ہائے نیب
  24  دسمبر‬‮  2016     |     کالمز   |  مزید کالمز
شاعر نے کہا تھا آعندلیب مل کر کریں آہ وزاریاں.... ''تو ہائے گل پکار میں پکاروں ہائے دل''کیا یہ انہونی دنیا کے کسی اور ملک میں ہوتی ہوگی جو یہاں میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری کا ''نیب'' پلی بارگین کیا یہ انہونی دنیا کے کسی اور ملک میں ہوتی ہوگی جو یہاں میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری کا ''نیب'' پلی بارگین کے تحت سرانجام دے رہا ہے۔ نیب 1999 میں اگرچہ جنرل مشرف نے بنایا تھا مگر آصف زرداری نے ہمارے پانچ سال اور نواز شریف نے اپنے ساڑھے تین سال اس نیب کو کام کرنے دیا تو یہ ادرہ جیسے جنرل پرویز مشرف کا تھا ویسے ہی یہ اب نواز زرداری کا بھی ہوگیا ہے۔ میثاق جمہوریت میں اتفاق کرنے کے باوجود نواز شریف اور آصف زرداری نے کیوں نیب کو ختم نہ کیا؟ احتساب کا نیا ادارہ بنانے میں اگر کسی مشکل کا سامنا تھا تو کم از کم نیب کی ری سٹرکچرنگ ہی کر دیتے تاکہ ''پلی بارگین'' جیسے مضحکہ خیز لطیفوں سے تو ہماری جان چھوڑ جاتی۔ قوم کے ساتھ اس سے بڑا مذاق اور کیا ہوگا کہ اربوں اور کھربوں روپے چوری کرنے والوں کو ''پلی بارگین'' کے تحت معمولی ریکوری کے بعد کلین چٹ دی جارہی ہے۔ بلوچستان کے ایک مشیر کے فرنٹ مین اور سیکرٹری خزانہ مشتاق رئیسانی کی پلی بارگین کی درخواست نیب کے ایگزیکٹو بورڈ نے قبول کرکے اس نظام احتساب کے منہ پر زور دار چانٹا مارا ہے۔ جو نواز شریف عہد میں ویسے ہی چل رہا ہے جیسے پرویز مشرف اور زرداری دور میں چلتا آرہا ہے۔ مشتاق رئیسانی کا کیس تو اوپن اور شٹ کیس تھا' اس کے بعد کیا پلی بارگین جیسی برائی سرزد کرنے کی کوئی گنجائش بنتی تھی لیکن نواز شریف اور زرداری کے پاکستان میں سب کچھ جائز ہے۔ زرداری صاحب کی سندھ حکومت کے اپنے ایک وزیر کے گھر سے کروڑوں روپے برآمد ہوئے وہ کسی دوسرے کو ایسی چوری کی سزا کیونکر دینے پر آمادہ ہونگے۔ زرداری صاحب کے نامزد کردہ وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کے خلاف اس وقت نیب عدالتوں میں آٹھ ریفرنس دائر ہیں جبکہ دو فیصد ریفرنسز کی منظوری ایگزیکٹو بورڈ نے بروز بدھ دے دی ہے۔ پی پی پی کے دوسرے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی بھی نیب ریفرنسز کی وجہ سے عدالتوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ یعنی جہاں آوے کا آوا بگڑا ہو وہاں کسی بھلائی کی کیا توقع کی جاسکتی ہے۔ اب کوئی سوال پوچھ سکتا ہے کہ جناب آپ تو ''نیب'' کے اس قدر خلاف تھے آپ نے اقتدار ملنے کے بعد نیب کو ختم کیوں نہ کیا؟ اس سوال کا آسان جواب ہے کہ نیب ہر اس حکمران کو سوٹ کرتا ہے جو کرپشن کے بعد پلی بارگین پر یقین رکھتا ہو۔ جنرل پرویز مشرف کا مقصد بھی یہی تھا اور آصف زرداری اور نواز شریف کو بھی نیب کا موجودہ سٹرکچر اپنی خواہشات کی تکمیل کے لئے سوٹ کرتا ہے۔ کل آپ کو یہ خبر یقینا سننے کو مل سکتی ہے کہ پیپلزپارٹی کے دونوں سابق وزیراعظم نیب کی عدالتوں سے سرخرو ہو کر نکلے ہیں۔ جہاں احتساب کا ادارہ ایسے گل کھلانے والا ہو کر 40ارب روپے کی کرپشن میں ملوث سیکرٹری خزانہ کو فقط دو ارب روپے کی پلی بارگین کے تحت چھوڑ دیا جائے وہاں کوئی کیسے توقع کر سکتا ہے کہ مسند اقتدار پر بیٹھنے والوں کا صحیح احتساب نیب جیسا ادارہ کرے گا۔ نواز شریف نے اپنے سابقہ ادوار میں احتساب کا جو ڈول ڈالا تھا اس کا ہدف صرف پیپلزپارٹی اور آصف علی زرداری تھے' یعنی یہ ایک ایسا احتساب تھا جو برابر سیاسی مقاصد کے لئے تھا لہٰذا اس کی بھینٹ مسلم لیگ (ن) میں سے کوئی نہ چڑھا۔ زرداری صاحب اور بے نظر بھٹو بھی اپنی مہارت کی وجہ سے اس احتسابی شکنجے سے بچ نکلے جو سیف الرحمن نے انہیں پھانسنے کیلئے لگایا تھا۔ احتساب کے نام پر مخالفین کی گردنیں مارنے کے لئے غریب قوم کے اربوں روپے ضائع کئے گئے اور کچھ حاصل وصول بھی نہ ہوا۔ اب چونکہ سابقہ دونوں سیاسی حریفوں میں صلح ہوگئی ہے چنانچہ احتساب کے نعرے کو بھلا کر مفاہمت کا نیا کھیل کھیلا جارہا ہے۔ مفاہمت کے اس کھیل کا بنیادی اصول ہے کہ ایک دوسرے کی بدعنوانی پر پردہ ڈالا جبکہ اگر مخالفت کرنا سیاسی مجبوری ہو تو محض زبانی جمع خرچ تک بیانات کو محدود رکھا جائے۔ اس اصول کا پنجابی محاورہ کچھ یوں بنتا ہے ''وچووچوں کھائی جائو تے اتوں رولا پائی جائو'' ذرا غور کیجئے کہ یہ دونوں سیاسی جماعتیں اگر احتساب میں سنجیدہ ہوتیں تو کیا نیب کا ادارہ اپنی موجودہ شکل میں قائم رہ سکتا تھا؟ کہ یہ دونوں سیاسی جماعتیں اگر احتساب میں سنجیدہ ہوتیں تو کیا نیب کا ادارہ اپنی موجودہ شکل میں قائم رہ سکتا تھا؟ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد صوبائی سطح پر موثر احتساب کا ادارہ قائم کیا جاسکتا ہے' کیا سندھ میں پیپلزپارٹی اور پنجاب میں مسلم لیگ (ن) نے صوبای احتسابی ادارہ قائم کرنے میں اب تک کیا سنجیدگی دکھائی ہے۔ عمران خان کو یہ کریڈٹ تو دیں کہ انہوں نے خیبرپختونخواہ میں برسراقتدار آنے کے بعد احتساب کا ایک موثر ادارہ قائم کیا اور اس کی خودمختاری اور آزادی کو یقینی بنایا۔ اس ادارے کے دو بڑے عہدیداران چیئرمین نیب اور ڈائریکٹر جنرل نیب کی تقرری میں وزیراعلیٰ پرویز خٹک کا کوئی عمل دخل نہ ہے جیسا کہ نیب کے چیئرمین کا تقرر وزیراعظم نواز شریف اور اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کی باہمی مشاورت اور نامزدگی کے نتیجے میں ہوا۔ آپ خیبرپختونخواہ کا نیب ایکٹ پڑھیں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ ایک غیر جانبدار کمیشن تشکیل دینے کے لئے کس طرح کا زبردست سسٹم وضع کیا گیا ہے اس بااختیار احتساب کمیشن کا اثر ہے کہ پختونخواہ میں کوئی بڑا مالیاتی سیکنڈل سامنے نہیں آیا' بیورو کریسی خوفزدہ ہے اور سیاستدان جانتے ہیں وہ کڑی نگرانی میں ہیں' میں نہیں کہتا کہ خیبرپختونخواہ میں گورننس کا بہت اعلیٰ معیار بن چکا ہے لیکن جو چور بازاری ہمیں سندھ کے متعلق سننے کو ملتی ہے اور جس طرح وفاق اور پنجاب کے محکموں میں کرپشن اور لوٹ مار کا بازار گرم ہے کم از کم کے پی کے کی حد تک اداروں میں کرپشن کی باتیں تو سننے میں نہیں آتیں۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved