لالچی دہشت گرد؟
  29  دسمبر‬‮  2016     |     کالمز   |  مزید کالمز
پنجاب فوڈ اتھارٹی نے سپریم کورٹ کے سامنے معروف کمپنیوں اور دودھ فروشوں کے دودھ کے حوالے سے عدالت کو بتایا کہ پیکنگ اور کھلا دودھ بیچنے والی تمام کمپنیوں اور دودھ فروشوں کا دودھ انسانوں کے پینے کے قابل نہیں اور یہ مضر صحت ہے' دودھ میں کیمیکل' یوریا اور گنے کا رس ملا ہوتا ہے... اس پر نامزد چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دئیے کہ ''زہریلا دودھ پلا کر شہریوں کو مارنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی... عدلیہ بچوں کو زہریلا دودھ پلانے کی اجازت نہیں دے سکتی... اگر ہم اپنے بچوں کو صحیح دودھ بھی نہیں دے سکتے تو ہم کام نہیں کر سکتے۔'' نامزد چیف جسٹس جو چاہے ریمارکس دیتے رہیں... چند دن شور شرابا تو ضرور ہوگا لیکن اس کے بعد معاملات پھر ویسے کے ویسے ہی ہو جائیں گے... حکمرانوں کی نہ یہ ترجیح کبھی تھی نہ ہے اور نہ آئندہ ہونے کی توقع ہے کہ وہ بھی مضر صحت دودھ یا دیگر کھانے پینے کی اشیاء بیچنے والوں کے خلاف کوئی ایسا سخت ایکشن لیں کہ جو دوسروں کے لئے مثال بن سکے۔ قوم کے بچے اسی طرح مرتے رہیں گے... جو کمپنیاں یا دودھ فروش' دودھ میں کیمیکل' یوریا یا بال صفا پائوڈر استعمال کرتے ہیں... ان میں سے چند ایک کو اگر کڑی سزائیں دے ڈالی جائیں' ان کی کمپنیوں پر مستقل پابندی عائد کر دی جائے تو پھر شاید ممکن ہے کہ دوسرے بھی اس سے عبرت حاصل کر سکیں۔ دودھ میں کیمیکل' یوریا یا بال صفا پائوڈر استعمال کرکے کروڑوں انسانوں کی زندگیوں سے کھیلنے والے انسان نہیں بلکہ درندے کہلانے کے مستحق ہیں' انسانی شکل والے ان درندوں کا شہروں میں کھلے عام پھرنا بھی انسانیت کی توہین کے مترادف ہے۔ مضر صحت دودھ یا دیگر کھانے پینے کی اشیاء بیچنے والوں سے رشوت لے کر انہیں اس مکروہ دھندے کی اجازت دینے والے سرکاری افسران بھی اس ملک اور قوم کے مجرم ہیں۔ خودکش حملہ آور' بم دھماکے کرنے والے تو چوہوں کی طرح چھپنے پر مجبور ہوتے ہیں اور ان کے خلاف مختلف نوعیت کے سارا سال آپریشن بھی جاری رہتے ہیں...لیکن شہریوں کو زہریلا دودھ پلانے والے ' زہریلی شراب مہیا کرنے والے... مرچیں ہوں' ہلدی ہو' چینی ہو' کوکنگ آئل ہو' گھی ہو یا ادویات ان میں ملاوٹ کرکے کروڑوں انسانوں کی زندگیوں سے کھیلنے کی کوشش کرنے والے... نہ صرف شہروں میں رہتے ہیں... بلکہ وہ معاشرے میں معزز انسان کا اسٹیٹس بھی حاصل کرتے ہیں... حالانکہ خودکش حملہ آوروں اور دہشت گردوں کی طرح... یہ بھی بدترین دہشت گرد اور مجرم ہیں۔ لیکن قوم کو جعلی ادویات ' جعلی دودھ' جعلی گھی' جعلی کوکنگ آئل اور دیگر جعلی اشیاء بیچنے والوں کے خلاف نہ کوئی آپریشن ہوتا ہے نہ کریک ڈائون... اور اگر کوئی بدمعاش پکڑا بھی جائے تو وہ معمولی سزا ملنے کے بعد بچ نکلنے میں نہ صرف کامیاب ہو جاتا ہے بلکہ بچ نکلنے کے بعد وہ مزید مستحکم انداز میں ملاوٹ شدہ چیزیں فروخت کرنا شروع کر دیتا ہے۔ پشاور کے آرمی پبلک سکول میں دہشت گردوں نے تو ایک سوپچاس کے لگ بھگ بچوں کو شہید کیا تھا... مگر دودھ میں کیمیکل' یوریا اور دیگر زہریلا مواد ملانے والی کمپنیاں اور ان کے ایجنٹ تو زہریلا دودھ بیچ کر لاکھوں بچوں کو مارنے کی سازش میں ملوث ہیں' لہٰذا ان لالچی بدمعاشوں کے خلاف بھی آپریشن ضرب عضب طرز کا سخت ترین آپریشں ہونا چاہیے۔ دودھ' ادویات اور دیگر کھانے پینے کی اشیاء میں زہریلا مواد ملا کر فروخت کرنے والوں کے خلاف ''زیرو ٹالرنس'' کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے... راولپنڈی' اسلام آباد اور کراچی سمیت کھلا دودھ زیادہ تر 100روپے کلو فروخت ہوتا ہے... اگر سو روپے کلو والا دودھ بھی زہریلے مواد سے اٹا ہوگا تو پھر پاکستان کے عوام انصاف مانگنے کس در پہ جائیں؟ اللہ کرے کہ اعلیٰ عدلیہ کھانے پینے والی اشیاء میں زہریلا مواد شامل کرکے فروخت کرنے والے دہشت گردوں کو کڑی سزائیں دینا شروع کر دیں۔ اسلام کا حکم تو اس حوالے سے بڑا واضح ہے ... خاتم الانبیائۖ کا فرمان عالی شان تو یہ ہے کہ ترجمہ ''جس نے ملاوٹ کی وہ ہم میں سے نہیں ہے''... ملاوٹ کی دہشت گردی میں ملوث خناسوں پر اب کوئی نصیحت اس لئے کارگر نہیں ہو رہی... کیونکہ پیسے کی ہوس نے ان کی آنکھوں پر ہی نہیں بلکہ عقلوں پر بھی پردہ ڈال دیا ہے... انہیں صرف زیادہ سے زیادہ نوٹ کمانے کی فکر ہے... پنجاب فوڈ اتھارٹی زہریلا دودھ بیچنے والوں کو جرمانے کرکے... ان سے صرف نوٹ ہی نہ کمائے' بلکہ ایسے لالچی دہشت گردوں کو ہتھکڑیاں پہنا کر جیلوں میں بند کیا جائے' ان کی دکانوں اور کمپنیوں پر پابندیاں عائد کی جائیں' لیکن مجھے حکمرانوں سے ان میں سے کسی کام کی اس لئے توقع نہیں ہے... کیونکہ حکمرانوں کی ترجیحات ہی کچھ اور ہیں' ملاوٹ شدہ زہریلے دودھ سے ابھی تک پاکستانی متاثر ہیں... اس لئے راوی چین ہی چین لکھ رہا ہے۔ ہاں البتہ جس دن اس زہریلے دودھ سے کوئی امریکی یا گورا مر گیا تو پھر حکمران ملاوٹ کرنے والی کرپٹ مافیاء کے خلاف نہ صرف متحرک ہو جائیں گے... بلکہ ان کے خلاف ایک اور آپریشن ضرب عضب سے بھی گریز نہیں کرینگے۔ وما توفیقی الاباللہ

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
67%
ٹھیک ہے
33%
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved