حلب کے بعد
  25  دسمبر‬‮  2016     |     کالمز   |  مزید کالمز
شام کی جنگ ایک المیہ کی شکل اختیار کرتی چلی جارہی ہے، کون جانتا تھا کہ حقوق کی یہ جدوجہد ملک کو ایک مقتل میں بدل ڈالے گی اور دنیا جہان کے طاقتیں یہاں لاشیں بچھانے آن پہنچیں گی۔اک حلب پر کیا موقوف یہاں سے عوام کا انخلا مکمل ہونے دیں اس کے بعد ادلب اور حماہ کی باری دکھائی دے رہی ہے،اس سے پہلے اسی صوبہ حلب کا مغربی علاقہ بھی خوف کے عالم میں ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سارا علاقہ داعش اور اس جیسی جبہة الفتح الشام کے کنٹرول میں ہے۔معمولی باتوں پر شام کی مقامی مزاحمتی جماعتوں کی پوری قیادت تک کو ختم کردینے پر تل جانے والی یہ تکفیری جماعتیں دشمن کے سامنے نا معلوم کیوں ڈھیر بلکہ بھیڑ دکھائی دیتی ہیں۔حلب میں بھی مقامی شامی تنظیم احرار الشام جس کی حیثیت افغان طالبان کی طرح ہے اور وہ بیرون شام کوئی ایجنڈا نہیں رکھتی ، اس کے دستوں نے مزاحمت کی جب تک وہ رہے ۔ بمباری سے ان کا زور ٹوٹا تو اسدی فوجی اور ان کے اتحادی فرقہ پرست شہر میں داخل ہوئے ، یہ لوگ جب ہسپتالوں اور پناہ گاہوں میںنہتے شہریوں کا قتل عام کر رہے تھے، اس وقت بھی یہ تکفیری گروپ موجود تھے ۔جو اب معاہدہ کے تحت انخلا کر رہے ہیں،لیکن یہ لڑے نہیں، اور نہ ہی ان سے یہ توقع رکھنی چاہئے کہ یہ ادلب اور حماہ میں لڑیں گے۔ شام کی تین سالہ جنگی تاریخ میں جب سے یہ تکفیری سامنے آئے ہیں، مسلمانوں کو سوائے نقصان کے کچھ حاصل نہیں ہوا ،انہوں نے شام کے مزاحمتی گروپوں پر حملے کئے ان کی قیادت کو غدار قرار دیکر قتل کیا جبکہ اسدی فوجوں اور فرقہ پرستوں سے انہوں نے ہمیشہ صلح جوئی کا رویہ رکھا ، معاہدے کئے اور مراعات لیں،ان کے زیر کنٹرول علاقوں میں بھی مقامی مسلمانوں کے ساتھ وہی سلوک روا رکھا جاتا ہے جو اسدی فوج یا دنیا بھر سے لائے گئے فرقہ پرستوں کا وطیرہ ہے ۔ یہاں وہ لوگ غلطی پر دکھائی دیتے ہیں جو اسے فرقہ وارانہ جنگ قرار دیتے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ فرقہ پرست ریاست اسرائیل کی طرح اپنی جنگی حکمت عملی کے تحت د نیا بھر میں پھیلے اپنے ہم مسلک لوگوں کو بیوقوف بنا کر جنگی مقاصد میں ایندھن کے طور پر استعمال کررہی ہے ۔ورنہ یہ جنگ اول وآخر سیاسی ہے،اور اس کے اقتصادی اور توسیع پسندانہ پہلو اس کے علاوہ ہیں۔اگر واقعی یہ جنگ فرقہ وارانہ ہوتی تو القاعدہ سے جنم لینے والی تکفیری داعش،جبہةاور جند الاقصیٰ وغیرہ اسدی فوجوں پر بھی حملہ آور ہوتیں اور امریکہ کی طے کردہ شیعہ ریاست کی حد بندی کو بھی توڑتیں جس کا وہ عقیدے کی طرح احترام کرتی ہے۔القاعدہ قیادت کو ایران میں پروٹوکول نا ملتا ، کوئی تو ہو جو سمجھا سکے کہ حمزہ بن لادن بار بار ایران کیوں جاتا ہے ؟۔ دیکھنے والی آنکھ درکار ہے ورنہ معاملات تو بہت کھلے ہوئے ہیں۔داعش نے عراق میں تقسیم مملکت میںکردار ادا کرکے کس کے ایجنڈے کو پورا کیا؟افغانستان میں اسی داعش نے آتے ہی طالبان پر حملے کرکے امریکی فوجوں کو کیوں ریلیف پہنچایا ؟اور طالبان کی آزادی وطن کی تحریک کو نقصان پہنچایا ۔پاکستان میں گھسنے کی کوشش بھی بلوچ علیحدگی پسندوںکی جانب سے کیوں کر رہی ہے؟شام میں اس کے، اسدی فوجوں اور فرقہ پرستوں کے اہداف ایک کیوں ہیں؟مسجد نبوی پر حملہ کیوں کروایا؟واقعاتی شہادتیں بتا رہی ہیںکہ دانستہ یا نا دانستہ یہ تنظیمیں اسلام دشمنوں کی سہولت کار ہیں۔ 2006 میں آنے والی امریکہ سی آئی اے کے اہلکار Ralph Peterکی رپورٹ Blood Bordersکو سامنے رکھا جائے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ تکفیری ٹولہ صرف وہاں حالات کیوں خراب کر رہا ہے جہاں امریکیوں کو اس کی ضرورت تھی یا ہے؟اردن سی آئی اے کا گڑھ ہے مگر وہاں تکفیری تعلیمات پر کوئی قدغن نہیں، کیوں؟یہی شام اور عراق کے بڑے بڑے دہشت گرد کھلے عام اردن میں پھرتے ہیں مگر کوئی سوال تک نہیں اٹھاتا، کیوں؟۔ اصل قصہ صرف اتنا ہے کہ امریکی اپنے مفادات کے تحت پورے عالم اسلام کی سرحدوں میں تبدیلی چاہتے ہیں،تاکہ سعودی عرب اور شام کو ختم جبکہ پاکستان کو ایک لولی لنگڑی ریاست میں تبدیل کیا جاسکے ،اس کھیل میں اسے ہماری پڑوسی فرقہ پرست ریاست کا تعاون اول روز سے حاصل ہے ، پہلے یہ خفیہ تھا اب سامنے آچکا ، بظاہر دونوں الگ کیمپوں میں ہیں مگر مقاصد ایک ہیں۔ Blood Bordersکا مطالعہ کرلیں اور اس کے بعد ٹی ٹی پی سے لیکر داعش ، جبہة اور اس جیسی دیگر تنظیموں کی سرگرمیاں نقشہ پر نوٹ کرتے جائیں، سارا کھیل سامنے آجائے گا ۔کوئی ابہام باقی نہیں رہے گا ،انشا اللہ۔ پاکستان نے بروقت اس سازش کو پالیا اور اپنے علاقوں میں مشکل مگر بھرپور کارروائی کرتے ہوئے دشمن کی سازش کو ناکام بنا دیا ہے اور اب ٹی ٹی پی اور بی ایل اے جیسی پراکسی جنگجو تنظیمیں غیر موثر ہوچکی ہیں۔چوری چکاری دہشت گردی کی کوئی بڑی وارادت بھی بعید نہیں لیکن اب یہ خطرہ بہرحال نہیں رہا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ خطرہ ٹل گیا ہے ۔ دشمن اپنی سازش ناکام ہوتے دیکھ کر نئی منصوبہ بندی سے پلٹے گا اور پاکستان میں افغانیہ صوبے کی باتیں اسی سلسلہ کی کڑی دکھائی دے ہی ہیں۔ شام کے حوالہ سے ترکی اس وقت ایسا لگ رہا ہے کہ حالات کو سمجھ رہا ہے، تکفیریوں کو الگ رکھ کر احرار الشام کو ساتھ لینے اور بات چیت کا ڈول ڈالنے جیسے اقدامات بہت معمولی مگر درست سمت میںہیں، لیکن یہ تنہا ترکی کے سنبھالنے کا کام نہیں ہے۔ سعودی کوئی بڑا رول براہ راست نہیں کرسکتے کیونکہ فرقہ پرستوں کے ذریعہ سے امریکی انہیں ایک تو یمن میں پھنسا چکے ہیں، دوسرا انہیں متنازع بنا دیا گیا ہے۔گوکہ اس میں ان کی اپنی نااہلی اور عاقبت نا اندیشی بھی کچھ کم نہیں۔مصر کے بیوقوف مگر مفاد پرست سربراہ جنرل السیسی کی تازہ قلابازی نے اسے بھی حل کے بجائے مسئلہ کا حصہ بنا دیا ہے، اردن امریکی اور اسرائیلی انٹیلی جنس کا مہرہ ہے ، لبنان فرقہ پرستوں کے چنگل میں بہت پہلے سے ہے ، خلیجی ریاستیں تلور شکار کرنے کے سوا کچھ کرنے سے قاصر ہیں ان میں سے بھی کویت اور بحرین میں تخریب کے بیج بوئے جا چکے ہیں۔لے دے کر صرف قطربچتا ہے جو ترکی سے مل کر کوئی کردار ادا کر سکتا ہے۔اسے ایک طرف معاشی آزادی حاصل ہے، دوسرے عسکری طور پر بھی وہ قابل ذکر قوت کی حامل ہے، جبکہ اپنا یوم آزادی حلب سے یکجہتی کے لئے منسوخ کرکے اور پھر بے پناہ عطیات دیکر وہاں کی حکومت اور عوام ثابت کر چکے ہیں کہ انہیں معاملہ کی سنگینی کا اندازہ بھی ہے اور وہ دل درد مند بھی رکھتے ہیں۔لیکن یہ کافی نہیں،ان کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ایک قدم آگے بڑھیں اور ترکی سے مل کر یا آزادانہ طور پر صلح اور بچائو کی راہ نکالیں ، تاکہ شام میں لگی اس آگ کو وہیں بجھایا جا سکے ۔یہ ان کے بھی فائدہ میںہے، اگر ایسا ناکیاگیاتو پھر کچھ بھی نہیں بچے گا اور کوئی بھی محفوظ نہیں رہ سکے گا ۔خصوصاً پٹرول جیسے وسائل رکھنے والے تو بالکل بھی نہیں۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved