بنگالی ہندوئوں کو کشمیر کا ڈومیسائل
  28  دسمبر‬‮  2016     |     کالمز   |  مزید کالمز
بھارت نیبرصغیر کی تقسیم کے 70سال بعد بنگلہ دیش سے نقل مکانی کرنے والے ہندو ریفیوجیزکوریاست جموں و کشمیر کا ڈومیسائل جاری کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ بھارتی حکومت نے ان ریفوجیز کوبنگلہ دیش سے لا کر جموں، کٹھوعہ اور راجوری اضلاع میں بسایا ۔ 70سال سے یہ ریفیوجیز یہاں پر ہیں۔ انہیں بھارتی پارلیمنٹ کے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی اجازت ہے لیکن یہ جموں کشمیر کی اسمبلی انتخابات میں ووٹ نہیں ڈال سکتے۔ 47کے بعد1965,1971کی جنگوں کے دوران متاثر ہونے والوں کو بھی جموں میں لا کر بسایا گیا۔ بنگالی شرنارتھیوں یا ریفیوجیز کو تقسیم کے فارمولے کے تحت ہندوستان میں بسایا جانا تھا۔ کیوں کہ جموں و کشمیر متنازعہ ریاست ہے۔ اس کا اعتراف بھارتی حکمرانوں نے دنیا کے سامنے تحریری طور پر بھی کیا ہے۔ اس لئے کسی عالمی متنازعہ خطے میں جس کے سیاسی مستقبل کو طے کرنا باقی ہے۔ اس میں بیرونی آبادکاری کی اجازت نہیں دی جانی چاہیئے۔ اسی طرح اسرائیل نے بھی باہر سے یہودی لاکر فلسطینی علاقوں میں بسائے اور ان کی بستیاں قائم کیں۔ بعد ازاں ان ریفیوجیز نے وہاں پر مسلمانوں کے علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ یہی وجہ ہے کہ فلسطینی اسرائیل کے خلاف جدو جہد کر رہے ہیں۔ انکی سرزمین پر اسرائیل نے جبری قبضہ کیا اور آج بھی وہاں پر یہودیوں کی نئی بستیاں قائم کی جا رہی ہیں۔ جب کہ فلسطینی ان کے علاقے خالی کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ لیکن ان کی آواز کوئی نہیں سنتا۔ جب وہ تنگ آ کر بندوق اٹھا لیں تو انہیں دہشت گرد قرار دے دیا جاتا ہے۔ ڈومیسائل جاری کرنے کا سلسلہ بھارتی حکومت کے ریاستی حکومت کو لکھے ایک مکتوب 19/01/2016-R&SOمورخہ5/8/2016کے بعد شروع ہوا۔ اس خط میں بھارتی وزارت داخلہ نے کہا تھا کہ بنگلہ دیشی ریفیوجیزکو بھارتی فورسز میں بھرتی کرنے کے لئے شناختی کارڈز جاری کئے جائیں۔ اس خط کے فوری بعد ریاسی ڈپٹی کمشنرز نے تحصیلداروں کو شناختی کارڈ بھارتی وزارت داخلہ کے فارمیٹ کے مطابق جاری کرنے کی ہدایت کی۔ ایفیوجیز ایکشن کمیٹی کے صدر لبھارام گاندھی کے مطابق اس وقت جموں خطے میں کل 19ہزار960بنگلہ دیشی ریفیوجیزکنبے رہائش پذیر ہیں۔ تا ہم سرکاری ریکارڈز کے مطابق صرف5ہزار764خاندان بنگالی ریفیوجیزخاندان ریاست میں موجود ہیں۔ بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا نے یہ تعداد30ہزار کنبے بیان کی ہے۔ اخبار کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ کشمیری بنگلہ دیشی ریفیوجیز کی موجودگی پر اعتراض کرتے ہیں لیکن انہیں روہنگیا اور تبتی مسلم ریفیوجیز پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ بھارتی میڈیا انتہائی تعصب کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ کشمیریوں کو ان کی موجودگی پر اعتراض نہیں تا ہم ان کو ریاستی کا پشتنی باشندہ ہونے کا سرٹیفکیٹ یا شناختی کارڈ جاری کرنے پر اعتراض ہے۔ غیر ریاستی کوکشمیر کی شہریت نہیں دی جا سکتی ہے۔ یہی قوانین ہیں۔ بھارتی حکمران جموں میں ہندو آبادی میں اضافہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔یہاں 10ہزار روہنگیا مسلم مہاجرین بھی موجود ہیں۔ جن کے خلاف آئے روز ڈوگرہ آبادی ہندو انتہا پسندوں کے اشاروں پرنفرت اور تعصب کامظاہرہ کرتی ہے۔ گزشتہ دنوں ان کی ایک پوری بستی کو آگ لگا دی گئی۔ بھارتی حکومت نے بنگلہ دیشی ہندوں کو لاکھوں کی تعداد میں بھارت میں بسانے کے بجائے کشمیر میں لا کر کیوں بسیایا۔ اس کا واحد مقصد مسلم آبادی کو اقلیت میں بدل دیا جائے۔ اگر چہ جموں کے خطے میں 1947میں بھی مسلمانوں کا قتل عام کیا گیااور لاکھوں کی تعداد میں لوگ منظم آپریشن کے دوران شہید کر دیئے گئے۔ صرف تین دنوں میں ساڑھے تین لاکھ مسلمانوں کی شہادت کا اعتراف برطانوی میڈیا نے بھی کیا ہے۔جموں کے مسلم علاقوں پر ہندوئوں نے قبضہ کر لیا۔ یہ علاقہ پہلے سے مسلم اقلیتی خطہ بن چکا ہے۔ جبکہ وادی کشمیر میں مسلمانوں کی آبادی99فی صد پر مشتمل ہے۔ لداخ میں نصف آبادی مسلم اور نصف بدھ ازم کے پیروکاری کی ہے۔ وادی اور جموں میں سکھ اور عیسائی بھی یہاں کے باشندے ہیں۔ تا ہم بنگلہ دیش کے لاکھوں ریفیوجیز کو مستقل باشندہ قرار دینا ریاستی آئین و قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ جس کے خلاف کشمیری احتجاج کر رہے ہیں۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں مہاراجہ نے سٹیٹ سبجیکٹ قوانین بنائے ہیں۔ جن کے تحت کوئی بھی غیر ریاستی باشندہ ریاست میں زمین یا مکان نہیں خرید سکتا ہے۔ اور نہ ہی کسی غیر ریاستی کو ریاست کا پشتنی باشندہ ہونے کا سر ٹیفکیٹ دیا جا سکتا ہے۔ یہ قوانین آج تک رائج ہیں۔ آزاد کشمیر میں بھی یہ قوانین نافذ ہیں۔ چونکہ ریاست میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام رائے شماری ہونی باقی ہے ۔ اس لئے یہاں کی آبادی کی حیثیت کو بدلنے کا مطلب رائے شماری کے عمل کو متنازعہ بنانا ہے۔ اسی لئے جموں میں بنگالی ریفیوجیزکو ڈومیسائل دینے کی مخالفت کی جا رہی ہے۔ بنگالی ریفیوجیز کے حق میں بھارتی حکومت نے گزشتہ دنوں 2ہزار کروڑ بھارتی روپے پیکیج کا علان کیا۔ اس پیکیج کا اعلان وزیراعظم مودی کی زیر صدارت کابینہ اجلاس کے بعد کیا گیا۔ تا ہم جموں میں بسنے والے ریفیوجیز9ہزار کروڑ کا مطالبہ کر رہے تھے۔ انھوں نے ایک تنظیم بھی بنائی ہے جس کا نام جموں کشمیر شرنارتھی ایکشن کمیٹی رکھا گیا ہے۔ جموں میں بسنے والے ان ہندو ریفیوجیزکو 2015میں دہلی حکومت نے خصوصی رعایتیں دینے کا اعلان کیا۔ انہیں بھارت فورسز میں بھرتی کرنے، روزگار دینے، ان کے بچوں کو'' کیندرے ودھیالوں''(بھارتی تعلیمی ادارے)میں داخلے کی رعایت دی گئی جبکہ بھارتی فورسز میں کشمیریوں کی بھرتی ممنوع قرار دی گئی ہے۔پیکیج اعلانات اور خصوصی رعایتوں کے بعد مودی حکومت نے ریاست میں اپنی اتحادی پی ڈی پی کو بھی اپنا ہمنوا بنا لیا ہے۔ دہلی کی ہدایت پر محبوبہ مفتی حکومت نے بنگلہ دیشی ہندو ریفیوجیز کو ڈومیسائل جاری کرنے شروع کر دیئے ۔ بعض اطلاعات ہیں کہ بنگلہ دیشی ریفیوجیزکو گزشتہ6ماہ سے شناختی کارڈز جاری کئے جا رہے ہیں۔ (جاری ہے)

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved