھی تک ہماری سماعتوں میں موجود ہے۔ پانامہ پیپرز کیس میں عدالت عظمی کے لارجر بنچ کے ریمارکس یہ تھے کہ ایف بی آر' ایف آئی اے اور نیب اپنی ذمہ داری کی ادائیگی میں صریحا ناکام رہے ہیں۔ بیڈ گورننس کی اصطلاح اور کس تناظر میں بولی جاتی ہے؟ حکومت کی گورننس کا عالم یہ ہے کہ عدالت عظمیٰ کے معزز چیف جسٹس یہ کہتے ہوئے رخصت ہو رہے ہیں کہ'' اکثر سرکاری ادارے اپنے فرائض کی ادائیگی میں مکمل طور پر ناکام نظر آتے ہیں اور وہاں بدعنوانی اور اقربا پروری کا بازار گرم ہے''۔لاہور اور راولپنڈی کی میٹرو بس سروس اور چند سڑکوں اور شاہراہوں کی تعمیر کا کریڈٹ مسلم لیگ ن کو دے بھی دیا جائے تو وطن عزیز میں جاری افراتفری' تفرقہ بازی ' اقربا پروری ' بدانتظامی اور معاشی ناانصافی کی چارج شیٹ پر ہر شخص لیگی حکومت کی تعریف کی بجائے مذمت کرتادکھائی دے گا۔ سانحہ کوئٹہ کی تحقیقاتی رپورٹ کو ردی کی ٹوکری میں پھینکنے کا مطلب یہ ہوگا کہ کل کلاں پانامہ پیپرز کے مقدمے میں عدالت عظمی کے بننے والے کسی کمیشن کی رپورٹ کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا جائے گا۔ آج ایک بار پھر مسلم لیگ ن کی حکومت کا امتحان ہے کہ وہ عدلیہ کی مرتب کردہ رپورٹ پر سخت ایکشن لینے کی روایت قائم کرتی ہے یا پھر ہمیشہ کی طرح اپنے خلاف آنے والی رپورٹوں کو سازش اور یکطرفہ قرار دے کر ردی کی ٹوکری میں ڈال دیتی ہے۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 





     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved