اللہ کے رازوں میں سے ایک راز.... پاکستان
  27  دسمبر‬‮  2016     |     کالمز   |  مزید کالمز
پاکستان ٧٢رمضان کو وجود میں آیا۔ میں اپنے درجن سے زائدآرٹیکلزاورکالموں میں تاریخی حوالوں سے تحریرکرچکاہوں کہ یہ اتفاق نہیں بلکہ انتخاب تھا۔ اللہ نے اس عظیم ریاست کو وجود میں لانے کے لیے سال کی سب سے بہترین رات منتخب کی تھی۔ بہت سے نیک لوگوں کو یقین ہے کہ جس رات پاکستان وجود میں آیا اس رات لیلتہ القدر تھی۔ مستقبل کے حوالے سے حضورۖ کی کئی احادیث میں سعودی عرب سے مشرق کی سمت کسی ریاست کا ذکر آتا ہے جو اسلام کی نشا ثانیہ میں اہم ترین کردار ادا کرے گی مثلا غزوہ ہند کی مشہور حدیث جس کے مطابق ایک اسلامی ملک پہلے ہندوستان فتح کرے گا اور پھر اہل یہود کے خلاف فیصلہ کن جنگ لڑے گا۔ اسی طرح روایات ہے کہ حضورۖ نے مشرق کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ میرا دین پوری دنیا میں کمزور ہوگا تو وہاں سے اٹھے گا۔ ایک اور موقع پر فرمایا کہ مجھے مشرق سے ٹھنڈی ہوائیں آرہی ہیں۔ جس پر علامہ اقبال نے قسم کھائی کہ: میر عرب کو آئی تھی جہاں سے ٹھنڈی ہوائیں وہی میرا وطن ہے وہی میرا وطن ہے اب ذرا یہ چیک کرتے ہیں کہ کیا پاکستان کے متعلق واقعی علامہ اقبال کا گمان درست تھا اور حضورۖ کی احادیث میں پاکستان ہی کی طرف اشارہ تھا! یہ تو آپ نے اکثر سنا ہوگا کہ اسلام کی٠٠٤١ سالہ تاریخ میں مدینے کے بعد پاکستان دوسری ریاست ہے جو اسلام کے نام پر بنی ہے۔ لیکن مدینے سے مماثلت کا معاملہ صرف یہیں تک محدود نہیں۔ مدینے کو اس وقت مشرکوں (بت پرستوں)سے خطرہ تھا ان مشرکوں کی مدد یہودی کر رہے تھے۔ پاکستان کو بھی اس وقت دنیا کی سب سے بڑی مشرک (بت پرست)ریاست بھارت سے خطرہ ہے جس کی مدد اسرائیل یعنی یہودی کر رہے ہیں۔ مدینے کی مشرکوں کے خلاف تین بڑی جنگیں ہوئیں اور چوتھی جنگ فیصلہ کن تھی جس میں مکے کو فتح کر لیا گیا تھا۔ پاکستان کی مشرکوں(بھارت)کے ساتھ اب تک تین بڑی جنگیں ہو چکی ہیں۔ چوتھی جنگ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ فیصلہ کن ہوگی۔ دونوں کے نام کا مفہوم بھی ایک ہی ہے۔ پاکستان کا مطلب ہے " پاک لوگوں کے رہنے کی جگہ" ..... مدینہ کو پہلے مدینہ النبی اور بعد میں مدینہ طیبہ کہا جانے لگا جس کا مطلب ہے " پاک لوگوں کے رہنے کی جگہ" حضرت نعمت اللہ شاہ ولی نے آج سے٠٥٨ سال پہلے نہ صرف قیام پاکستان کی پشین گوئی فرمائی تھی بلکہ اس ملک سے اللہ نے جو کام لینے ہیں ان کے بارے میں بھی بتا دیا تھا ۔ قیام پاکستان سے پہلے نعمت اللہ شاہ ولی نے فرمایا تھا کہ بعد ازاں گیرد نصارے ملک ہندویاں تمام تاصدی حکمش میاں ہندوستاں پیدا شود یعنی انگریزوں کی حکومت صرف ایک صدی تک قائم رہے گی۔ نعمت اللہ شاہ کے اس شعر پر لارڈ کرزن نے پابندی لگوا دی تھی۔ اس کے بعد قیام پاکستان سے متعلق فرماتے ہیں! دو حصص چوں ہند گردو خون آدم شدرواں شورش و فتنہ فزون از گماں پیدا شود یعنی ہندوستاں دو حصوں میں تقسیم ہوجائیگا اور بہت زیادہ شورش اور خون خرابہ ہوگا۔ پھر فرماتے ہیں ... مومناں یا بنداماں در خظہ اسلاف خویش بعدازرنج و عقوب بت بخت شاں پیدا شود یعنی مسلمان درلاسلام میں امان حاصل کرلیں گے۔ اس شعر میں ان مہاجرین کی طرف اشارہ ہے جنہوں نے ہندوں کے ظلم ستم سہنے کے بعد پاکستان آکر آمان پائی۔ کی جنگ کا بھی ذکرکیا ہے کہ دن چلے گی اور مومنوں کو اللہ فتح دے گا لیکن کی جنگ کے حوالے سے دلچسپ شعر کہا کہ نعرہ اسلام بلند شد بست دسہ ادوارچرخ بعد ازاں بارد گریک قہر شاں پیدا شود یعنی اسلام کا نعرہ ٣٢ سال تک بلند رہے گا جس کے بعد دوسری مرتبہ ان پر قہر ٹوٹے گا۔ آپ جانتے ہیں کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا لیکن ٹھیک ٣٢سال بعد سازشیوں نے اس میں لسانیت کا زہر گھول دیا اور بنگالی کا نعرہ بلند کیاگیا تب مشرقی پاکستان ہم سے ٹوٹ کربنگلہ دیش بن گیا۔ اپنی اس کامیابی پر اندرا گاندھی نے بڑے مغرور انداز میں کہا تھا کہ " آج نظریہ پاکستان کو ہم نے خلیج بنگال میں غرق کر دیا " ...... یہ وہی نظریہ ہے جس کا اوپر شعر میں ذکر ہے۔ اشعار بہت زیادہ ہیں نیٹ پر باآسانی مل جائیں گے ہم یہاں خلاصہ لکھتے ہیں کہ نعمت اللہ شاہ نے پاکستان کو ایک زبردست جنگجو لیڈر ملنے کی پیش گوئی کی ہے جس کی قیادت میں پاکستان کی انڈیا کے ساتھ ایک آخری اور فیصلہ کن جنگ ہوگی جس میں ابتدا میں پاکستان اٹک تک خیبر پختونخواہ اور پنجاب کے کئی علاقے کھو دے گا۔ لیکن مسلمان جنگ جاری رکھیں گے جس کے بعد بلاآخر انڈیا کو مکمل طور پرمغلوب کر دیا جاے گا۔،جہاں تک جنگجو حکمران کی بات ہے تو گمان غالب ہے کہ وہ کوئی سپاہ سالار ہی ہو سکتا ہے۔ ہم نے پاکستان کی٩٦ سال تاریخ میں دیکھ لیا ہے کہ جرنیل ہمیشہ پاکستان کے لیے بہترین حکمران ثابت ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ ان اشعار کے حوالے سے دو چیزیں ایسی ہیں جو آج ہمیں نظر آرہی ہیں۔ ایک یہ کہ اس نے پیش گوئی کی تھی کہ پاکستان کی مدد منگول کریں گے۔ ان کے دورمیں چینی قوم کو منگول بھی کہا جاتا تھا۔ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ انڈیا کے خلاف چین اور پاکستان متحد ہوچکے ہیں۔ دوسری اٹک تک کا علاقہ کھونے کی بات کو اس تناظر میں دیکھیں کہ افغانستان میں موجود ٢ لاکھ افغان نیشنل آرمی سخت پاکستان دشمن ہے اور ان کی قیادت انڈیا کے زیراثر ہے۔ ان کا پاکستان میں اٹک تک کے علاقے پر دعوی ٰبھی ہے۔ یہ ممکن ہے کہ جب پاک فوج انڈیا کے ساتھ مصروف جنگ ہو تو افغانستان کی کٹھ پتلی حکومت کو موقع مل جائے پاکستان پر مغربی سمت سے حملہ کرنے کا اور پاک فوج کی غیر موجودگی میں ان کے لیے ان علاقوں میں پیش قدمی کرنا مشکل نہیں ہوگا۔ گمان غالب ہے کہ ان کے خلاف پاکستان کی مدد افغان طالبان کریں گے! نعمت اللہ شاہ ولی کی یہ پیشگوئیاں یہ بھی ثابت کرتی ہیں کہ غزوہ ہند لڑنے والی جس عظیم فوج کا حضورۖ نے ذکر کیا ہے وہ پاک فوج ہی ہے۔ اس پر ایک دلیل اور بھی ہے۔ غزوہ ہند والی حدیث میں لڑنے والی فوج اسرائیل کے خلاف بھی جنگ کرے گی یعنی یہودیوں سے۔ آج اس خطے میں جو اسلامی ممالک موجود ہیں ان میں سے صرف پاکستان ہی واحد اسلامی ملک ہے جس کی بیک وقت اسرائیل اور انڈیا کے ساتھ معاملات خراب ہیں اور کئی جنگیں بھی ہوچکی ہیں۔ یہ شرط نہ افغانستان پوری کر سکتا ہے نہ بنگلہ دیش اور نہ ہی ایران۔ (جاری ہے) اب نعمت اللہ شاہ ولی کی پیشن گوئیوں کے حوالے سے ایک چھوٹا سا واقعہ آپ کو سناتے ہیں۔ نعمت اللہ شاہ کی پیشگوئیوں کو سن کر ایک ٥٢سال کا جوان٧٥٨١ء کی جنگ آزادی میں شریک ہوا ۔ وہ فتح کے لیے پر امید تھا لیکن اسی جنگ کے دوران اس نوجوان کو ایک بزرگ ملے اور اس سے کہا کہ "تم کو جس فتح کی خوشخبری دی گئی تھی یہ وہ نہیں ہے اس میں ابھی ٠٩ سال باقی ہیں ۔ ایک ملک بنے گا جو عالم اسلام کا مرکز بنے گا اور تم اس کو دیکھو گے۔ یہ سن کر وہ نوجوان جنگ چھوڑ کر چلا گیا اور انتظار کرتا رہا یہاں تک کہ ٹھیک ٠٩سال بعد پاکستان بنا ۔ وہ پھر بھی زندہ رہا اور جب اسلام آباد بنا تب وہ ٠٦١سال کی عمر میں فوت ہوا اور اسلام آباد کے ایچ ٨قبرستان میں دفن ہواجہاں اسکی قبرکی تختی پر اس معاملے کا ذکر بھی ہے۔ ان کی قبر قدرت اللہ شہاب کی قبر کے نزدیک ہے۔ قبر پر ان کا نام عبد اللہ محبوب لکھا ہوا ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ وہ شخص حضرت مہاجر مکی تھے۔ واللہ اعلم بالصواب ہالینڈ کی نیشنل لائبریری میں ہاتھ کی لکھی ہوئی ایک دستاویز موجود ہے جو حضرت بری امام سے منسوب ہے۔ اس میں انہوں نے لکھا ہے کہ "ایک دن ہمارا یہ شہر تمام عالم اسلام کا مرکز بنے گا ")بری امام صاحب اسلام آباد میں دفن ہیں)وہ آج سے٠٠٣ سال پہلے گزرے ہیں۔ شیخ الہند نے قیام پاکستان کی مخالفت کی تھی لیکن پاکستان بن جانے کے بعد انہوں نے کہا تھا کہ "اب پاکستان مسجد کے حکم میں ہے اور اس کی حفاظت فرض ہے " مولانا اشرف علی تھانوی نے قیام پاکستان سے غالبا٦ سال پہلے اپنی بیوی کو وصیت کی تھی کہ "پاکستان بن جائے گا تم وہاں چلی جانا "۔ خان آف قلات کو حضورۖ خواب میں آئے تھے کہ" پاکستان کے ساتھ شامل ہوجا " صوفی برکت علی نے فرمایا تھا کہ ''ایک دن پاکستان کی ہاں اور ناں میں دنیا کی ہاں اور ناں ہوگی۔ اگر ایسا نہ ہوا تو میری قبر پر آکر تھوک دینا''۔ بات صرف ہمارے بزرگوں تک محدود نہیں، کفار کے بڑوں نے بھی اس حوالے سے پیشگوئیاں کر رکھی ہیں مثلا ہندو ہر بڑا کام کرنے سے پہلے حساب کتاب کرتے ہیں زائچے بناتے ہیں، مہورتیں نکلواتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ قیام پاکستان کے بعد گاندھی نے پنڈت و نجومی بلوا کر حساب کتاب کیا اور پھر اعلان کیا کہ پاکستان اور انڈیا میں جنگیں ہوں گی اور چوتھی جنگ فیصلہ کن ہوگی۔ گاندھی نے یہ نہیں بتایا کہ جنگ کا فاتح کون ہوگا۔ تاہم یہ ضرور ہے کہ اس کے بعد اس نے انڈیا کو پاکستان کے خلاف جنگ سے روکنے کی ہر ممکن کوشش کی یہاں تک کے پاکستان کو اس کا حق دلوانے کے لیے مرن بھرت یا بھوک ہڑتال کر دی تھی جس پر اس کو قتل کر دیا گیا۔ اسی طرح ڈیوڈ بن گوریان جو کہ اسرائیل کے بانیوں میں سے تھا اس نے پاکستان کے حوالے سے پیشگوئی کی تھی کہ "بین الاقوامی صہیونی تحریک کو کسی طرح بھی پاکستان کے بارے میں غلط فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہئے۔ پاکستان درحقیقت ہمارا اصلی اور حقیقی نظریاتی جواب ہے۔پاکستان کا ذہنی و فکری سرمایہ اور جنگی و عسکری قوت و کیفیت آگے چل کر کسی بھی وقت ہمارے لیے باعث مصیبت بن سکتی ہے، ہمیں اچھی طرح سوچ لینا چاہئے ۔بھارت سے دوستی ہمارے لیے نہ صرف ضروری بلکہ مفید بھی ہے ہمیں اس تاریخی عناد سے لازما ًفائدہ اٹھانا چاہئے جو ہندو پاکستان اور اس میں رہنے والے مسلمانوں کے خلاف رکھتا ہے ۔ یہ تاریخی دشمنی ہمارے لیے زبردست سرمایہ ہے۔لیکن ہماری حکمت عملی ایسی ہونی چاہئے کہ ہم بین الاقوامی دائروں کے ذریعے ہی بھارت کے ساتھ اپنا ربط و ضبط رکھیں" (یروشلم پوسٹ 9 اگست 1967) عالم کفر کو چار حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ عیسائیت، یہودیت، مشرکین اور ملحدین۔بہت کم لوگوں کو احساس ہوگا کہ پاکستان اس وقت بھی ان چاروں سے بیک وقت برسرپیکار ہے اور ان سب کے لیے درد سر بنا ہوا ہے۔ مشرکین کی نمائندہ ریاست انڈیا ہے جبکہ یہودیوں کی اسرائیل۔ ان کے خلاف پاکستان کی جنگ سے ہم سب واقف ہیں۔ جدید الحاد کی سب سے بڑی نمائندہ ریاست روس ہے جو اپنے وقت کی سپر پاور تھی۔ جب وہ اپنے الحادی نظریات کو پوری طاقت سے دنیا بھر میں پھیلا رہی تھی تب پاکستان کے ہاتھوں اپنے انجام کو پہنچی۔ امریکا بظاہر پاکستان کا اتحادی ہے لیکن اب دنیا جان چکی ہے کہ افغانستان میں امریکاکو درحقیقت کس کے ہاتھوں شکست کا سامنا ہے۔ یہ پیشگوئی قدرت اللہ شہاب کی کتاب میں بھی موجود ہے جس کے مطابق جب وہ ٩٥٩١ء میں یونیسکو کے ایگزیکٹیو بورڈ کے ممبر تھے تو اس وقت ان کے تعلقات ایک یورپی باشندے سے ہوئے جس نے قدرت اللہ شہاب کو بتایا کہ'' اگرچہ امریکا اور روس ایک دوسرے کے حریف ہیں لیکن پاکستان کو دونوں اپنا دشمن سمجھتے ہیں''۔ پھر اس نے وضاحت کی کہ''یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ پاکستان کی مسلح افواج کا شمار دنیا کی اعلی ترین افواج میں ہوتا ہے اور یہ حقیقت نہ روس کو پسند ہے نہ امریکا کو ،روس کی نظریں افغانستان اور پھر بحیرہ عرب پر ہیں جن کو قابو کرنا پاک فوج کی موجودگی میں ناممکن ہے ۔( جنرل ضیا نے اس کو بعد میں سچ ثابت کر دیا )جبکہ امریکا اسرائیل کا حلیف ہے اور جانتا ہے کہ اگر اسرائیل کے خلاف عالم اسلام کی جانب سے عالمی طور پر جہاد کا اعلان ہوا تو پاکستان کی افوج اور نہتی آبادی بھی کسی حکم کا انتظار کیے بغیر اسرائیل پر چڑھ دوڑے گی''۔یہ پیشگوئی غزوہ ہند والی حدیث میں بھی ہے اور نعمت اللہ شاہ ولی نے بھی یہی بات کی ہے۔ اکھنڈ بھارت، گریٹر اسرائیل اور صہیونی تحریک کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ پاکستان ہے۔ انڈیا پاکستان کی وجہ سے اب تک صرف کشمیر پر قابونہیں پا سکا۔ اسرائیل نے دو بار آگے بڑھنے کی کوشش کی تو پاکستان کے ہاتھوں رسوا ہوا۔ روس پاکستان کے ہاتھوں اپنے انجام کو پہنچا۔ امریکی جنگی ماہرین کے مطابق امریکا کی افغانستان میں ناکامی کی وجہ پاکستان ہے۔ پاکستان کے ساتھ ایک اور معاملہ بھی عجیب و غریب ہے کہ پاکستان کو نقصان پہنچانے والوں کو اللہ زمین پر ہی نشان عبرت بنا دیتا ہے۔ مثلاً سقوط ڈھاکہ کے ذمہ دار سارے کردار جنہوں نے پاکستان کو توڑا تھا اللہ نے ان کو ان کے خاندانوں سمیت مٹادیا۔ ذولفقارعلی بھٹو کا سارا خاندان غیر طبعی موت مرا اور آج درحقیقت اسکا کوئی نام لیوا موجود نہیں۔ بلاول بھٹو حقیقت میں بلاول زرداری ہے۔ شیخ مجیب الرحمن اپنے پورے خاندان سمیت مارا گیا صرف اسکی ایک بیٹی باقی بچی۔ اسی طرح اندرا گاندھی نہ صرف خود قتل ہوئی بلکہ اسکا بیٹا راجیو گاندھی بھی قتل ہوا اور دوسرے بیٹے سنجے گاندھی کا٣٣ سال کی عمر میں جہازکریش ہوگیا یوں اس کا پورا خاندان ختم ہوگیا۔ دنیا بھر میں اس وقت عالم اسلام کے خلاف آپریشن ہارنسٹ نسٹ کے نام سے ایک پراکسی جنگ جاری ہے جس میں خوارج کے ذریعے اسلامی ملکوں کو بہت تیزی سے تباہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان وہ واحد ملک ہے جہاں اس جنگ میں عالمی قوتوں کو شکست ہوئی ہے اور خوارج کو عملی اور نظریاتی دنوں محاذوں پر پسپائی کا سامنا ہے۔اب یہ بھی ملاحظہ ہوکہ پاکستان کے خلاف لڑنے والوں کا کیا حال ہوتا ہے! طاہر یلد شیف کو روس نے'' شیطان ''کا نام دے رکھا تھاکیونکہ ان کا خیال تھا کہ یہ مرتا نہیں ہے۔اس شخص کوامریکا ازبکستان میں روس کے خلاف سالہاسال تک استعمال کرتا رہا لیکن اس شخص کو جب پاکستان کے خلاف لانچ کیا گیا تو کچھ ہی عرصے بعد یہ پاک فوج کے ہاتھوں اپنے بدترین انجام کو پہنچا۔ اسی طرح سری لنکا کے خلاف لڑنے والی بھارتی حمائت یافتہ تامل تحریک کے لیدڑ''پربھاکرن'' کو لوگ سورج دیوتا کہتے تھے کیونکہ اس کے بارے میں مشہور تھا کہ اس کو موت نہیں آتی لیکن جب ان تاملز نے پاکستان پر لاہور میں حملہ کیا تو جواباً پاک فوج نے سری لنکن فوج کے ساتھ مل کران تاملز کے خلاف آپریشن کیا جس میںنہ صرف وہ سورج دیوتا مارا گیا بلکہ یہ تحریک بھی اپنے انجام بدکوپہنچ گئی۔ عجیب بات ہے کہ پاکستان کے خلاف لڑنے والے اکثر خارجیوں کو تین چار سال سے زیادہ کی مہلت نہیں ملتی! ذراان اتفاقات پربھی غور فرمائیے۔ اب اس مضمون کو سمیٹنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ١۔پاکستان آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا اسلامی ملک نہیں لیکن اس کے باوجود دنیا میں سب سے زیادہ نمازی، روزے دار، زکوٰة دینے والے، مساجد، علمائ، حفاظ اور حاجی پاکستان میں پائے جاتے ہیں۔ ٢۔پاکستان دنیا میں دعوت و تبلیغ کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ ٣۔پاکستان دنیا میں جہاد کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ ٤۔پاکستان کو اللہ نے دنیا میں سب سے اہم سٹرٹیجک لوکیشن دی ہے اور دنیا کی کئی بڑی سپر طاقتیں بیک وقت کسی نہ کسی طرح پاکستان پر انحصار کرتی ہیں۔ یہی حال پاکستانی سمندر کا بھی ہے خاص کر گوادر کا۔ ٥۔پاکستان کو اللہ نے پانچ موسم دئیے ہیں اور دنیا کا سب سے بڑا نہری نظام۔ کہا جاتا ہے کہ اگر پاکستان صحیح معنوں میں اپنی زمینوں سے پیدوار لے تو پورے براعظم کی ضروریات پوری کر سکتا ہے۔ ٦۔پاکستان کے پاس بے پناہ معدنی وسائل ہیں جن میں صرف تھر کا کوئلہ ہی سعودی عرب کے کل تیل کے ذخائر سے زیادہ مالیت کا ہے۔ ٧۔پاکستان سوئی نہیں بنا سکتاتھا لیکن اب دنیا کے جدید ترین میزائل بنا چکا ہے۔ پاکستان کے نیوکلیئر میزائل پروگرام کا مقابلہ اس وقت دنیا میں صرف امریکا اور چین کر سکتا ہے باقی ممالک کو اس معاملے میں پاکستان پیچھے چھوڑ چکا ہے، الحمداللہ۔ کیا یہ سب واقعی محض اتفاقات ہیں ؟؟؟ پاکستان کے خلاف بے پناہ سازشیں ہونے کے باوجود اب تک اللہ نے اس کو بچایا ہے،کیسے کیسے ؟ اس پر اگر لکھا جائے تو شائد ایک پوری کتاب کی ضرورت پڑے۔ یہاں آج تک آج تک ایمانداری کے ساتھ ٥٦٩١ء کی جنگ کے واقعات بھی نہیں لکھے جا سکے لیکن خودبھارتی فوجی کمانڈروں نے اپنی کتابوں میں کئی ایسے واقعات کابڑی حیرت سے ذکر کیاہے جس کوپڑھ کریقین آتاہے کہ اللہ نے پاکستان کی بالکل ویسے ہی مدد فرمائی تھی جیسے اصحاب بدر کی فرمائی تھی۔ واللہ پاکستان اللہ کے رازوں میں سے ایک راز ہے،یہ محض زمین کا ایک ٹکڑا نہیں بلکہ ایک مقدس امانت ہے۔ اس کے ساتھ آنے والے وقت کے بہت سے اہم ترین معاملات وابستہ ہیں۔ جو شخص اس امانت میں خیانت کرے گا وہ اللہ کی پکڑ سے نہیں بچ پائے گا۔جس نے پاکستان کی قومی دولت کولوٹاہے یااپنے %D

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
83%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
17%
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved