چلہ کلاںآ گیا
  20  دسمبر‬‮  2016     |     کالمز   |  مزید کالمز

چلہ کلاں کے لغوی معنی'' 40بڑے ''ہے۔یعنی شدت کی سردی کے چالیس ایام۔ایسی ٹھنڈ جو خون کو بھی جما دے۔شاید'' کانگڑی'' اور'' فیرن'' اسی وجہ سے ایجاد ہوئے۔منفی ڈگری درجہ حرارت میں پانی کے نلکے جم کر پھٹ جاتے ہیں۔معروف جھیل ڈل جم جاتی ہے۔ یوں تو چلہ پرانے زمانے میں اولیائے کرام کی جانب سے دنیا و ما فیھا سے بے خبر اور دور کسی پاک جگہ ، پہاڑ یا جنگل میں اللہ کو یاد کرنے کی مناسبت سے جانا جاتا رہا ہے۔ چلہ یعنی چالیس دن۔ چالیس دن اللہ تعالیٰ کی عبادت۔ رہبانیت اگر چہ اسلام میں منع ہے،یعنی انسان کو دنیا ترک کرنے اور جنگل اور بیابانوںکی راہ لینے کی ہر گز اجازت نہیں۔ ہمیںحقوق اللہ اورحقوق العباد دونوں کی ہدایت ہے۔ اللہ اور اس کے بندوں کے حقوق لازمی ہی نہیں بلکہ لازم و ملزوم ہیں۔بلکہ اللہ کے بندوں کے حقوق پر بہت زیادہ توجہ دی گئی ہے اور تاکید ہے۔یہ بھی کہانیوں میں درج ہے کہ چلہ کے دوران لوگ غائب بھی ہو جاتے تھے۔ کچھ لوگ جنات پر غلبہ پانے کے لئے بھی چلے کاٹتے تھے۔ لیکن زیادہ تر چلوں کا تعلق عبادت سے جوڑا گیا ہے۔ آج کے دور میں دین کی تبلیغ پر جانے والے چالیس ایام تبلیغ کے لئے لگائیں تو وہ اسے بھی چلہ قرار دیتے ہیں۔ لیکن زیر بحث چلہ کلاں، دراصل سردی سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کا کشمیر کی ثقافت اور تہذیب سے تعلق ہے۔ شدید سردی کے 40دن۔ یہ دن 22دسمبر یا 9پوہ سے شروع ہوتے ہیں۔ کڑاکے کی سردی۔ پھر چلہ خورد ہے۔ پھر چلہ بچہ۔ چلہ کا فارسی میں مطلب چالیس ہے۔ یوں چلہ خورد کا مطلب کم سردی کے چالیس دن ہو سکتا ہے۔تا ہم چلہ خورد چلہ کلاں کے بعد 20دن کو کہتے ہیں۔ چلہ خوردکے بعد کے 10 ایام کوچلہ بچہ کہا جاتا ہے۔ اس طرح 21دسمبر سے 31جنوری تک چلہ کلاں، یکم فروری سے 20فروری تک چلہ خورد(چھوٹے )، 21فروری سے یکم مارچ تک چلہ بچہ ہوتا ہے۔ ''چلہ کلاں '' ایک بار پھر 21دسمبر سے آ گیا ہے۔جسے ہم خوش آمدید کہتے ہیں۔دھند یا کہر، چلہ کلاں نہیں۔بلکہ ان کا بھی اسی موسم میں راج رہتا ہے۔ اس کی وجہ سے پنجا ب اور کے پی کے میں نظام زندگی درہم برہم ہو جاتی ہے۔ حادثات رونما ہوتے ہیں۔جی ٹی روڈ اور موٹر ویز پر گاڑیاں چلانا مشکل ہو جاتاہے۔ جہازوں اور ٹرینوں کے شیڈولز میں خلل پڑتا ہے۔ ایران اور کشمیر میںچلہ کلاں ایک اہم جشن کا نام ہے۔ جشن بہاراںکی طرح شدید سردی کی آمد کا جشن۔ چلہ کلاں کیا ہے۔ یہ دو الفاظ کا مجموعہ ہے۔ دونوں فارسی کے جملے ہیں۔ ظاہر ہے ان کا فارس یا ایران سے ایک خاص تعلق ہے۔ اس لئے بھی کہ کشمیر کو ایران صغیر کہتے ہیں۔ ابچلہ کلاں کشمیر میں زبان زد عام ہے، راولپنڈی اور اسلام آباد، لاہور ، دہلی تک اس کا چرچاپہنچتا ہے۔دھند اس کی مشترکہ روایت ہے۔ یہ شہرت اس لئے نہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں 166دن سے ہڑتالیں، کرفیو ، مظاہرے ہو رہے ہیں۔ کشمیریوں پر پیلٹ، پاوا کی فائرنگ ہو رہی ہے۔ زہریلی گیسوں کی شیلنگ کی جاتی ہے۔ ہزاروں افراد ہسپتالوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ سینکڑوں کو بینائی سے محروم کیا گیا ہے۔ان میں بچوں کی تعداد زیادہ ہے۔پیلٹ فائرنگ کے شکار سیکڑوں طلبا ء و طالبات اس بار امتحانات نہ سکے۔ بھارت نے ان کا مستقبل تاریک کر دیا ہے ۔ بھارت کی جمہوریت کشمیر میں نظر نہیں آتی۔ وہاںکشمیریوں پر بدترین مظالم اور قتل عام کی پریشانیوں سے زیادہ سیاستدانوں کو کرسی کی فکر ہے۔ یہ خطہ ان دنوں شدید سردی کی لپیٹ میں ہے۔ خون کو جما دینے والی سردی۔ کشمیر کے لداخ ریجن میں دراس ایسا علاقہ ہے جس کا درجہ حرارت منفی 40ڈگری تک پہنچ جاتا ہے۔ کرگل جنگ کے دوران اس علاقہ سے گزرہوا تو چلہ کلاں کا احساس سختی سے ہونے لگا۔گلگت بلتستان کی دوسری طرف بھارت کے قبضہ میں یہ علاقہ سائیبیریا کے بعد دوسرا سرد ترین علاقہ ہے۔ سائیبیریا میں جب شدید سردی ہوتی ہے تو وہاں کے پرندے فرار ہو کر وادی کشمیر بھی آ جاتے ہیں۔ وادی میں ''ہوکر سر''، جھیل ڈل، جھیل ولراور دیگر جھیلیں ان مہمان پرندوں کی چہک سے گونج جاتی ہیں۔ راولپنڈی اسلام آباد میں بھی ان مہمان پرندوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔ان پرندوں کے ساتھ دلفریب داستانیں وابستہ ہیں۔ لیکن انہیں جاسوس پرندے یا سراغ رساں کبوتر نہ سمجھا جائے۔سائیبیریا اور کشمیر کا تعلق قدیم لگتا ہے ۔اب روس اور پاکستان کے تعلقات میں بہتری آ رہی ہے اور معاہد بھی ہو رہے ہیں۔ یہ مثبت پیش رفت ہے۔کڑاکے کی اس سردی کو کشمیری خوب انجوائے کیا کرتے تھے۔ برفباری۔ ہاتھ میں کانگڑی(دہکتے کوئلوں سے بھری مخصوص انگیٹھی، جس کا بھارتی فورسز کے خلاف کوئلہ بم کے طور پر بے تحاشا استعمال ہوا)۔ فرن(چوغہ) زیب تن۔ سماوار(کشمیری تھرماس جس میں کوئلے دہکتے ہیں) کی چائے۔ سردیوں میں وادی میں تعلیمی اداروں کو اڑھائی ماہ کی تعطیل ہوتی ہے۔ آج کل سرینگر میں معروف جھیل ڈل بھی جم چکی ہے۔یہاںکبھی چلہ کلاں کے جشن کا اہتمام ہوتا تھا۔ ایران میں آج بھی جشن بہاراں کی طرح چلہ کلاں منایا جاتا ہے۔ ایران میں چلہ کلاں کے جشن کے دوران تعطیلات ہوتی ہیں۔ ایرانی جشن مناتے ہیں۔ اس تعلق کی ایرانیوںکو شاید کوئی خبر نہ ہو ۔ وہ گیس پائپ لائن دہلی سے آگے کشمیر پہنچا دینے کا بھی سوچیںیا کشمیر کو راولپنڈی سے ہی کوئی کنکشن پہنچانے پر غور کیا جائے۔ شاہ ہمدان کا کشمیر۔امام خمینی بھی کشمیری تھے۔ لیکن امریکہ سے ایٹمی معاہدے کے بعد ایران نے پاکستان کے ساتھ تعلق پر از سر نو غور کیا ہے۔کمال ہے امریکہ نے ایران اور بھارت کو پاکستان کا نعم البدل بنانے کی مہم جوئی شروع کی ہے۔ بھارت اسی تعلق کی وجہ سے ایران میں بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ یہ'' دربار مو'' ہے۔حکمرانوں کے دربار اور درباری سرینگر میں سردی کی آمد کے ساتھ ہی اپنے دفاتر سمیت جموں منتقل ہو جاتے ہیں۔صرف حکمرانوں کے تحفظ کے لئے۔ دہائیوں بعد بھی یہ روایت چلی آ رہی ہے۔ آج دفاتر سرینگر سے 300کلو میٹر دور جموں میں ہیں۔ یہ سول سکریٹریٹ سے وابستہ دفاتر ہیں۔گرمیوںکے 6ماہ سرینگر میں اور سرما کے 6ماہ جموں میں۔ ان دفاتر کا عملہ ہی نہیں بلکہ پورا ساز و سامان منتقل ہوتا ہے۔ شاہی دربار کی منتقلی۔ راجوں مہاراجوں کا مزاج اور روایات آج بھی کشمیری قوم پر مسلط ہے۔ اسے عمر عبد اللہ اور اب محبوبہ مفتی بھی نہ بدل سکیں۔ ان کے مزاج بھی راجوں مہاراجوں والے ہیں۔اب چلہ کلاں نے جموں کا بھی رخ کر لیا ہے۔ جموں جو سیالکوٹ کا کبھی جڑواں شہر تھا۔ ائر مارشل(ر)اصغر خان، چوہدری غلام عباس کا شہر۔ اب چلہ کلاں نے دربار مو کا جواز بھی ختم کر دیا ہے۔ شاید حکمرانوں کو اب اشارہ مل جائے اور ہوش میں آنے کی کوشش کریں۔ اب عوام کو چلہ کلاں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر راہ فرار کا کیا فائدہ۔ یہ اب جموں ہی نہیں بلکہ دہلی، لاہور تک پہنچ رہا ہے۔ اس نے پنجاب کو بھی نہیں بخشا۔موسم کی بڑی تحقیر ہوچکی۔ یہاں تک طنزاً کہا گیا کہ لیڈر ملاقات کریں تو موسم کی بات تو نہیں کریں گے۔ لیکن بدلتے موسم اپنا لوہا منوا رہے ہیں۔ جب یہ خود بدلے تو ان کے بارے میں آراء بھی لوگ بدلنے پر مجبور ہوئے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved