حلب ' خون کا غسل' لاشوں کے انبار 'مگر ایران اور روس خوش
  27  دسمبر‬‮  2016     |     کالمز   |  مزید کالمز
کیاعالم اسلام مر چکا؟ دنیا کے ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمان اور7ارب کے لگ بھگ انسانوں سے انسانیت ختم ہو گئی؟ رب کی دھرتی سے اِنصاف بالکل ہی مفقود ہو گیا؟ اگر نہیں توپھر شام کے تاریخی شہرحلب میں ایرانی اور بشار الاسد کے درندے روسی فضائیہ کے تعاون سے جو شیطانی کھیل کھیل رہے تھے وہ کیسے ممکن ہوا؟ افسوس صد افسوس مسلمان...۔ مسلمان نہ رہے، مسلمان ملکوں کے حکمران امریکی، صہیونی غلام بن گئے، ورنہ اگر ان میں ضمیر، غیرت، حمیت ہوتی تو ان شیطانوں کو نشان عبرت بنایا جا سکتا تھا۔ جہاد سے دوری اور دنیا کی محبت نے مسلمانوں کے دلوں کو زنگ آلود کر ڈالا، اگر امت مسلمہ جہاد کی دعوت پہ آچکی ہوتی تو شائد ہمیں آج یہ سیاہ دن نہ دیکھنا پڑتے' رپورٹ آئی ہے کہ حلب بشار الاسد کی فوج شیطانوں کی بپا کردہ قیامت صغری کے متاثرہ باشندوں نے مسلم علما کی انٹرنیشنل آرگنائزیشن کو فتوی بھیجا ہے جس میں ان سے اپنی خواتین کو اسدی فورسز اور ایرانی ملیشیا کے ہاتھوں درندگی کا نشانہ بننے سے محفوظ رکھنے کی خاطر قتل کرنے کا فتوی طلب کیا ہے۔ وہ حلب کہ جو سیدنا عمر فاروق کے دور خلافت میں اسلامی سلطنت کے11صوبوں میں سے ایک تھا، اس حلب میں روس نے خوفناک بمباری کر کے اسدی اور ایرانی ملیشیا کی جیت کی راہ ہموار کی،روس نے خوفناک بمباری کے ذریعے سینکڑوں بچوں اور عورتوں کو شہید کر ڈالا۔ حلب میں اتحاد ثلاثہ کے شیطانوں نے اتنا ظلم کیا ہے کہ حلب کے معصوم بچوں کے آنسو بھی خشک ہو چکے ہیں، معصوم بچوں کی کٹی پھٹی لاشیں ڈھیروں کی شکل میں جا بجا بکھری ہوئی ہیں... میں نے ایک بچے کی تصویر دیکھی کہ جو آٹھ، دس لاشوں کے درمیان خون میں لت پت تڑپ رہا ہے، اس بچے کی عمر شائد5یا چھ سال کی ہوگی۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ایک خط کا کچھ حصہ آپ بھی پڑھ لیجئے۔ حلب کی بیٹی لکھتی ہے کہ ''میں ان خواتین میں سے ایک ہوں جنہیں چند لمحوں بعد زیادتی کا نشانہ بنایا جائے گا... کیونکہ اب ہمارے اور ان درندوں کے بیچ کوئی ہتھیار یامرد نہیں بچے، ہمارے سب مرد لڑتے لڑتے شہید ہو چکے ہیں مجھے آپ لوگوں سے کچھ بھی نہیں چاہئے... حتیٰ کہ میں آپ سے دعا بھی نہیں چاہتی، کیونکہ میں ابھی اس قابل ہوں کہ بول سکوں...۔ اور میرے خیال میں میری دعا آپ کے الفاظ سے زیادہ سچی ہے... میں خود کشی کرنے جارہی ہوں... اور مجھے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ تم مجھے جہنمی کہو... لیکن یہ خود کشی میں بغیر کسی وجہ کے نہیں کر رہی... بلکہ میں اس لئے جان دے رہی ہوں کہ بشاری اور ایرانی فورسز کے درندے میری عصمت سے کھلواڑ نہ کر سکیں یوم قیامت حلب میں بپا ہو چکا، اور میں جانتی ہوں کہ آپ سب میرے جہنم میں داخلہ پر متفق ہوں گے... لیکن مجھے اس کی کوئی پرواہ اس لئے نہیں کیونکہ جب آپ یہ پڑھ رہے ہوں گے... میں پاکدامنی کے ساتھ مر چکی ہوں گی''۔ ایک اور خباری خبر کے مطابق ''روسی صدر پیوٹن اور ان کے ایرانی ہم منصب حسن روحانی نے حلب میں بشاری فورسز کی جانب سے شہروں کے قتل عام اور شہر پر فورسز کے قبضے کو خوش آئند قرار دیا ہے... بشارالاسد نے روس اور ایران کی مدد سے جس طرح سے حلب کے مسلمانوں کا قتل عام کیا' عمارتوں کو ملبے کا ڈھیر بنایا' فورسز نے جس طرح سے گھر' گھر گھس کر ظلم و بربریت کی مکروہ مثالیں قائم... حلب کی گلیوں اور بازاروں میں بے گناہ مسلمان بچوں' عورتوں اور مردوں کی لاشوں کے انبار لگائے اس نے صرف ''ہلاکو خان'' نہیں بلکہ ''شیطان'' کو بھی شرمندہ کر دیا ہوگا؟ اگر انسانی کھوپڑیوں کے مینار تعمیر کرنا ... معصوم بچوں کی لاشوں کے انبار لگانا... پاکباز بیٹیوں کی آبروریزی کرنا' مسجدوں' مدرسوں' سکولوں' سرکاری و غیر سرکاری عمارتوں کو تباہ برباد کر ڈالنا... اور گھر' گھر گھس کر ہر جاندار کو خون میں نہلانے کا نام ہی ''فتح'' ہے تو پھر یہ فتح حسن روحانی' پیوٹن اور بدنام زمانہ بشارالاسد ہی کو مبارک ہو۔ ہم تو اس نبی الملاحمۖ کے پیروکار ہیں کہ جس مقدس و مطہر نبیۖ نے کافر' مشرکین کے خون کا ایک قطرہ بہائے بغیر مکہ کو فتح کر لیا تھا... فتح مکہ کے دوران جب ایک صحابی رسولۖ نے شدت جذبات سے مغلوب ہو کر یہ نعرہ بلند کیا تھا کہ ''آج بدلے کا دن ہے'' تو رحمت عالمۖ نے فرمایا تھا کہ نہیں' نہیں' جائو اعلان کر دو کہ ''آج بدلے کا دن نہیں بلکہ رحمتیں باٹنے کا دن ہے۔'' روس تو دھریت کا علمبردار ہے ... مگر ایران اور ''بشار'' تو اسلام کے دعویدار ہیں' پھر ان کی فورسز نے اپنے ہی لوگوں کے خون میں ''حلب'' کو ڈبو کر کس کی خدمت کی؟ اس قدر ظالمانہ اور خونی ''فتح'' کو میں اسلامی فتح کیسے قرار دوں؟ جس ''فتح'' سے ہزاروں معصوم بچوں' ہزاروں خواتین کا خون ٹپکتا ہو... جس فتح سے ''عفتوں'' کی پامالی اور ''عصمتوں'' کے لٹنے کی ہزار ہا داستانیں منسلک ہوں... اس فتح پر خوشیاں منانا حیوانیت نہیں تو پھر اور کیا ہے؟ سوال یہ ہے کہ ''حلب'' کو خون کا غسل دیکر نیا شام پرامن ہو جائے گا؟ موصل کی فتح ہو یا تدمر کی شکست' کیا یہ سب مشرق وسطیٰ کے امن کی ضمانت بن سکیں گی؟ حلب کے شہریوں پر مظالم، اور ان مظالم پر عالم اسلام کی مجرمانہ خاموشی اس کھلی حقیقت کو واضح کر رہی ہے کہ غیروں کی غلامی نے اسلامی حمیت سے حکمرانوں کے وجود خالی کر دیئے... یہ دیکھنے میں اسلامی ملکوں کے حکمران ہیں... مگر اندر سے بالکل خالی اور ان بے جان بتوں کی طرح کہ... جو اپنی ناک پر بیٹھنے والی مکھی اڑانے کی سکت بھی نہیں رکھتے... گزشتہ سال اس بات کا بڑا شور تھا کہ سعودی عرب کی قیادت میں اسلامی ممالک کی افواج کا مشترکہ فوجی اتحاد قائم ہوا ہے کہ جو ایران کے توسیع پسندانہ عزائم کے راستے میں مزاحم ہو گا...اسلامی ممالک کے اس مشترکہ فوجی اتحاد کا کیا بنا؟ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو سکی، اگر وہ اتحاد کہیں پہ ہے تو اسے لاشوں سے اٹا ہوا حلب نظر کیوں نہیں آیا؟ افسوس صد افسوس... او آئی سی سمیت اسلامی ممالک کے حکمرانوں نے عالم اسلام کو سوائے مایوسیوں کے کچھ اور نہیں دیا، عالم اسلام کے ان بے جان بت نما حکمرانوں سے کوئی توقع بھی نہیں ہے امت مسلمہ پر آج بڑا سخت وقت آیا ہوا ہے، افغانستان، عراق، شام، یمن میں امریکہ اور دیگرصہیونی طاقتوں نے آگ کے جو شعلے بھڑکائے تھے... وہ شعلے، اب پاکستان، ترکی، لبنان اور سعودی عرب کو بھی اپنی لپیٹ میں لینا چاہتے ہیں مگر حکمرانوں اور سیاست دانوں کو ابھی یہ بات سمجھ میں نہیں آرہی، وہ ابھی بھی۔ میر کیاسادہ ہیںکہبیمار ہوئے جس کے سبب اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں کے عادی بنے ہوئے ہیں، افسوس صد افسوس کہ حلب میں فرقہ پرستوں نے ظلم و ستم کی تمام حدیں پار کر لیں، مگر پاکستان کی وزارت خارجہ نے ان مظلوموں کے حق میں سنگل کالم بیان دینا بھی گوارا نہ کیا۔ حلب کے مسلمانوں کے یہ دن بھی گزر ہی جائیں گے، لیکن ان پرہونے والے بے پناہ مظالم پر خاموش رہنے والے رب کے حضور کیا جواب دیں گے؟

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
75%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
25%
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved