یوم قائد ۔غور طلب پہلو
  28  دسمبر‬‮  2016     |     کالمز   |  مزید کالمز
25 دسمبر کی تاریخ ہمارے قومی کلینڈر میں خاص اہمیت کی حامل ہے۔بابائے قوم محمد علی جناح کے یوم ولادت کی مناسبت سے ایک تعطیل بھی محتص کی گئی ہے۔سرکاری بندوبست کے مطابق بابائے قوم کو رسمی خراج تحسین پیش کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں برتی جاتی۔توپوں کی سلامی ،مزار پہ گارڈز کی تبدیلی اور روایئتی بیانات کے ذریعے خراج تحسین پیش کرنے کا یہ سلسلہ جاری ہے۔بانی پاکستان کو خراج تحسین پیش کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ۔باشعور قومیں اپنے مُحسنوں کو یاد رکھتی ہیں۔تاہم یہ امر ضرور قابل غور ہے کہ ہماری تمام رسومات اور تقریبات تعمیری جذبے اور حقیقت پسندی سے عاری ہی رہتی ہیں۔یوم قائد پر سرکاری بندوبست میں کی جانے والی رسمی کاروایئوں کا تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ عملی میدان میں ہر سطح پر ہم قائد محترم کی تعلیمات کی نفی کر رہے ہیں۔قول وفعل کے اس لا متناہی تضاد نے ہمیں بحرانوں کی ایسی دلدل میں پھنسا دیا ہے جو دھیرے دھیرے ہمارے سماجی وجود کو نگل رہی ہے۔ قومی سطح کے قائدین کی بے مقصد چرب زبانی اور غیر معیاری بیان بازی نے قوم کو بے حد مایوس کر دیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ قومی تہواروں اور اہم مواقع پر جاری کئے جانے والے بیانات پر کوئی شخص بھی یقین کرنے کو تیار نہیں ہوتا ۔قائد اعظم محمد علی جناح کو جب حکمران طبقے منارہِ نور اور قابل فخر سیاسی راہنما قرار دیتے ہوئے زمین وآسمان کے قلابے ملاتے ہیں تو عوام الناس کے دلوں میں اُن کی منافقت اور دوغلے پن کے خلاف نفرت میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔جناح کو زبانی کلامی خراج تحسین پیش کرنا بے حد آسان ہے لیکن اُن کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مثبت سیاست کرنا بے حد دشوار ہے۔ایک بد عنوان اور نا اہل سیاست دان کی زبان سے قائد اعظم کی شان میں نکلے ہوئے الفاظ ہر مہذب پاکستانی کے مزاج پر گراں گزرتے ہیں آخر منافقت اور نکمے پن کی بھی کوئی حد ہونی چاہئے۔موجودہ سیاسی اشرافیہ کا جناح کے مثالی کردار سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ ایمانداری، ثابت قدمی ، بلند کرداری، ذہانت مشن سے والہانہ وابستگی اور راست گوئی جیسی ان گنت خوبیوں کے حامل محمد علی جناح یقینا برصغیر کے سیاسی اُفق پر چمکنے والا روشن ترین ستارہ تھے۔ بدقسمتی سے آج ہمارے سیاسی ماحول میں ان اعلیٰ صفات کے لئے کوئی گنجائش نہیں۔ اس خرابی کی ذمہ داری حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف پر یکساں عائد ہوتی ہے۔موجودہ سیاسی گروہوں نے عملی میدان میں بد عنوانی ، بد انتظامی اور نااہلی کے سیاہ باب رقم کئے ہیں۔محمد علی جناح نے کبھی ذاتی مفادات کی تکمیل کے لئے اپنے سرکاری منصب اور سیاسی اثر ورسوخ کو استعمال نہیں کیا ۔اُن کی سیاسی جدوجہد کا مرکزومحور اپنی قوم کی اجتماعی فلاح اور سیاسی مستقبل کا تحفظ تھا۔اپنے عہد کے مقبول ترین مسلم سیاسی قائد ہونے کے باوجود نہ انہوں نے کھبی اپنے مخالفین سے سیاسی سودا بازیاں کیں اور نہ ہی قدامت پسندوں کی بے بنیاد تنقید کے آگے سرنگوں ہوئے۔جناح نے جس چیز کو حق جانا اس کی حمایت پر ڈٹ گئے۔اپنے بد ترین ناقدین کے گھٹیا ذاتی حملوں کے ردِ عمل میںکبھی اخلاق سے گری ہوئی بات نہ کی۔ محمد علی جناح برصغیر کے سیاسی اُفق پر راست گوئی ، وقار اور عزم وہمت کی سب سے روشن علامت تھے ۔یہ اعلیٰ صفات آج ہمارے سیاسی منظر نامے سے ناپید ہو چکی ہیں ۔آج کی سیاسی قیادت کا دامن اعلیٰ سیاسی صفات سے خالی ہے۔کارکردگی کے نام پر قوم کے سامنے پیش کرنے کے لئے حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف کے پاس کچھ بھی نہیں۔ستر کی دہائی میں قومی منظر نامے پر جو دانش مند اور مخلص سیاست دان قوم کو دستیاب تھے وہ بھی اب دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔ بڑی سیاسی جماعتوں نے کبھی بھی اپنی صفوں میں جوہر قابل کو جائز مقام نہیں دیا۔ محمد علی جناح کی خوبیوں کا ذکر کرکے اپنی ساکھ بچانے کے لئے دکھاوا کرنے کو تو سب تیار ہیں لیکن بابائے قوم کے طے کردہ سیاسی اصولوں پر عمل کرنے کا حوصلہ ہماری سیاسی قیادت میں نہیں۔ اس یوم قائد پر قوم کے نوجوان اس تکلیف دہ پہلو پر غور کریں تو شائد معاشرے میں حقیقی تبدیلی کا بویا گیا بیج کل شجرِ سایہ دار بن جائے۔جھوٹ، منافقت، بدعنوانی ، شدت پسندی اور سرکاری اخراجات پر شاہانہ پروٹوکول جیسے جرائم کا محمد علی جناح کی طرزِ سیاست سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ معاشرے میں پھیلی اِن برائیوں کے سدباب کے لئے غورو فکر کے لئے یومِ قائد سے بہتر کون سا دن ہو سکتا ہے۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved