قائد اعظم
  27  دسمبر‬‮  2016     |     کالمز   |  مزید کالمز

میں نے اپنی کتاب ''پاکستان اینڈ ٹو نیشن تھیوری'' کے لیے مواد جمع کرنا شروع کیا تو پہلی بار صحیح معنوں میں حضرت قائد اعظم کی شخصیت نکھر کر میرے سامنے آئی۔ علامہ اقبال کا شعربچپن سے سن رکھا تھا مگر اس کی حقانیت پر اب یقین راسخ ہو گیا۔ ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا صدیوں بعد مسلم برصغیر میں یہ دیدہ ور پیدا ہوا جس نے تاریخ کا رخ موڑا اور چودہ سو سال بعد دنیا کے نقشے پر ایک اسلامی ریاست کے وجود کا باعث بنا۔ سٹینلے والپرٹ نے اس بات کو یوں لکھا ہے کہ دنیا میں کچھ ہی لوگ ایسے ہیں جنہوں نے تاریخ کا رخ موڑا' کچھ دنیا کے نقشے میں بعض تبدیلیوں کا مجب بنے اور بمشکل ہی کوئی ایسا ہے جس کو ایک قومی ریاست کے قیام کا کریڈٹ دیا جا سکتا ہے لیکن قائد اعظم ایک ایسے شخص تھے جنہوں نے یہ تینوں کام کیے۔ تحریک پاکستان کا مطالعہ کرنے کے بعد میری سوچی سمجھی رائے ہے کہ محمد علی جناح کے بغیر پاکستان کا قیام ممکن نہ تھا۔ اور اگر پاکستان بن بھی جاتا تو قائم نہ رہ سکتا۔ یہ قائد اعظم تھے جنہوں نے پاکستان کا مطالبہ ٹھوس بنیادوں پر کیا اور ایک ایسی نظریاتی مملکت کی تشکیل کی جو ان شا اللہ رہتی دنیا تک قائم و دائم رہے گی۔ آل انڈیا مسلم لیگ نے پاکستان کا مطالبہ دو قومی نظریے کی بنیاد پر اس احسن انداز سے لڑا کہ ہندو سامراج اور انگریز سامراج کو شکست فاش ہوئی۔ اس تناظر میں مہاتما گاندھی اور قائد اعظم کے مابین لکھے گئے وہ خطوط پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں جو 1944 کی ''گاندھی جناح ٹاکس''کے طور پر مشہور ہیں۔ مہاتما گاندھی پہلے تو یہ ماننے کے لیے تیار نہ تھے کہ ہندوستان کے مسلمان ایک الگ قوم کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھاکہ ''تاریخ انسانی میں انہیں کوئی مثال نہیں ملتی کہ مذہب تبدیل کرنے والوں کی جماعت اپنے آبا اجداد سے مختلف قوم ہونے کا دعوی کرے۔'' گاندھی کہتے تھے کہ اگر ہندوستان اسلام کی آمد سے قبل ایک قوم تھا تو اس کو ایک ہی قوم رہنا چاہیے اگرچہ اس کے بچوں کی ایک بڑی تعداد نے اپنا مذہب تبدیل کر لیا ہے۔'' آج کل کے رائج نیشن اسٹیٹ کے تصور کے تحت گاندھی کا استدلال درست تھا۔ لیکن وہ نہ جانتے تھے یا جان لینے کے باوجود اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے مسلمانوں کی قومیت کی اساس ماننے کے لیے تیار نہ تھے۔ مسلمان قومیت کی تو بنیاد ہی ''ایمان'' پر ہے، ایمان لانے کے بعد مسلمان ایک الگ قوم بن جاتے ہیں جب کہ ایمان نہ لانے والے ان سے الگ دوسری قوم تصور کیے جاتے ہیں۔ قائد اعظم کا اسلوب یہ تھا کہ آپ اپنے جواب میں وہ دلیل اختیار کرتے جو ہندوں کے ساتھ انگریز کو بھی سمجھ آئے۔ آپ نے گاندھی کے ہر خط کے جواب میں انہیں دو کتابیں پڑھنے کا مشورہ دیا۔ ایک کتاب نچلی ذات سے تعلق رکھنے والے ہندو رہنما ڈاکٹر امبیدکر کی تھی جب کہ دوسری کتاب ایم آر ٹی کی "Nationalism In Conflict in India"تھی۔ قائد اعظم کا استدلال تھا کہ ان دوکتابوں کو پڑھنے سے گاندھی جی کو مسلمانوں کا نقطہ نظر سمجھنے میں آسانی ہو گی۔ گاندھی جناح بات چیت کے دوران ایک مرحلے پر گاندھی تقسیم پر راضی ہو گئے لیکن ان کی تجویز یہ تھی کہ تقسیم دو قومی نظریے کی بنیاد پر نہ ہو بلکہ ایسے ہو جیسے دو بھائیوں کے مابین ہوتی ہے۔ دیکھا جائے تو یہ بڑا نازک وقت تھا' تقسیم کی بات سے اتفاق ایک ایسے شخص کی جانب سے سامنے آ رہا تھا جو ہندوستان کی تقسیم کو گا ماتا کے دو حصے کرنے کے مترادف قرار دے چکا تھا اور جو ہندوں کا سب سے بڑا لیڈر سمجھا جاتا تھا۔ قائد اعظم نے یہ شرط ماننے سے انکار کر دیا اور ہندوستان کی تقسیم کو قرارداد لاہور کے مطابق کرنے کی بات کی۔ یہ ایک بڑے لیڈر کا کمال تھا ' اگر قائد اعظم اس مرحلے پر دو قومی نظریہ ترک کر دیتے تو تحریک پاکستان کے غبارے سے ہوا نکل جاتی اور شاید یہی گاندھی جی چاہتے تھے۔ مسلمان قومیت کی بنیاد پر ایک الگ وطن کا مطالبہ محض پاکستان کا حصول نہ تھا۔ درحقیقت قائد اعظم مسلمانوں کے لیے ایک ایسی ریاست کا قیام چاہتے تھے جہاں اسلام کے سنہری اصولوں کا اطلاق ہو سکے۔ قائد اعظم کا نصب العین ایک ماڈل اسلامی فلاحی ریاست کا قیام تھا۔ آج بعض حضرات اپنے مذموم مقاصد کے لیے قائد اعظم پر سیکولر ہونے کی تہمت لگانے سے بھی نہیں چوکتے حالانکہ ساری زندگی انہوں نے پاکستان کے حوالے سے سیکولرازم کا لفظ استعمال نہیں کیا اور نہ اپنی تقاریر میں انہوں نے کبھی ایسی بات کی جس سے یہ ظاہر ہو کہ وہ اسلامی تعلیمات کو پس پشت ڈال کر پاکستان کو دیگر ریاستوں کی طرح ایک عام قومی ریاست بنانے کے خواہاں تھے۔ سیکولر لابی کے ماسوائے گیارہ اگست 1947 کی تقریر کے اور کچھ بھی نہیں ہے اور سچ یہ ہے کہ قائد اعظم کی تقریر کے الفاظ جنہیں سیکولر اپنے حق میں استعمال کرتے ہیں کا مخاطب اقلیتوں کے حقوق اور ان کا تحفظ تھا۔ قائد اعظم نے رائٹرز کے نمائندوں کو بعدازاں انٹرویو دیتے ہوئے خود بھی اپنے الفاظ کی صحیح حقیقت بیان کی تھی۔ قائد اعظم کی مکمل جدوجہد اصغر سودائی کے اس نعرے کی صحیح معنوں میں تصویر تھی۔۔پاکستان کا مطلب کیا۔لاالہ الااللہ۔ قائد اعظم کی تقاریر اور بیانات کا ایک طائرانہ مطالعہ کرنے سے ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ آپ کا محور اسلام اور صرف اسلام تھا۔ ''اسلامک ڈیموکریسی، اسلامک سوشل جسٹس' اسلامی اکنامک سسٹم'' جیسی اصطلاحیں استعمال کرنے والے قائد اعظم کے بارے میں سیکولرازم کی بہتان تراشی کسی ظلم عظیم سے کم نہیں ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved