روہنگیامسلم کی آہ وفغاں
  26  دسمبر‬‮  2016     |     کالمز   |  مزید کالمز

(گزشتہ سے پیوستہ) چودھویں دلائی لامہ نے بھی سوچی کوروہنگیامسلمانوں کے حق میں آوازاٹھانے کوکہاہے لیکن وہ ایسانہیں کررہی۔۶۱۰۲ء میں میانمارمیں مقرہونے والے امریکی سفیرکوسوچی نے کہا کہ روہنگیامسلمانوں کانام لئے بغیران کے بارے میں پبلک میں بات کرے لیکن سفیرنے سوچی کی بات نہ مانی توسوچی نے اس کے خلاف برمی عوام سے احتجاج کروادیا۔اب یہ پوری معقول ومتوازن دنیاپرسوچی کی اصل سوچ روزِ روشن کی طرح واضح ہوچکی ہے۔انسانی حقوق کانام لینے والی محض الفاظ کے ہیر پھیر سے دنیاکے عام وسادہ افرادکوبے وقوف بنارہی ہے۔ روہنگیامسلمان میانمارکی ریاست رخان کے باسی ہیں۔روہنگیااوربعض اسکالرزکاکہناہے کہ کہ ان کاتعلق رخائن ریاست سے ہے جبکہ بعض مؤرخ اس کاتعلق بنگال سے جوڑتے ہیں اوران کاکہناہے کہ کہ وہ برطانوی دورِ حکومت میں رخان آکرآبادہوئے ،بعض انہیں ۸۴۹۱ء کے دوران میں آبادہونے والوں میں شمارکرتے ہیں اوربعض کاکہناہے کہ وہ ۱۷۹۱ء میں بنگلہ دیش کی آزادی کی جنگ کے دوران یہاں آکرآبادہوئے تھے۔بعض ذرائع یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ سولہویں صدی سے یہاں آبادہیں۔ایک تصوریہ بھی ہے کہ برطانیہ اور برما کے درمیان ۶۷۸۱ء میں لڑی جانے والی پہلی جنگ کے بعد انگریزوں نے مسلمانوں کواس علاقے میں آبادکاری کیلئے قائل کیاتاکہ وہ یہاں کسانوں کاکام کرسکیں۔ حقیقت کچھ بھی ہوروہنگیامسلمان یہاں ایک لمبے عرصے سے رہ رہے ہیں۔۲۸۹۱ء میں میانمارکے فوجی حکمران جنرل نی ون نے برماکی قومیت سے متعلق قانون نافذکیاجس کے مطابق روہنگیامسلمانوں کوشہریت نہ دی گئی۔۳۱۰۲ء کی مردم شماری کے مطابق روہنگیامسلمانوں کی تعداد ۳۱ لاکھ ہے۔رخان ریاست کے شمالی قصبوں میں ان کی تعداد۰۸سے ۸۹فیصد ہے۔بین الاقوامی میڈیا اورانسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق روہنگیا مسلمان دنیاکے سب سے زیادہ آفت زدہ لوگ ہیں اوروہ بالکل ایسی زندگی گزاررہے ہیں جیسی ہٹلرکے دور حکومت میں یہودی گزارتے تھے۔ یہ بات کسی حدتک درست مانی جاسکتی ہے کہ میانمارکی فوجی حکومت روہنگیامسلمانوں پرظلم کررہی تھی لیکن یہ بات بہت حیران کن ہے کہ میانمارمیں ایک ایسی خاتون حکمران ہے جسے ۱۹۹۱ء میں نوبل انعام اس کی جمہوریت سے محبت اورانسانی دوستی کی وجہ سے دیاگیاہووہ پرتشددطریقے سے ۳۱لاکھ مسلمانوں کوبنیادی انسانی حقوق کی پامالی میں فوجی جنتاکا ساتھ دے رہی ہے،اس سے بھی زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ میانمارکی فوج رخان ریاست یعنی روہنگیامسلمانوں کے خلاف ملٹری آپریشن کاپلان تیارکررہی ہے جس سے روہنگیامسلمان یقیناًمزید مصیبت میں گرفتار ہو جائیں گے لیکن اس سارے عمل میں سوچی کہیں بھی انسانی حقوق کی علمبردارکی حیثیت سے ایک باعمل لیڈرکے طورپرنظرنہیں آرہی ہے۔ سوچی دوہرے معیار،دوغلے پن اور منافقت کی بدترین مثال بن چکی ہے ۔امریکی صابقہ صدربش نے نائن الیون کے بعددہشتگردی کواس قدر ہوا دی ہے کہ مودی جیسابدمعاش شخص بھی کشمیریوں کی جنگ آزادی کودہشتگردی قراردے رہا ہے۔ یہی حال میانمارکی حکومت روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ کررہی ہے،انہیں دہشتگرد قرار دیکران کے خلاف غیرقانونی ریاستی طاقت کابھرپوراستعمال کیاجارہاہے۔یہ عمل اقوام متحدہ کے چارٹراورانسانی حقوق کے مسلمہ بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہے۔ہیومن رائٹس واچ کے مطابق میانمارکی حکومت روہنگیامسلمانوں سے رخان ریاست کواس طرح پاک کرناچاہتی ہے جیسے کبھی ان کایہاں وجودہی نہ تھا۔میانمارحکومت کاکہناہے کہ روہنگیامسلمانوں میں دہشتگردبھی شامل ہوگئے ہیں،اس لئے ان سے نجات حاصل کرناضروری ہے حالانکہ یہ سب جھوٹ پرمبنی ہے ۔ اگر کسی بھی قوم ،نسل یاقبیلے پرچالیس پچاس سال تک مسلسل تشدد،جبراورظلم وستم کے پہاڑتوڑے جائیں گے توعین ممکن ہے کہ ان میں سے کچھ نوجوان اس ظلم وستم کے خلاف لڑنے مرنے کیلئے تیارہوجائیں،ایسے لوگ دہشتگرد نہیں بلکہ آزادی کے متوالے ہوتے ہیں جوظلم،ناانصافی اوربربریت کے خلاف حق کی آوازاٹھاتے ہیں۔دنیااس قسم کے لوگوں کی وجہ سے بہتری کی منازل طے کررہی ہے۔ یہاں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ جمہوریت،انسانی حقوق کی علمبردار،امن کی نوبل امن یافتہ میانمار حکومت کی سربراہ کے دورمیں ۳۱لاکھ مجبورومقہورانسانوں کے ساتھ ظلم ہورہاہے،دنیاکواس طرف توجہ دیناہوگی۔ غفلت کی گہری نیندسوئے مسلمان حکمرانوں کوخاص طورپرجگانے کی شدیدضرورت ہے کہ اوآئی سی کا ہنگامی اجلاس بلاکرنہ صرف روہنگیامسلمانوں بلکہ کشمیراورفلسطین کے مسلمانوں کی دادرسی کیلئے فوری ،ٹھوس اورنتیجہ خیزنتائج کیلئے اقدامات اٹھائیں۔امن کاانعام دینے ہی نہیں واپس لینے کے طریقہ کارکابھی تعین کیاجائے کیونکہ جس مقصدکیلئے نوبل انعام دیاگیاہے ،اگراسی مقصدکی نفی ہوناشروع ہوجائے تویہ نہ صرف اس ادارے کی بھی توہین ہے بلکہ انعام کی توقیربھی خاک میں مل جاتی ہے۔میانمارکی سرزمین پرروہنگیاکے مسلمانوں کے خون کے ساتھ یہ ظالمانہ مشق برسوں سے جاری ہے مگراب وقت آگیاہے کہ انسانی حقوق کادم بھرنے والے سوچی جیسی خونخوارسوچ رکھنے والی عورت کو دنیاکاامن تباہ کرنے سے روکیں!


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved