احرار
  29  دسمبر‬‮  2016     |     کالمز   |  مزید کالمز
مجلس احرار اسلام کی اپنے مقصد کے ساتھ کمٹمنٹ اورکامیابی کی اتنی ہی دلیل کافی ہے کہ ہندوستانی تل ابیب قصبہ قادیان کے مجاوروں کے اذہان وقلوب پر آج بھی یہ درویشوں کا گروہ چھایا ہوا ہے ،یہی سبب ہے کہ آج کا قادیانیت زدہ لبرل ازم اس جماعت سے خدا واسطے کا بیر رکھنا اپنا عقیدہ سمجھتا ہے اور اسی باعث علمی بد دیانتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تحریک پاکستان کے ایام میں مجلس کے کردار پر کیچڑ اچھالا جاتا ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ مجلس احرار اسلام مسلمانان برصغیر کے مجاہدانہ ماضی کا ایک شاندار استعارہ اور ان کی غیرت دیدنی کا ایک جاندار اظہار ہی نہیں آج کے دن میںاہل پاکستان کے لئے ختم نبوت کے دشمنوں کے خلاف ایک مضبوط علمی اور ایمانی مورچہ ہے۔ ماضی میں دیکھیں تو 29دسمبر 1929کو تحریک خلافت کے خاتمہ کے اعلان کے ساتھ اسی کی راکھ سے وجود میں میں آنے والی یہ جماعت در اصل اس دور میں مسلمانوں کے تمامکاتب فکر کی نمائندہ وحدت امت کی فکر کی حامل جماعت تھی۔ جس میں سید عطا ء اللہ زاہد بخاری اور ان کے احباب تھے تو دوسری جانب مولانا دائود غزنوی اور ان کے احباب تھے تو ان کے ساتھ ساتھ صاحبزادہ فیض الحسن اور مرید گولڑہ بھی تھے اور مولانا مظہر علی ازہر بھی تھے ، شیخ حسام الدین اور دانشور چودھری افضل حق کا ساتھ بھی تھا اور شاعر بے بدل مولانا ظفر علی خان بھی اسی قافلہ کے رکن تھے ۔نوابزادہ نصر اللہ خان اور شورش کاشمیری بھی اسی جماعت کی تربیت کا شاہکار تھے ۔یہ واحد جماعت تھی جو پنجاب میں جاگیر داروں کے سامنے مسلمانوں کی قوت بن کر ابھری اور دوسری جانب اس نے جھوٹے نبی مرزا ملعون غلام قادیانی کو بھی نہ صرف للکارا بلکہ اس کا تعاقب کیا ۔ احرار کی موجودہ قیادت شائد اتفاق نا کرے لیکن تاریخ یہ بتاتی ہے کہ احرار نے اپنی سیاست مسئلہ ختم نبوت پر قربان کردی ، احرار کا ایک سیاسی موقف تھا، اور اس نے اس پر پہرہ بھی دیا الیکشن بھی لڑا ، قائد اعظم سے مذاکرات بھی کئے یہ الگ داستان ہے کہ اس دور کی پنجاب کی مسلم لیگ قادیانیوںکے زیر اثر اورانگریزی ٹوڈیوں پر مشتمل تھی جس نے قائد اور احرار کے معاہدہ کی خلاف ورزی کی اور دونوں جماعتیں سیاست کے میدان میں ایک دوسرے کی حریف بن کر تاریخ میں رقم ہوگئیں۔لیکن سیاست احرار کی پہلی ترجیح کبھی نہ تھی ان کا اصل محاذ قادیانیت کا تعاقب تھا اور اس میں وہ پورے متحدہ ہندوستان کے مسلمانوں کی قیادت کر رہی تھی۔ آج کا لبرل دانش سے عاری اور علم سے تہی دست ہے ، جو صرف گالی دینا جانتا ہے ، یہی اس کا مبلغ علمی ہے ۔ ورنہ یہ بات تو چھپائے نہیں چھپ رہی کہ متحدہ پاکستان اور اس کے متصل بعد فرقہ واریت سے بالا تر مسلم دانش ور جس بڑی تعداد میں احرار کے خوشہ چیں تھے کسی دوسی جماعت کو یہ اعزاز حاصل نہیں رہا ۔ اقبال اور امیر شریعت کی قربتوں کی گواہی تو اقبال خود ہے ، فیض سے لیکر اس عہد کا ایک ایک دانشور احرار قیادت سے محبت کی ڈور میں بندھا دکھائی دیتا ہے ۔ جہاں تک سیاست کا تعلق ہے تو جتنی سچی اور کھری سیاست احرار نے کی کسی اور کے حصہ میں نہیں آئی ۔ احرار کی سیاست کیاتھی امیر شریعت کی قیام پاکستان کے بعد کی ایک تقریر کا چھوٹا سا اقتباس اس کی مکمل وضاحت بھی کرتا ہے اور آج ستر برس بعد بھی احرار پر پاکستان کی مخالفت کی پھبتی کسنے والے جہلا کے منہ پر طمانچہ بھی ہے ۔ 12جنوری 1949کو لاہور میں دفاع پاکستان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امیر شریعت نے کہا کہ '' ہم نے مسلم لیگ کے مجوزہ منصوبہ پاکستان کی مخالفت کی، جو صحیح سمجھا وہ کیا ، ایک قائد اعظم کی سیاسی رائے تھی ایک ہماری رائے تھی ، آج قائد اعظم کی سیاسی رائے جیت گئی میری رائے ہار گئی ، ہم اسے تسلیم کرتے ہیں اور انتخابی سیاست سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہیں، اب یہ ہمارا ملک ہے ، اس کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے والے کی آنکھ نکال دیں گے، یاد رکھیں کہ میں عمل کا آدمی ہوں، جو کہتا ہوں وہ کر تا ہوں'' کون ہے امیر شریعت کے سوا جو اپنی سیاسی رائے کی غلطی کو اتنی فراخدلی سے تسلیم کرتا ہو۔یہی اس قیادت کی عظمت کی دلیل ہے ۔ احرار کی تاریخ اتنی جاندار اور شاندار ہے کہ ایک کالم میں اس کا احاطہ ممکن ہی نہیں، ایک جانب ختم نبوت کا محاذ دوسری جانب تقسیم وطن کی سیاست ، تیسری جانب جہاد کشمیر کا محاذ کہ جسے قادیانی ہضم کرنے کے قریب تھے، اور اس کے ساتھ ساتھ آفات اور بلیات میں خدمت خلق ایک ایسا شاندار ماضی ہے کہ جسے آج کا مورخ صرف اس لئے دبانے اور چھپانے میں لگا ہوا ہے کہ انہوں ننے سب کچھ برداشت کیا اپنی سیاست تک کو قربان کردیا مگر ختم نبوت کو مورچہ نہ چھوڑا ۔ تاریخ بتاتی ہے کہ 1953میںاحرار نا ہوتی تو قادیانیت کے خلاف تمام مکاتب فکر کا اتناموثر اور جاندار اتحاد شائد ہی وجود میں آپاتا ، اور پھر جس طرح پورے ملک میں اس مسئلہ کا ادراک پیدا کیا وہ بھی اسی تحریک کا امتیاز ہے ۔ اس کی قیادت نے ختم نبوت کی خاطر جیلیں آباد کیں، ویرانوں میں آذانیں دیں لوگوں کو بات سمجھائی ، قربانیاں دیں مگر اس کا کوئی صلہ کسی سے نہیں مانگا ۔ امیر شریعت کی جانب سے سیاست سے علیحدگی کے اعلان کے بعد سے اب تک یہ جماعت قوم کو تقسیم کرنے والی سیاسی فرقہ واریت یعنی انتخابی سیاست سے الگ رہ کر ختم نبوت کا محاذ سنبھالے ہوئے ہے ۔پاکستان میںقادیانیوں کے مرکز چناب نگر میں آج بھی احرار وہ واحد جماعت ہے جو قادیانیوں کو ایک طرف دعوت اسلام دے رہی ہے تو دوسری جانب ان کی سازشوں پر نظر رکھے ہوئے ہے، یہ جماعت آج بھی فرقہ واریت سے بالا تر اور تمام مسلمانوں کا اثاثہ ہے ، امیر جماعت سید عطا ء المھیمن ، سید کفیل بخاری اور حاجی عبدالطیف چیمہ مبارک کے مستحق ہیں کہ وہ تاریخ کی اس امانت کو زمانہ کی خرابیوں سے بچاکر اسی نہج اور منہج پر آگے بڑھا رہے ہیں۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
50%
ٹھیک ہے
50%
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved