عمران خان ' مولانا فضل الرحمن کو عدالت طلب کریں؟
  28  دسمبر‬‮  2016     |     کالمز   |  مزید کالمز

کوہاٹ کے جلسہ عام میں مولانا فضل الرحمن نے اپنے خطاب میں ماضی کے سربستہ رازوں سے پردہ ہٹا کر صرف خیبرپختونخوا میں بلکہ ملک بھر کے عوام کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا … مولانا فضل الرحمن کہتے ہیں کہ ''عام انتخابات کے بعد تحریک انصاف کی طرف سے کچھ بڑے بڑے لوگ مجھے آمادہ کرنے آئے کہ تحریک انصاف سے صلح کرلوں' پی ٹی آئی کے وفد سے میری تین ملاقاتیں ہوئیں … مگر میں آمادہ نہیں ہوا … اور میں نے کہا کہ میری کسی سے ذاتی لڑائی نہیں ' جس بات پر عمران خان سے اختلاف کیا اس پر قائم ہوں … عقیدے اور نظریئے پر کوئی مصالحت نہیں ہوسکتی' میں لڑوں گا… وفد میں موجود لوگوں نے مجھے کہا کہ آپ نے تو چیپٹر ہی کلوز کر دیا … اور ہمارے ساتھ بات ہی نہیں کررہے … مگر ہم آپ سے دو ' تین باتیں کرنا چاہتے ہیں۔ ''مولانا'' کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے لوگوں نے مجھے کہا کہ ہم تین سالوں سے آپ کی تقاریر نوٹ کررہے ہیں … آپ عمران خان کو یہودی لابی کا ایجنٹ کہتے ہیں اور مغربی تہذیب کا نمائندہ قرار دیتے ہیں … مولانا فضل الرحمن نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے وفد میں شامل لوگوں نے اعتراف کیا کہ آپ عمران خان کے بارے میں یہ دونوں باتیں بالکل درست کہتے ہیں اور ہم اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ مولانا نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا میں پشتون بیلٹ میں مذہب کی جڑیں بہت گہری ہیں … اور ان جڑوں کو اکھاڑنے کے لئے عمران خان کو صوبے پر مسلط کیا گیا ' مولانا فضل الرحمن نے چھکے پہ چھکا مارتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر معیشت پر یہودی قابض ہیں … اور اب یہاں پیسہ آئے گا جو ایک ایک مولوی اور مسجد تک جائے گا … پھر دیکھنا کہ آپ کے ساتھ ایک مولوی بھی نہیں ہوگا… اور آپ تنہا رہ جائیں گے … انہوں نے چیلنج کیا اور مجھے للکارا کہ صوبے میں پیسے کا سیلاب آئے گا اور تم اس کے سامنے ٹھہر نہیں سکو گے … ''مولانا'' کہتے ہیں کہ میں نے انہیں جواب دیا کہ آپ جانیں اور آپ کا پیسہ جانے؟ ہم یہودی ایجنڈے کو ناکام بناکر چھوڑیں گے۔ مولانا فضل الرحمن کے حوالے سے ہر صاحب بصیرت انسان یہ بات اچھی طرح جانتا ہے کہ وہ جلسوں کی تقریروں میں نہ تو جذباتی ہوتے ہیں … اور نہ ہی ہوش کا دامن چھوڑتے ہیں … قوم اس بات سے بھی باخبر ہے کہ ''مولانا'' اپنی تقریروں میں لمبی لمبی چھوڑنے کے عادی بھی نہیں ہیں … ہمیشہ نپے تلے الفاظ میں جچی تلی گفتگو کرتے ہیں۔ اتوار کے دن کوہاٹ کے عوامی اجتماع میں مولانا فضل الرحمن نے عمران خان پر جو شدید تنقید اور تابڑ توڑ حملے کیے اسے محض ''سیاسی '' بڑھکیں سمجھنا بیوقوفی ہوگی۔ مولانا فضل الرحمن نے عمران خان اور تحریک انصاف سے لڑائی کو ''نظریئے'' اور عقیدے کی لڑائی قراردے کر گیندبنی گالہ والوں کی کورٹ میں اچھال دی ہے … اب عمران خان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ مولانا فضل الرحمن کے ان خوفناک الزامات کا جواب ''ڈیزل ' ڈیزل'' کے نعرے لگوا کر نہیں … بلکہ حقیقت پسندانہ انداز میں دیں ' اور اگر وہ مولانا کو عدالت میں طلب کریں تو زیادہ بہتر ہوگا ' عمران خان ہمت کریں اور ''مولانا'' کے خلاف سپریم کورٹ میں رٹ کریں کہ ''مولانا فضل الرحمن مجھے یہودی لابی کا ایجنٹ اور مغربی تہذیب کا نمائندہ قرار دیتے ہیں … جبکہ میں اسلامی تہذب کا نمائندہ اور مسلمان لابی کا پروردہ ہوں لہٰذا ''مولانا'' کو عدالت طلب کرکے ان کی طرف سے مجھ پر لگائے جانے والے الزامات کے ثبوت طلب کیے جائیں۔'' یہ بات حقیقت ہے کہ خیبرپختونخوا پشتون بیلٹ میں مذہب کی جڑیں انتہائی گہری اور بڑی مضبوط ہیں … نائن الیون کے بعد اگر عالمی صیہونی طاتیں دینی مدارس اور سرکاری تعلیمی اداروں کا نصاب تعلیم تبدیل کروانے کیلئے … ''پیس اینڈ ایجوکیشن'' فائونڈیشن جیسی این جی اوز کو فنڈنگ کرکے بعض اہم مولوی حضرات کو ڈالرخوری پر لگاسکتی ہیں … تو پھر پشتون بیلٹ کے راسخ العقیدہ مسلمانوں سے روح محمد (ۖ) ختم کرنے کیلئے کچھ بھی کرسکتی ہیں۔ اگر عمران خان اور مولانا فضل الرحمن کے درمیان سیاسی جھگڑا ہوتا تو ممکن ہے کہ یہ خاکسار خاموش تماشائی بنا رہنے میں ہی عافیت سمجھتا… مگر ''مولانا'' نے عمران خان کے ساتھ عقیدے اور نظریئے کی لڑائی لڑنے کا اعلان کرکے ہم جیسوں کے لئے سوچ کی نئی راہیں کھول دی ہیں… امریکہ اور عالمی صیہونی شیطانوں سے کسی قسم کی خیر کی توقع رکھنا عبث ہے … عمران خان کی ذمہ داری ہے کہ وہ وضاحت کریں گے کہ ان کی پارٹی کے حکومتی صوبے میں امریکی' برطانوی و دیگر یورپی ممالک کی این جی اوز کا اتوار بازار کیوں سجا ہوا ہے ؟ وہ کرپٹ سیاست دانوں اور حکمرنوں کو ضرور گھسٹیں … سیاست کے میدان میں دوسروں کو پچھاڑنے کیلئے سردھڑ کی بازی لگانا بھی جمہوریت کاحسن ہے … لیکن امریکی یہودیوں کے ایجنڈے کے تحت راسخ العقیدہ مسلمانوں کو ان کے راستے سے ہٹانے کی محنت کرنا غداری کے زمرے میں آتا ہے۔ ہم تو ابھی ''پیس اینڈ ایجوکیشن'' این جی او مارکہ مولویوں کے جھٹکے سے ہی نہیں سنبھل پائے تھے کہ مولانا فضل الرحمن نے … دھواں دار قسم کے انکشافات شروع کر دیئے … میری دعا ہے کہ ''مولانا'' نے عمران خان کے حوالے سے جو انکشا ف کیے ہیں وہ سب کے سب غلط ہوں … لیکن اگر خدانخواستہ ایسا نہ ہوا تو … پھر خیبرپختونخواہ کے عوام کو سوچنا چاہیے کہ ان پر حکومت کرنے والوں کی جڑیں کہاں تک پھیلی ہوئی ہیں؟


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
50%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
50%


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved