مشرقِ وسطیٰ میں استعمار ی یلغار
  23  دسمبر‬‮  2016     |     کالمز   |  مزید کالمز
(گزشتہ سے پیوستہ) اخوان کے بارے میں مصرسے باہرکے لوگ کچھ بھی نہیں جانتے تھے۔٦٤٩١ء میں اخوان المسلمون کے بعض ارکان نے برطانوی سامراج کے خلاف کچھ سرگرمیاں شروع کردی تھیں۔مصرمیں صنعتی سرمایہ کاری اورمغرب کے جدیدرحجانات نے ایک متوسط طبقے کوجنم دیا جو اخوان سے متاثرتھا۔٨٤٩١ء میں اخوان کے مصرمیں دوہزاردفاتراورپانچ لاکھ سے زائد ہمدرد پیداہوچکے تھے۔اسی دوران اخوان نے مصرمیں اسکول ،اسپتال اوردواخانے قائم کیے جس سے اخوان کی شہرت بڑھتی چلی گئی اورحکومت وقت اسے اپنے لیے ایک خطرہ محسوس کرنے لگی۔ اخوان پرپابندی لگادی گئی اوراس کے بیشتررہنماؤں کوگرفتارکرلیاگیا۔ردّ ِ عمل میں اخوان کے ایک کمسن رکن نے مصرکے وزیراعظم کوقتل کردیا۔حسن البنا نے فوری طورپراس کی شدیدمذمت کی لیکن ٩٤٩١ء میں حسن البناکوحکومت کے اپنے خفیہ ادارے نے شہیدکردیا۔ حسن البناکی اس وقت عمر٣٤سال تھی۔٢٥٩١ء میں مصری فوج اخوان المسلمون کے ساتھ مل کرمصرمیں بادشاہت کوختم کرنے میں کامیاب ہوگئی لیکن بعدمیں جب مصرکے صدر جمال عبدالناصرسیکولرازم کے راہ پرگامزن ہوئے تواس سے حکومت وقت اوراخوان میں شدیداختلافات پیداہوگئے جس کے ردّ ِ عمل میں ناصرنے اخوان پرپابندی لگاتے ہوئے اس کے کئی سرکردہ رہنماؤں کوپھانسی پرلٹکادیامگراخوان اپنے مشن پرقائم رہے اورصبر،ضبط اورتحمل کی عظیم مثال قائم کی۔ اخوان المسلمون اسرائیل کی شدیدمخالف ہے اگرچہ ٩٧٩١ء میں مصری انورسادات نے اسرائیل سے تعلقات قائم کرلئے لیکن یہ بات بالخصوص عالم عرب اوربالعموم عالم اسلام کو انتہائی ناگوارگزری اورمصرمیں بھی شدیدغم وغصے کی لہراٹھی تھی۔٦اکتوبر ١٨٩١ء کواخوان کے ایک رکن میجرخالدنے اپنے ساتھیوں کی مددسے انوارسادات اوراس کے چند ساتھیوں کوقتل کردیاجب وہ جنگ ٣٧٩١ء کی فتح کی یاد میںچبوترے میں کھڑے سلامی لے رہے تھے۔ انوار سادات کویہ سزااس کی امریکاوراسرائیل دوستی کی وجہ سے دی گئی ۔مسلم دنیامیں اخوان المسلمون کے اس اقدام کوسراہاگیا اورآج بھی انورسادات کے قاتل میجرخالدکانام عرب دنیامیں انتہائی احترام سے لیاجاتاہے،اس سے اخوان کیلئے نئے مسائل پیدا ہو گئے مگراخوان نے تحریک پھربھی جاری رکھی۔اگرچہ مصرکے سابق صدرحسنی مبارک نے اپنے تیس سالہ دورِا قتدارمیں اخوان کودبانے کی ہرممکن کوشش کی لیکن اخوان نے اپناکام جاری رکھا۔ حسنی مبارک ایک انتہائی کرپٹ اوراامریکی ویہودیوں کاپٹھوتھا۔١١٠٢ء میں عرب سپرنگ کے نتیجے میں اسے اقتدارسے علیحدہ ہوناپڑا۔مصرمیں عام انتخابات میں اخوان المسلمون بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئی اوراخوان لیڈرمحمدمرسی مصرکے صدرمقررہوئے۔اخوان المسلمون کے بارے میں ایک تاثریہ ہے کہ یہ ایک انتہائی قدامت پسندنظریات کی حامل جماعت ہے،بعض اسے لبرل اورجمہوریت پسندجماعت بھی کہتے ہیں لیکن حقیقت سے آگاہ اہل فکرونظرجانتے ہیں کہ اصل میں اخوان ان دونوں نظریات کے درمیان ایک اعتدال پسندجماعت ہے۔بعض کے نزدیک اسے سراسرمذہبی جماعت خیال کیاگیاتوبعض نے اسے سیاسی حقیقت قراردیاجبکہ اس جماعت نے مذہب وسیاست کی ہم آہنگی حقیقت جان کراسے اپنامقصدِ تحریک بنایا۔یہ جماعت مصرکوجدیدعلوم سے روشناس کرواتے ہوئے ایک بہترمعاشرے اوراتحادکی خواہاں ہے لیکن اخوان مصر کومغرب کے پاگل پن سے بھی بچاناچاہتی ہے۔ اخوان المسلمون امریکا،اسرائیل اوردوسرے بدمعاش یورپین ملکوں کے خلاف ہے مگرمخالفت کے باوجوددنیاسے مل کرچلناچاہتی ہے۔اخوان عرصہ درازتک زیرزمین پارٹی کے طورپر سرگرم رہی۔١١٠٢ء سے ٣١٠٢ء تک اخوان مسلمون کی منتخب حکومت رہی لیکن امریکااوراسرائیل اس دوران مسلسل اسے اپنے لئے ایک بڑاخطرہ سمجھتے رہے اورانہیں یقین تھاکہ بالآخراسرائیل سے تعلق ختم کرلے گی۔اس سے قبل امریکاصدام اورقذافی کواپنے خلاف سراٹھانے کی سزادے چکاتھا۔امریکی اشارہ ملتے ہی مصری فوج نے منتخب حکومت کو جبر١ً معزول کرکے اقتدارپرناجائزاورغیرقانونی طورپرقبضہ کرکے مرسی اوراخوان کے ہزاروں افرادکوگرفتارکرکے جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا۔ اب اخوان ایک مرتبہ پھرزیرعتاب ہے، مصر کاپہلامنتخب صدرمحمدمرسی سلاخوں کے پیچھے اپنے لیے سزاکامنتظرہے۔جمہوری طورپرمنتخب صدرکے خلاف مقدمات میں ایک اپیل کورٹ نے اس کی سزائے موت کے فیصلے پرنظرثانی کاجوامکان پیداکیاہے بعض لوگ اس پراطمینان کااظہارکررہے ہیں مگریہ محض خوش فہمی ہے۔اولاً استعمار اورصہیونیت کامصرپر غلبہ ہے۔فوج ہویاعدلیہ ان اداروں کے اعصاب بھی مکمل طورپراس غلبے کے تابع ہیں،ثانیاً امریکا جوخودکودنیاکی بڑی جمہوریت ثابت کرنے میں کوشاں رہتاہے جنگ عظیم دوم کے بعدہمیشہ ڈکٹیٹرکادوست رہاہے۔امریکی مفادات کے خلاف اگرجمہوریت نے بھی کہیں سراٹھایاتوامریکانے اسے سختی سے کچل دیا۔ہاتھی کے دانت کھانے کے اوردکھانے کے اورہوتے ہیں،اس لئے اخوان کے سرپرابھی بہت سی آزمائشیں منڈلارہی ہیں اورمشرقِ وسطیٰ اوربرصغیرمیں بھی اسلامی تحاریک کی نامساعدتوںکابھرپورادراک واحساس کرتے ہوئے پھونک پھونک کرقدم اٹھاتے ہوئے دشمن کی ریشہ دوانیوں سے عہدہ برأ ہوناہوگا۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 





     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved