روہنگیامسلم کی آہ وفغاں
  25  دسمبر‬‮  2016     |     کالمز   |  مزید کالمز
ابھی شام کے مسلمانوں پرعذاب ختم نہیں ہواکہ برماکے مسلمانوں کی چیخ وپکارنے دہلاکررکھ دیاہے۔ ٥٢نومبرکومیانمارمیں روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام اوران پرفورسزکے وحشیانہ مظالم کے خلاف انڈونیشیا،ملائشیا،تھائی لینڈ اور بنگلہ دیش میں مسلمانوںنے میانمارمخالف مظاہرے کئے لیکن اس کے بعدپھرسے عالم اسلام اوراقوام عالم میں کوئی جنبش نہیں ہوسکی دوسری طرف اقوام متحدہ نے ایک بارپھرکہاہے کہ میانمار، روہنگیامسلمانوں کی نسل کشی کررہا ہے، فرانسیسی نیوز ایجنسی کے مطابق ملائشیاکے دارلحکومت کوالالمپورمیں میانمارکے سفارت خانے کے باہرمسلمانوں نے روہنگیامسلم برادری پرفورسزکے ظلم وتشدداورقتل عام پرشدیداحتجاج کیا۔ بنگلہ دیشی دارلحکومت ڈھاکہ میں پانچ ہزارسے زائدافرادنے نماز جمعہ کے بعدمیانمارحکومت کے خلاف احتجاج کیا،اسی طرح جکارتہ اوربنکاک میں بھی میانمارسفارتخانوں کے سامنے شدیداحتجاجی مظاہرکئے گئے۔ مظاہرین آنگ سان سوچی کی حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتے رہے اورعالمی برادری سے روہنگیامسلمانوں کاقتل عام رکوانے کیلئے کرداراداکرنے کامطالبہ کرتے رہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے برائے پناہ گزین کے سربراہ جان مک کسک نے ایک بارپھر بنگلہ دیش کے سرحدی حصے کاکس بازارمیں میڈیاسے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ'' میانمار اپنی سرزمین سے اقلیتی روہنگیامسلمانوں کی نسل ختم کرناچاہتاہے۔ اس مسئلے کے حل کیلئے میانمارمیں بنیادی اسباب پرفوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔میانمارکی فوج اورسرحدی پولیس ریاست رخائن میں گزشتہ ماہ ٩بارڈرگارڈزکی ہلاکت کے بعدروہنگیابرادری کواجتماعی طور پر سزا دینے میں ملوث ہے۔سیکورٹی فورسزمردوں کوگولیاں مارنے، بچوں کوذبح کرنے،خواتین کوبے آبرو کرنے، گھروںکوجلانے،لوٹ ماراورلوگوں کو بنگلہ دیش کی طرف دریاعبور کرنے پر مجبور کر رہی ہیں۔ابھی پچھلے جمعہ کوپھراطلاع ملی ہے کہ فوج نے فرارہونے کی کوشش کرنے والے دیہاتیوں پراندھادھندفائرنگ کرکے ان کو سرحد کی طرف جانے پرمجبورکردیا''۔ دوسری طرف بنگلہ دیش نے کہاہے کہ اس کی سرحدپرہزاروں روہنگیامسلمان جمع ہیںتاہم اس نے سرحدبندکررکھی ہے۔ایک پچاس سالہ روہنگیامسلمان نے سسکیاںبھرتے ہوئے بتایا کہ :فوجیوں نے ہمارے گاؤں میں داخل ہوکرپچاس خواتین اورجوان لڑکیوں کوکمروں میں بندکرکے ان سے اجتماعی زیادتی کی اورانہیں شدیدتشددکانشانہ بنایا۔ایک اورمسلمان نے بتایاکہ ہمارے گاؤں میں درندہ صفت فوجی جمعے کی صبح کوداخل ہوئے اوران کے خوف سے فرار ہونے والے نہتے مسلمانوں پراندھادھندفائرنگ شروع کردی جس سے لاتعدادبے گناہ مسلمان شہید ہوگئے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کاکہناہے :میانمار کی فوج ملک کے دس لاکھ روہنگیامسلمانوں کو اجتماعی سزادے رہی ہے۔انتہائی اذیت ناک حقیقت یہ ہے کہ میانمارپراس آنگ سان سو چی کی حکومت ہے جوحقوق انسانی کی علمبردار ہوا کرتی تھی مگراسے روہنگیاکے مسلمانوں سے خدا واسطے کا بیرہے سوچی پر چاروں طرف سے بھرپور تنقید ہورہی ہے مگراسے پرکاہ کے برابرپرواہ نہیں۔ سوچی میانمارمیں فوجی جنتاکے خلاف مزاحمت کی علامت سمجھی جاتی تھی اوراسے جمہوریت اورانسانی حقوق کیلئے عدم تشددپرمبنی جدوجہدپر ١٩٩١ء میں نوبل کاامن ایوارڈ دیاگیا۔اس وقت وہ میانمارمیں حکومت چلارہی ہے لیکن روہنگیامسلمانوں کونظراندازکرنے کی وجہ سے بین الاقوامی حلقوں میں شدیدتنقیدکانشانہ بن رہی ہے۔اکانومسٹ نے اسے روہنگیا مسلمانوں کے بارے میں واضح اوراصولی مؤقف نہ اپنانے کی وجہ سے شدیدتنقیدکاہدف بنایاہے جبکہ بی بی سی پرمشعل حسین نے انٹرویوکے دوران میں اس کی توجہ روہنگیا مسلمانوں کی زبوں حالی کی طرف دلائی تواس نے کہاکہ میانمارمیں مسلمانوں کے خلاف نسلی امتیازروانہیں رکھا جا رہا جبکہ مسلمانوں کی دہشتگردی کی وجہ سے ایساہورہا ہے ۔ انٹرویو کے بعداسے مشعل حسین کے مسلمان ہونے کاپتہ چلاتواس پرسخت اعتراض کیاکہ ایک مسلمان نے اس کاانٹرویوکیوں لیا؟ (جاری ہے) چودھویں دلائی لامہ نے بھی سوچی کوروہنگیامسلمانوں کے حق میں آوازاٹھانے کوکہاہے لیکن وہ ایسانہیں کررہی۔٦١٠٢ء میں میانمارمیں مقرہونے والے امریکی سفیرکوسوچی نے کہا کہ روہنگیامسلمانوں کانام لئے بغیران کے بارے میں پبلک میں بات کرے لیکن سفیرنے سوچی کی بات نہ مانی توسوچی نے اس کے خلاف برمی عوام سے احتجاج کروادیا۔اب یہ پوری معقول ومتوازن دنیاپرسوچی کی اصل سوچ روزِ روشن کی طرح واضح ہوچکی ہے۔انسانی حقوق کانام لینے والی محض الفاظ کے ہیر پھیر سے دنیاکے عام وسادہ افرادکوبے وقوف بنارہی ہے۔ روہنگیامسلمان میانمارکی ریاست رخان کے باسی ہیں۔روہنگیااوربعض اسکالرزکاکہناہے کہ کہ ان کاتعلق رخائن ریاست سے ہے جبکہ بعض مؤرخ اس کاتعلق بنگال سے جوڑتے ہیںاوران کاکہناہے کہ کہ وہ برطانوی دورِ حکومت میں رخان آکرآبادہوئے ،بعض انہیں ٨٤٩١ء کے دوران میں آبادہونے والوں میں شمارکرتے ہیںاوربعض کاکہناہے کہ وہ ١٧٩١ء میں بنگلہ دیش کی آزادی کی جنگ کے دوران یہاں آکرآبادہوئے تھے۔بعض ذرائع یہ بھی کہتے ہیںکہ وہ سولہویں صدی سے یہاں آبادہیں۔ایک تصوریہ بھی ہے کہ برطانیہ اور برما کے درمیان ٦٧٨١ء میں لڑی جانے والی پہلی جنگ کے بعد انگریزوں نے مسلمانوں کواس علاقے میں آبادکاری کیلئے قائل کیاتاکہ وہ یہاں کسانوں کاکام کرسکیں۔ حقیقت کچھ بھی ہوروہنگیامسلمان یہاں ایک لمبے عرصے سے رہ رہے ہیں۔٢٨٩١ء میں میانمارکے فوجی حکمران جنرل نی ون نے برماکی قومیت سے متعلق قانون نافذکیاجس کے مطابق روہنگیامسلمانوں کوشہریت نہ دی گئی۔٣١٠٢ء کی مردم شماری کے مطابق روہنگیامسلمانوں کی تعداد ٣١ لاکھ ہے۔رخان ریاست کے شمالی قصبوں میں ان کی تعداد٠٨سے ٨٩فیصد ہے۔بین الاقوامی میڈیا اورانسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق روہنگیا مسلمان دنیاکے سب سے زیادہ آفت زدہ لوگ ہیں اوروہ بالکل ایسی زندگی گزاررہے ہیںجیسی ہٹلرکے دور حکومت میں یہودی گزارتے تھے۔ یہ بات کسی حدتک درست مانی جاسکتی ہے کہ میانمارکی فوجی حکومت روہنگیامسلمانوں پرظلم کررہی تھی لیکن یہ بات بہت حیران کن ہے کہ میانمارمیں ایک ایسی خاتون حکمران ہے جسے ١٩٩١ء میں نوبل انعام اس کی جمہوریت سے محبت اورانسانی دوستی کی وجہ سے دیاگیاہووہ پرتشددطریقے سے ٣١لاکھ مسلمانوں کوبنیادی انسانی حقوق کی پامالی میں فوجی جنتاکا ساتھ دے رہی ہے،اس سے بھی زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ میانمارکی فوج رخان ریاست یعنی روہنگیامسلمانوں کے خلاف ملٹری آپریشن کاپلان تیارکررہی ہے جس سے روہنگیامسلمان یقیناًمزیدمصیبت میں گرفتار ہو جائیں گے لیکن اس سارے عمل میں سوچی کہیں بھی انسانی حقوق کی علمبردارکی حیثیت سے ایک باعمل لیڈرکے طورپرنظرنہیں آرہی ہے۔ سوچی دوہرے معیار،دوغلے پن اور منافقت کی بدترین مثال بن چکی ہے ۔امریکی صابقہ صدربش نے نائن الیون کے بعددہشتگردی کواس قدر ہوا دی ہے کہ مودی جیسابدمعاش شخص بھی کشمیریوں کی جنگ آزادی کودہشتگردی قراردے رہا ہے۔ یہی حال میانمارکی حکومت روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ کررہی ہے،انہیں دہشتگرد قرار دیکران کے خلاف غیرقانونی ریاستی طاقت کابھرپوراستعمال کیاجارہاہے۔یہ عمل اقوام متحدہ کے چارٹراورانسانی حقوق کے مسلمہ بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہے۔ہیومن رائٹس واچ کے مطابق میانمارکی حکومت روہنگیامسلمانوں سے رخان ریاست کواس طرح پاک کرناچاہتی ہے جیسے کبھی ان کایہاں وجودہی نہ تھا۔میانمارحکومت کاکہناہے کہ روہنگیامسلمانوں میں دہشتگردبھی شامل ہوگئے ہیں،اس لئے ان سے نجات حاصل کرناضروری ہے حالانکہ یہ سب جھوٹ پرمبنی ہے ۔ اگر کسی بھی قوم ،نسل یاقبیلے پرچالیس پچاس سال تک مسلسل تشدد،جبراورظلم وستم کے پہاڑتوڑے جائیں گے توعین ممکن ہے کہ ان میں سے کچھ نوجوان اس ظلم وستم کے خلاف لڑنے مرنے کیلئے تیارہوجائیں،ایسے لوگ دہشتگرد نہیں بلکہ آزادی کے متوالے ہوتے ہیں جوظلم،ناانصافی اوربربریت کے خلاف حق کی آوازاٹھاتے ہیں۔دنیااس قسم کے لوگوں کی وجہ سے بہتری کی منازل طے کررہی ہے۔ یہاں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ جمہوریت،انسانی حقوق کی علمبردار،امن کی نوبل امن یافتہ میانمار حکومت کی سربراہ کے دورمیں ٣١لاکھ مجبورومقہورانسانوں کے ساتھ ظلم ہورہاہے،دنیاکواس طرف توجہ دیناہوگی۔ غفلت کی گہری نیندسوئے مسلمان حکمرانوں کوخاص طورپرجگانے کی شدیدضرورت ہے کہ اوآئی سی کا ہنگامی اجلاس بلاکرنہ صرف روہنگیامسلمانوں بلکہ کشمیراورفلسطین کے مسلمانوں کی دادرسی کیلئے فوری ،ٹھوس اورنتیجہ خیزنتائج کیلئے اقدامات اٹھائیں۔امن کاانعام دینے ہی نہیں واپس لینے کے طریقہ کارکابھی تعین کیاجائے کیونکہ جس مقصدکیلئے نوبل انعام دیاگیاہے ،اگراسی مقصدکی نفی ہوناشروع ہوجائے تویہ نہ صرف اس ادارے کی بھی توہین ہے بلکہ انعام کی توقیربھی خاک میں مل جاتی ہے۔میانمارکی سرزمین پرروہنگیاکے مسلمانوں کے خون کے ساتھ یہ ظالمانہ مشق برسوں سے جاری ہے مگراب وقت آگیاہے کہ انسانی حقوق کادم بھرنے والے سوچی جیسی خونخوارسوچ رکھنے والی عورت کو دنیاکاامن تباہ کرنے سے روکیں!

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved