بنگالی ہندوئوں کو کشمیر کا ڈومیسائل
  29  دسمبر‬‮  2016     |     کالمز   |  مزید کالمز

(گزشتہ سے پیوستہ) برصغیر کی تقسیم کے بعد بنگلہ دیش کے ہندو ریفیوجیز کو بھارت کے بجائے مقبوضہ جموںکشمیر میں کیوں بسایا گیا۔ اس میں بھی آبادی کا تناسب تبدیل کرنا ایک بڑا مقصد ہو سکتا تھا۔ خطے میں مسلم آبادی کی اکثریت بھارت کے ساتھ الحاق یا ادغام کی مخالف ہے۔ تا ہم ہندو آبادی کی اکثریت بھارت کے ساتھ رہنا چاہتی ہے۔ ہندو آبادی یا لداخ کی بدھ مت آبادی کی اکثریت الحاق پاکستان کی مخالف ہے۔ کسی نظریئے کی حامی یا مخالف آبادی کو کو جبری طور پر اس کی سوچ یا اس کی ملکیت جائیداد سے بے دخل نہیں کیا جا سکتا ہے۔ گو کہ حتمی فیصلے آج کے دور میں اکثریت کی رائے کے تحت ہی ہوتے ہیں۔ اسے جمہوریت کا نام دیا گیا ہے۔ تا ہم اس میں مخالف رائے رکھنے والوں کو ساتھ لے کر چلنے یا انہیں اکاموڈیٹ کرنے کا کوئی ذکر یا یقین دہانی نہیں ملتی۔ بھارتی اسٹیبلشمنٹ نے بد نیتی سے بنگلہ دیش یا مغربی پاکستان کے ہندو ریفیوجیوں کو جموں خطے میں بسایا ہے۔ اب انہیں ریاست کا ڈومیسائل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ درست ہے کہ ان شرنارتھیوں کو ان کے حقوق سے محروم رکھا گیا تا ہم اس ناانصافی کے ذمہ دار بھارتی حکومت ہے جس نے جموں و کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو مدنظر رکھتے ہوئے بھی منصوبہ بندی سے ان لاکھوں افراد کو جموں خطے میں لا بسایا۔ بھارتی حکومت اس نا انصافی کی مرتکب ہوئی ہے۔ اس کا ازالہ کرنے کے بجائے آ ج بھارت ایک بار پھر ان معصوم ریفیوجیوں کو نا انصافی اور استحصال کا نشانہ بنا رہا ہے۔ دو قومی نظریہ اور تقسیم کے اصولوں کے مطابق انہیں بھارت میں بسایا گیا ہوتا تو یہ بھارت ک شہری کہلاتے۔ مگر ان کی بدقسمتی اور بھارتی حکمرانوں کی بد نیتی نے انہیں 70سال سے شرنارتھی بنا رکھا ہے۔ وہ آج بھارت کے شہری ہیں۔ لیکن وہ جانتے ہیں کہ انہیں جموں و کشمیر کی شہریت نہیں دی جا سکتی ہے۔ 1987میں جموں میں بسنے والے ریفیوجیز کی ایکشن کمیٹی نے سپریم کورٹ آف انڈیا میں رٹ پٹیشن دائر کی۔ تا کہ انہیں انصاف مل سکے۔ سپریم کورٹ نے اس وقت فیصلے میں کہا کہ یہ کام بھارتی مرکزی اور ریاستی حکومتوں کا ہے کہ وہ ان ریفیوجیز کے جائز مطالبات کو پورا کریں۔ اور انہیں مستقل باشندہ ہونے کا سرٹیفکیٹ جاری کریں تا کہ یہ ریاستی اسمبلی اور پنچائیت انتخابات میں ووٹ ڈال سکیں۔ سپریم کورٹ نے یہ رٹ پٹیشن خارج کر دی تھی اور جسٹس چنیپا ریڈی نے اپنے ریمارکس میں اہم ایشوز کی طرف توجہ دلائی تھی۔ سپریم کورٹ نے واضح کیا تھا کہ جموں و کشمیر ریاست کو خصوصی درجہ حاصل ہے ۔ اس وجہ سے سپریم کورٹ درخواست گزار کو کوئی ممکنہ ریلیف نہیں دے سکتی۔ اس کے باوجود بھارتی حکومت ان ریفیوجیز کو بے وقوف بنانے کا سلسلہ جاری رکھا اور ان کا استحصال کیا گیا۔بھارت جانتا ہے کہ یہ ریاست جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی تک ہے کہ وہ آئین میں ترمیم کرے تو ان ریفوجیز کو ریاستی شہریت مل سکتی ہے۔ اگر جموں و کشمیر ری پریزنٹیشن آف دی پیپل ایکٹ، لینڈ ایلائنیشن ایکٹ، ویلیج پنچایئت ایکٹ، وغیرہ میں ترمیم ہو تو پھر مغربی پاکستان کے ریفیوجیز کو ریاستی انتخابی فہرستوں میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ تب یہ زمین خرید سکتے ہیں۔ پنچایت الیکشن لڑ سکتے ہیں۔ بھارتی اور ریاستی حکومت انہیں آج ڈومیسائل جاری کرنے کا جواز یہ دے رہی کہ انہیں بھارتی فورسز میں بھرتی کرنے کے لئے شناختی کارڈز جار ی کے جا رہے ہیں۔ جب کہ ریفیوجیز کو ملازمتیں دینے کے لئے جموں و کشمیر سول سروسز ، کلاسیفکیشن آف کنٹرول اینڈ اپیل رولز میں ترمیم کرنا ہو گی۔ اس وقت ان ریفیوجیز کی ریاست میں آبادی کا تناسب8فیصد تھا جب سپریم کورٹ میں درخواست دی گئی۔ آج تیس سال بعد پتہ نہیں ان کی آبادی کا تناسب کیا ہے۔ ان کے حقوق کا تحفظ ریاست کیسے کر سکتی ہے جبکہ وہ اس کے باشندے ہی نہیں ہیں۔ وہ مہمان کے طور پر رہائش پذیر ہیں۔ جس طرح جموں میں برما سے2009کے بعد سے ہجرت کرنے والے تقریباً 10ہزار روہنگیا مسلمانوں کے کنبے آباد ہیں۔ وادی میں تبتی مسلمانوں کے مہاجرسیکڑوں کنبے تبتی کالونی میں رہتے ہیں۔ بھارتی میڈیا پروپگنڈا کر رہا ہے کہ ریاست میں ہندوئوں کے ساتھ مذہبی تعصب کی وجہ سے ان ریفیوجیز کو ڈومیسائل دینے کے خلاف ایجی ٹیشن کی جا رہی ہے۔ جب کہ مسلم ریفیوجیز کے بارے میں سب خاموش ہیں۔ ہندو رفیوجیز کو ڈومیسال نہ دیا جاتا تو کوئی احتجاج نہ کرتا جیسے کہ گزشتہ 70سال سے سب خاموش رہے۔ 70سال بعد بھارت کی وزارت داخلہ جموں خطے میں رہائش پذیر بنگالی ہندو ریفیوجیز کے لئے شناختی کارڈ ز جاری کرنے کا فیصلہ کیا۔ جس کا اطلاق مقبوضہ ریاست پر نہیں ہوتا۔ ریاست کی خصوصی پوزیشن ہے۔ بھارتی وزارت داخلہ بے جا مداخلت کررہی ہے جو کہ ریاستی پوزیشن پر جارحانہ حملہ ہے۔ جموں و کشمیر کی متنازعہ حیثیت اور مہاراجہ کے بنانے ہوئے سٹیٹ سبجیکٹ قوانین کے مطابق کوئی بھی غیر ریاستی باشندے آزاد اور مقبوضہ کشمیر میں زمین نہیں خرید سکتا اور نہ ہی وہ ریاستی شہریت اختیار کر سکتا ہے۔ مسلہ کشمیر کے حل تک اس سٹیٹس کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا ۔ کیوں کہ اسمبلیوں کو اس طرح کے آئینی ترمیم کی اجازت نہیں۔ بھارتی انتہا پسند بی جے پی حکومت اس مسلہ کو پروپگنڈہ سے الجھا رہی ہے۔ ہندو کارڈ کھیلنے سے بھارت بنگالی ریفیوجیوں کا مزید استحصال کر رہا ہے۔ اگر چہ ان ریفیوجیز کو بھارتی ''آدھار کارڈز ''اور شناخت کے دیگر ثبوت پہلے ہی سے جاری کئے گئے ہیں۔ تا ہم ڈومیسائل اور نئے وزارت داخلہ کے پروفارما کے مطابق شناختی کارڈز جاری کرنے کا کچھ اور مقصد ہو سکتا ہے۔ سابق وزیراعلیٰ فاروق عبد اللہ کے بھی یہی خدشات ہیں۔ ان کی پارٹی نیشنل کانفرنس ، کانگریس، حریت کانفرنس، جہاد کونسل سمیت تمام بھارت کے اس منصوبے کی مخالفت کرتے ہیں۔ اس ایشو پر وہ ایک پلیٹ فارم پر بھی آسکتے ہیں۔ ریاست کے سٹیٹ سبجیکٹ قوانین مہاراجہ 1927میں بنانے پر مجبور ہوا جب پروسی ریاستوں کے باشندوں نے ریاست پر قبضہ کرنا شروع کر دیا جس پر مہاراجہ نے ایک نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے سٹیٹ سبجیکٹ قوانین کی تشریح کی اور ریاستی شہریت قوانین بنائے۔ جموں میں بی جے پی ، آر ایس ایس اور دیگر ہندو انتہا پسندوں کو بنگالی ہندئوں کو بسانے میں دلچسپی ہے مگر وہ جموں میں وادی کشمیر کے مسلم شہری کو بھی بسنے پر احتجاج کرتے ہیں کہ یہ آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوشش ہے۔ یہی رویہ مہاجرین روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ رکھا گیا ہے۔ آزاد کشمیر حکومت ہی نہیں بلکہ پاکستان کو اس پر احتجاج کرنا چاہیئے کیوں کہ بنگالی ہندو ریفیوجیز کو کشمیر کی شہریت دینے سے مسلہ کشمیر کی متنازعہ عالمی حیثیت متاثر ہو گی۔ کیوں کہ کسی رائے شماری میں غیر ریاستی آبادی کی شرکت مسلے کو مزید الجھانے کی کوشش ہو گی۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved