فوجی عدالتوں کی توسیع اور اپوزیشن لیڈر کا معاملہ
  30  دسمبر‬‮  2016     |     کالمز   |  مزید کالمز
٭سرکاری ذرائع کے مطابق ایک قانون کے ذریعے عارضی طورپر قائم کی جانے والی فوجی عدالتوں کو مستقل شکل دی جارہی ہے ۔ اس سلسلے میں وزارت داخلہ نے ایک قانون کا مسودہ بھی تیار کرلیا ہے جسے وزارت قانون کے ذریعے اسمبلی میں پیش کیاجائے گا۔ یہ بات وزارت داخلہ کے ترجمان نے قومی اسمبلی کی امور داخلہ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں بتائی ہے۔ اس کے مطابق فوجی عدالتوں میں 300کیس بھیجے گئے تھے ان میں سے120 زیر سماعت ہیں۔ فوجی عدالتیں 7جنوری کو ختم ہورہی ہیں۔ نیا قانون نہ بناتو سارے کیس انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالتوں میں منتقل ہو جائیں گے۔ قانون بن جانے پرفوجی عدالتوں میں کیس چلتے رہیں گے! ٭مجھے اپوزیشن کے اس مؤقف سے اتفاق ہے کہ سول عدالتوں پر فوجی عدالتوں کانظام لانے کے واضح معنی یہ ہیں کہ ملک کی موجودہ عدلیہ اور اس کی عدالتوں پر اعتماد نہیں کیاجارہا اور اس نظام کو ناکام قراردیاجارہاہے۔ فوجی عدالتوں کے معاملہ کودوطرح سے لیاجاسکتا ہے۔ ایک تویہ کہ ہر معاملے میں فوج کو استعمال کرنے سے سول نظام کو غیرمؤثر کیا جارہاہے۔ فوج پہلے ہی فوجی سرگرمیوں کے ساتھ بہت سے سول معاملات نمٹا رہی ہے۔ پولیو کے قطروں کا معاملہ ہو یا اسمبلیوں و بلدیات کے الیکشن، مردم شماری ہویا محرم کے جلوسوں کی نگرانی، دہشت گردی سے نمٹناہو یا کراچی کی بدامنی جیسے واقعات ،سیلاب ہویا زلزلہ ، ہر جگہ، ہر وقت فوج دکھائی دیتی ہے۔ فوج سرحدوں پر بھی قربانیاں دیتی ہے اور شاہراہوں کی تعمیر ( شاہراہ ریشم وغیرہ) میں اور کراچی اور فاٹا وغیرہ میں بدامنی سے نمٹنے میں بھی قربانیاں دیتی ہے۔ اب وہ سول مقدمے نمٹا رہی ہے۔ ہمارے کام فوج نے ہی کرنے ہیں تو سول نظام کی کیا ضرورت ہے؟ اسمبلیوںکو بند کردیں سپریم کورٹ، ہائی کورٹوں اور دوسری عدالتوں کو تالے لگا دیں! جب عدالتوں پراعتباراور اعتماد ہی نہیں تو ان کے بارے میں ایسے توہین آمیز اقدامات کی بجائے انہیں ویسے ہی فارغ کردیں۔ ٭دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ عدالتوں کی ساری کارروائی کھلے عام سب کے سامنے ہوتی ہے۔ دونوں طرف سے وکیل پیش ہوتے ہیں۔ ان کے دلائل اورمؤقف سے عام لوگوں کو بھی مقدموں کی نوعیت کا پتہ چلتا رہتاہے۔ جب کہ فوجی عدالتوں کی کارروائی کھلے عام نہیں ہوتی۔ ملزموں کے مؤقف اور صفائی کے دلائل باہر نہیںآتے۔ فوجی عدالتوں کی کارروائی یقینا انصاف کے مروجہ اصولوں اور قوانین کے عین مطابق ہوتی ہے فوج کے اندر کے معاملات کوفوجی عدالتیں بہتر طریقے سے انجام دیتی ہیں مگر سول معاملات کا تعلق عام لوگوں سے ہوتاہے۔ ان کا عدم اطمینان ان عدالتوں کے بارے میں نامناسب بات ہے۔ موجودہ حکومت ویسے ہی بہت سے معاملات کو فارغ کرچکی ہے۔ خارجہ، دفاع، کلچراورعوامی امور کی اہم وزارتیں خالی پڑی ہیں۔آج تک وزیر خارجہ کی کوئی ضرورت ہی محسوس نہیں کی گئی۔حد یہ کہ ترکی کے شہر انقرہ کی یونیورسٹی میں مفکر پاکستان علامہ اقبال کے نام سے قائم ہونے والی اقبالیات کی چیئر دوسال سے خالی پڑی ہے۔ پاکستان کے ایک سفارت کار کا کہنا ہے کہ حکومت پاکستان کو بار بار لکھا گیا ہے مگر کوئی اثرنہیں ہورہا۔ مرزا غالب پھریاد آرہے ہیں کہ سارا جسم ہی زخمی ہے، کس کس جگہ مرہم کا پھاہا رکھو گے؟ ٭ویسے ملک کی عدلیہ کے ساتھ حکومت تو جوسلوک کررہی ہے ، اپوزیشن اس سے بھی دو ہاتھ آگے جارہی ہے۔ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کھلا بیان دیا ہے کہ سپریم کورٹ میں میاں نوازشریف کا اپنا چیف جسٹس آرہاہے۔ وراثت میں کسی شاہی ولی عہد کی طرح خودبخود وراثت میں ملنے والی پارٹی کی لیڈری نے28 سالہ بلاول زرداری کو یہ جرأت دے دی کہ وہ کھلے جلسے میں حقارت آمیز طنز کررہا ہے کہ دیکھتا ہوں میاں نوازشریف کے خلاف پانامہ کیس میں سپریم کورٹ کیا کرتی ہے؟ دوسری طرف عمران خاں نے تو تمام حدود سے باہر جاتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ سپریم کورٹ نے ہمارے حق میں فیصلہ نہ دیا تو ہم پھر سڑکوں پر نکل آئیں گے! یعنی سڑکوں پر آکر سپریم کورٹ کے خلاف محاذ کھولیں گے! موصوف پہلے کہہ چکے ہیں کہ سپریم کورٹ کا ہر فیصلہ قبول ہوگا۔اب انہوں نے ملک کے چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کی طرح سپریم کورٹ کو حکم دیا ہے کہ پانامہ لیکس کی سماعت کے لئے جلد نیا بنچ قائم کیاجائے۔ اس کے ساتھ انہوں نے آج فارغ ہونے والے چیف جسٹس کا نام لے کر جس حقارت آمیز لہجے میں بات کی ہے میں اسے دہرانے سے قاصر ہوں۔محترم سید خورشید شاہ صاحب! شائد آپ کو یاد ہو کہ1990ء کے عشرہ میں محترمہ بے نظیر بھٹو وزیراعظم تھیں ۔ پیپلز پارٹی کے 17 ارکان لاہور ہائی کورٹ کے جج بنادیئے گئے تھے،یہ لمبی داستان ہے بے نظیر بھٹو کے حکم کی عدم تعمیل پر ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو جونیئر جج کے طورپر شریعت کورٹ میں بھیج دیا گیا تھا اور نئے قائم مقام چیف جسٹس نے محترمہ کے نامزد پارٹی کے تمام 17 ارکان کو جج بنانے کی سفارش کردی تھی جس کی پیپلز پارٹی کے مقرر کردہ صدرنے منظوری دے دی تھی مگر پھرسپریم کورٹ کے مشہور فیصلے کے تحت ان سب کو فارغ کردیاگیا تھا۔ شاہ صاحب! یہ کوئی اتنا پرانا واقعہ نہیں، آپ کو یاد ہونا چاہئے۔ ٭کچھ مختصر باتیں: قومی اسمبلی میں سید خورشید شاہ کی اپوزیشن لیڈری ( اور عزتِ سادات ) بچ گئی۔ پیپلز پارٹی کے ترجمان کااعلان کہ آصف زرداری اوربلاول زرداری کی موجودگی میں بھی اسمبلی میں خورشید شاہ ہی اپوزیشن لیڈر رہیں گے۔ ( اب ہر بات کہنے سے پہلے باس سے اجازت لینا پڑے گی!!)پتہ نہیں شاہ صاحب نے عزت سادات بچ جانے پر کوئی سجدہ شکر ادا کیا ہے یا نہیں۔ ٭امریکہ اور اسرائیل پہلی بار ایک دوسرے کے سامنے ڈٹ گئے۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہاہے کہ ہم نے اسرائیل کا ہمیشہ بھرپور ساتھ دیا مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ امریکہ اپنی پالیسیوں میں اپنی مرضی استعمال نہیں کرسکتا۔ اسرائیل فلسطینی علاقے میں غیر قانونی یہودی بستیاں تعمیر کررہاہے۔ اسے بتانا ہوگاکہ اسے جمہوریت درکار ہے یا یہودی بستیاں؟ دوسری طرف اسرائیل کے وزیراعظم نے اعلان کیا ہے نئی یہودی بستیوں میں5600 مکانوں کی تعمیر جاری رہے گی۔ اس دوران نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل سے کہا ہے کہ 20جنوری تک ڈٹے رہو، پھرمیں صدر بن جاؤنگا۔ تمہارا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکے گا! ٭ایک خبر: بازار میں ملنے والے بڑی کمپنیوں کے زہر آلود دودھ کے بارے میں کھلے انکشافات پر گوجرانوالہ کے پہلوانوں نے دودھ پینا بند کردیا ہے۔ ٭قومی اسمبلی کی اطلاعات کی قائمہ کمیٹی نے تمام نیوز چینلوں کوہدائت جاری کی ہے کہ ارکان اسمبلی کے خلاف پروگرام بند کردیئے جائیں۔ فی الحال اخبارات کو یہ ہدائت نہیں ملی اس لئے میں لکھ سکتا ہوں کہ واقعی نیوز چینلز بہت زیادتی کررہے ہیں۔ اسمبلیوں کے تمام ارکان نہائت اعلیٰ تعلیم یافتہ، نہائت عالم فاضل، قانون اور پورے آئین کو زبانی یاد رکھنے والے، نہائت نیک سیرت اور اعلیٰ اخلاقیات کے نمائندہ معصوم لوگ ہیں۔ پتہ نہیں ٹیلی ویژن والے کیوں مسئلہ لئے بیٹھے ہیں کہ ہر کام اور ملازمت کے لیے تھوڑی بہت تعلیم ضروری ہوتی ہے مگر اسمبلیوں میں جانے کے لیے کسی تعلیم، آئین سے واقفیت اور دیانت داری کے کسی سرٹیفکیٹ کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ بھی ضروری نہیں کہ منتخب ہونے کے بعد ایوان میں حاضر بھی ہوا کریں۔ ٭حکومت کا کنٹرول اٹھ جانے پر کراچی میں سی این جی کی قیمت میں تین روپے فی یونٹ کااضافہ ہوگیا ہے! پشاور، کوئٹہ میں اضافہ اس سے کہیں زیادہ ہوسکتا ہے۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
67%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
33%
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved