!دہشت گرد پیدا نہ کریں
  28  دسمبر‬‮  2016     |     کالمز   |  مزید کالمز

بلوچستان میںعلیحدگی پسند، دہشت گرد تنظیموں کے پاکستان کے دشمن ممالک سے رابطے کوئی نئی بات ہیں نا ہی ان کی ملک دشمنی اور انسانیت بیزاری پر کوئی دوسری رائے مگر اس کے باوجود ریاست ہر وقت اس امر پر تیار دکھائی دیتی ہے کہ ان میں سے کوئی امن کی راہ اختیار کرنا چاہے تو اسے نہ صرف خوش آمدیدکہتے ہوئے اچھی خاصی رقم بھی دی جاتی ہے۔ یہ ایک جائز اور قابل تعریف عمل ہے اور کوئی انوکھی کارروائی بھی نہیں ، دنیا بھر میں حکومتیں اپنے خلاف مسلح تحاریک کا زور توڑنے کی خاطر یہی کچھ کرتی ہیں۔ بلوچستان پاکستان کا قانونی حصہ ہے ، پاکستان نے دشمن کے ہتھے چڑھ جانے والے اپنے ہی شہریوں کی واپسی کی خاطر یہ راستہ اختیار کیا ،لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ کشمیر میں قابض بھارت اس خطہ کے مسلمانوں تک کو اسی طرح سے رام کرنے کی کوشش کرچکا ہے۔مشرف دور میں جب کشمیری مجاہدین کے رابطے پاکستان سے کاٹ ڈالے گئے اور بھارتی حکومت کو امریکہ کے ذریعے سے اس کی تصدیق بھی کردی گئی تو وہاں کانگریس کی حکومت نے یہی ہتھکنڈہ استعمال کیا، لوگوں کو نوکریوں کا لالچ دیا گیا، ان کے خلاف مقدمات ختم کرنے کی آپشن دی گئی ،بلکہ انہیں زر تلافی تک ادا کیا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ تحریک ایک مرحلہ پر ٹھنڈی پڑتی ہوئی دکھائی دی۔ وہ الگ بات کہ پاکستان کی بلوچ دہشت گردوں کو آفر اپنے ملک کے شہریوں کو واپس لانے کی ایک سچی کوشش تھی ،مگر بھارت نے یہ عمل چال کے طور پر استعمال کیا اور جب اس کی مکاری عیاں ہوگئی تو تحریک وہیں سے اٹھی جہاں اسے چھوڑا گیا تھا ۔ یہی تجربہ سعودی حکومت نے بھی کیا اور دنیا سے ڈھونڈ ڈھونڈ کر اپنے شہریوں کو تلاش کیا جو دہشت گردی میں ملوث تھے ان کو رہا کروایاان کی تربیت کی اور انہیں اچھی خاصی مالی حیثیت دے کر انہیں واپس ملک لاکرآباد کاری میں مدد کی گئی، نتیجہ یہ کہ سعودی عرب اب اس دہشت گردی کی وبا ء محفوظ سے سمجھا جاتا ہے ۔اس کی اس حکمت عملی کو سراہا بھی جارہا ہے، اور تو اور افغان حکومت طالبان کے لئے ڈالروں کی بوریاں کھولے بیٹھی ہے ۔ پوری دنیا میںحکومتوں سے ناراض اور ملک دشمن سر گرمیوں میں شامل ہوجانے والوں سے نمٹنے کا ایک ہی اصول ہے کہ ان میں سے جو قانون کی عملداری قبول کرے اسے امان دی جاتی ہے ، اس مقصد کی خاطر اربوں ڈالر کے بجٹ بنتے ہیں اور شہہ دماغ بیٹھ کر حکمت عملی تیار کرتے ہیں کہ کس طرح انہیں قائل کرکے واپس لایا جائے مگر پاکستان میں اس اصول کو ایک حصہ یعنی بلوچستان کی حد تک تو نافذ کیا جارہا ہے ۔لیکن ملک کے دیگر حصوں میں اس کے برعکس واپس آنے والوں کو دہشت گردی کی جانب دھکیلنے کی کوشش کی جارہی ہے اور اس سارے عمل کو انسداد دہشت گردی کا نام دیا جارہا ہے ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ کالعدم تنظیموں کے نام پر ،پر امن آبادی کے ایک بڑے حصہ کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی جارہی ہے اور سوچے بغیر کہ پرا من زندگی کے راستے جب آپ بند کر دیں گے تو وہ کہاں جائیں گے؟کیا کریں گے؟۔صورتحال یہ ہے کہ ایک پڑوسی ملک کی جانب سے ملک میں مقدس شخصیات کے خلاف توہین آمیز لٹریچر اور اسی ملک کے سفارتکاروں کی جانب سے ایک فرقہ کو مسلح کرنے کی کوشش کے رد عمل میں فرقہ وارانی کشیدگی پید ا ہوئی جو حکومتوں کی عدم دلچسپی اور احمقانہ پالیسیوں کے سبب دہشت گردی کی شکل اختیار کر گئی ، جسے بعض اطلاعات کے مطابق ملک دشمن عناصر نے استعمال کیا ۔ ان کے خلاف ریاستی ادارے متحرک ہوئے تو پورے ملک نے ساتھ دیا کیونکہ یہ اصول نا قابل ترمیم ہے کہ جو بھی ملک میں ہتھیار اٹھائے گا ملک دشمن ہوگا دہشت گرد ہوگا اس سے کوئی بات ممکن نہیں۔ سوال یہ ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف ہر کارروائی کی حمائت کی جاتی ہے ۔ اس میں کوئی دوسری رائے نہیںلیکن وہ لاکھوں لوگ جو دہشت گردی میں ملوث نہیں،جو ملک کے وفادار ہیں جنہوں نے ریاستی اداروں کے مقابلہ میںزیادہ تندہی کے ساتھ ملک کے امن کو خراب کرنے والوں کو اپنی صفوں سے نکالااور اس کے جواب میں وہ ان کی دہشت کا بھی شکار ہوئے ،دھمکیاں برداشت کیں، گولیاں کھائیں ،لاشیں اٹھائیں، حکومت کے ایجنٹ ہونے کے طعنے سنے اور نا صرف خود امن پر قائم رہے بلکہ لاکھوں کارکنوں کو بھی امن کی راہ سے بھٹکنے نا دیا ، گزشتہ ایک برس سے ہر دوسرے دن ان کے خلاف کوئی نا کوئی نیا شوشہ چھوڑا جاتا ہے ، پہلے ان کے بنک اکائونٹس بند کئے گئے پھر شناختی کارڈ ز کا مسئلہ آیا اور جب حکومت نے دیکھا کہ یہ اقدام الٹا ان کے گلے پڑجائے گا تو اسے واپس لیا ۔ اب ایک نیا شوشہ چھوڑا جا رہا ہے کہ'' انڈیا ایکٹ 1918ء کو دوبارہ نافذ کیا جارہا ہے ، جس کے تحت کالعدم تنظیموں کے لوگ اپنی نقل وحرکت کے لئے ڈی آئی جی اور ڈپٹی کمشنر کی اجازت کے پابند ہونگے ''۔جس عقل کے دشمن نے یہ تجویز دی اور جن جہالت کے پیامبروں نے اسے تسلیم کیا کیا وہ اتنا بھی نہیں جانتے کہ یہ قانون ہندوستان کے آزادی پسندوں کو کنٹرول کرنے کی خاطر نافذ کیا گیا تھا ۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ یہ غیر ملکی قابضوں کا غلاموں کوقابو رکھنے کا حربہ تھا ؟ اور مزید یہ کہ کیا کسی نے تجزیہ کیا کہ یہ قانون انگریز کی حکومت کو بچا سکا یا اس کے بعد آزادی کی تحریک نے مزید جان پکڑی ۔ سمجھ نہیں آتی کہ جو لوگ الیکشن کی طرف آرہے ہیں، جو ملکی آئین اور قانون کو تسلیم کرتے ہیں،جو عدالتوں کو مانتے ہیں، جو دہشت گردوں کے خلاف پہلی صف میں کھڑے ہیں۔ ان پر قدغن لگا کر ان سے شہری حقوق چھین کر انکی آزادیاں سلب کرکے حکومت کیا پیغام دینا چاہتی ہے ؟ کیا نتائج لینا چاہتی ہے ؟ کیا انہیں اتنا بھی معلوم نہیں کہ جب تمام راستے بند کر دئے جائیں تو آخری راستہ بغاوت ہی باقی رہ جاتا ہے ۔کیا یہ علم نہیں رکھتے کہ جسے آپ دیوار سے لگائیں وہ اتنی ہی شدت سے نفرت کی جانب جاتا ہے ۔ ایسا نہیں لگتا کہ حکومت میں گھسے ہوئے چند فرقہ پرست امن نہیں چاہتے ، انہیں ملک سے فرقہ واریت کا خاتمہ نہیں چاہئے۔ وہ صرف فساد چاہتے ہیں اور فساد کے نمائندہ ہیں، ورنہ ایسی احمقانہ پالیسیوں پر زور نا دیتے ۔ پر امن لوگوںکو انتہا پسندی کی راہ پرڈالنے کا سبب نا بنتے ۔کہیں ایسا تو نہیں کی حکومت جھنگ میںتمام تر حربوںکے باوجود اپنی عبرتناک شکست کا بدلہ یوں لینا چاہتی ہے ۔ یا پھر فرقہ پرست عناصر اسی الیکشن میں اپنی شکست کا بدلہ لینے نکلے ہیں۔ مولانا حق نواز کا بیٹا اگر اپنے حلقہ میںاہل تشیع کے ووٹ حاصل کرکے خود کو ان کا نمائندہ قرار دیتا ہے تو فرقہ واریت پر اس سے بڑی ضرب اور کیا ہوگی ؟ارباب اختیار اگر واقعی امن چاہتے ہیں اور فرقہ پرستوں کی ناکامی ان کا ایجنڈا ہے تو انہیں واپس آنے والوں کو واپس لینے کے بجائے سینے سے لگانا چاہئے ورنہ یہ فرقہ پرست بھاگ جائیں گے بھگتنا قوم کو پڑے گا ۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved