مختصر لباس اور نیو ائیر نائٹ
  30  دسمبر‬‮  2016     |     کالمز   |  مزید کالمز

آصف علی زرداری اور نواز حکومت کے خلاف تحریک...ہا' ہا' ہا ... اس سے مزیدار کوئی دوسرا لطیفہ ہو ہی نہیں سکتا... مفاہمت کے ''بادشاہ'' اور ''مغل شہنشاہ'' کے درمیان ان دیکھی ڈیل یوں ہی چلتی رہے گی... اب تو مفاہمت کا ''بادشاہ'' اپنے شہزادے کو ساتھ لے کر قومی اسمبلی میں آنے کا اعلان کر چکا ہے... میرے نزدیک اس موضوع پر زیادہ مغز کھپائی کرنا... قارئین کا وقت ضائع کرنے کے مترادف ہے۔ اس لئے دوسرے موضوعات کی جانب بڑھتے ہیں ''لگتا ہے کہ اب امریکی میڈیا بھی مذہبی شدت پسند ہوگیا ہے... ڈونلڈ ٹرمپ کا امریکی صدر بننے کے بعد پہلا کرسمس یوں متنازع ہوگیا کہ وہ اپنی بیگم کے ہمراہ جب چرچ میں پہنچے تو ان کی بیگم نے انتہائی مختصر لباس پہن رکھا تھا... کرسمس کے موقع پر مختصر لباس پہننا امریکیوں کو اچھا نہیں لگا... جس پر امریکی میڈیا نے ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی بیگم کو شدید تنقید کا نشانہ بنا ڈالا۔ پاکستان میں امریکی پٹاری کے دانش چوروں کو چاہیے کہ وہ امریکی میڈیا کی اس مذہبی شدت پسندی کے خلاف بھرپور آواز بلند کریں... ڈالر خور این جی اوز کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ بھی اپنے امریکی آقائوں کے سامنے یہ بات رکھنے کی کوشش کریں کہ ''ہم تو پاکستانی خواتین کو مختصر لباس پہننے کی ترغیب دے دے کر تھک گئے ہیں... عورتوں کے اسلامی اور مکمل لباس کو ہم عورت کی آزادی کے خلاف قرار دیتے ہوئے نہیں تھکتے... لیکن دوسری طرف امریکہ میں مسز ڈونلڈ ٹرمپ کو مختصر لباس پہننے پر شدید تنقید کا نشانہ بنانا شروع کر دیا گیا ہے... کہیں امریکہ میں سوات کے صوفی محمد اور فاٹا کا طالبانی کلچر تو نہیں در آیا؟ پاکستانی سیکولرز اور دیسی لبرلز کی یہ بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ پاکستان کے عوام کو بتائیں کہ مسز ڈونلڈ ٹرمپ کے مختصر لباس کو شدید تنقید کا نشانہ بنانا عورت کے حق آزادی پر ڈاکہ نہیں ہے؟ اگر ہے تو پھر امریکی میڈیا کی اس شدت پسندی کے خلاف عاصمہ جہانگیر' فرزانہ باری' ماروی سرمد اینڈ کمپنی کب موم بتی مارکہ احتجاج شروع کریں گی؟ ذرا سوچئیے کہ ... اس لباس کے مختصر پن کی بھی انتہا کیا ہوگی؟ کہ جس کی ''مختصری'' دیکھ کر امریکی میڈیا کی بھی چیخیں نکل گئیں... ڈالر خور این جی اوز کے ہرکارے اور دیسی لبریز یہ پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ امریکی میں عورت کو مکمل آزادی حاصل ہے... اور یہ بھی کہ امریکہ میں عورتوں کے حقوق کی مکمل پاسداری کی جاتی ہے... مختصر لباس پہننا لباس کے نام پر چند ''ٹاکیاں'' لپیٹ لینا وہاں عام سی بات سمجھی جاتی ہے... لیکن کرسمس کے موقع پر اس کے باوجود مسز ڈونلڈ ٹرمپ کا پہنا ہوا مختصر لباس امریکی میڈیا میں تنقید کا نشانہ بنا اور اسلام تو وہ مذہب ہے کہ جس نے اپنے پیروکار مرد ہوں یا عورتیں... انہیں لباس کے حوالے سے جامع ہدایات عطا فرمائی ہیں۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان جن ڈالر خور این جی اوز کے نرغے میں آیا ہوا ہے ... ان این جی اوز کی پوری کوشش ہے کہ کسی نہ کسی طرح سے لباس اور پوشاک کے معاملے پر پاکستانی عورتوں کو بھی... ایسا ''خودکفیل'' بنا دیا جائے کہ جنہیں مسز ڈونلڈ ٹرمپ بھی دیکھے تو شرم سے منہ چھپانے پر مجبور ہو جائے۔ سال 2017ء کا سورج طلوع ہونے میں ایک دن باقی رہ گیا ہے... لیکن یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ مسلمانوں کا نیا سال محرم الحرام سے شروع ہوتا ہے... جبکہ اس کا اختتام ذوالحجہ کے مہینے پر ہوتا ہے' کسی نے کہا تھا کہ ''اونٹ رے اونٹ تیری کونسی کل سیدھی''... جس کسی نے بھی یہ کہا تھا اگر وہ آج زندہ ہوتا... تو بے اختیار یہ کہنے پر مجبور ہو جاتا کہ ''میڈیا رے میڈیا تیری کون سی کل سیدھی''... اسلامی ملک کا میڈیا سال 2017ء کی آمد کی خوشیاں ایسے منا رہا ہے کہ جیسے یہ مسلمانوں کا سال ہے... ٹاک شوز میں بیٹھے ہوئے ''ٹارزن'' نما اینکرز اور ''اینکرنیاں' اندازے لگا رہی ہیں ... سال 2017ء کیسا ہوگا؟ سال 2017ء میں امن قائم ہوگا یا نہیں؟ معیشت بحال ہوگی یا نہیں؟ نواز شریف کی حکومت باقی رہے گی یا نہیں؟ یہ سارے وہ نابغے ہیں کہ جو اپنا ''حال'' جانتے نہیں... آخر بارشیں کیوں نہیں برس رہیں؟ خشک سالی کیوں بڑھتی جارہی ہے؟ بیماریوں میں دن بدن اضافہ کیوں ہوتا جارہا ہے؟ یعنی ''حال'' سے بے خبر اور مستقبل کے اندازے اور پیشن گوئیاں ۔ یا اللہ! یہ ملک کن ''بقراطوں'' کے درمیان پھنس کر رہ گیا ہے؟ ان بے عمل بقراطوں سے اس قوم کو نجات عطا فرما... تاکہ تیری رحمت بھری بارشیں اس ملک پر برس سکیں (آمین) نیا سال اور اس کی خوشیاں منانے کے نت نئے طریقے... بے حیائی' بے غیرتی' بے ضمیری اور شیطنیت کے مظاہرے نئے سال آمد کی خوشی میں شراب بھری محفلیں' شباب و کباب اڑاتی مجالس' کیا یہ ساری شیطانی حرکتیں اللہ کے عذاب کو بھڑکانے کے مترادف نہیں ہونگی؟ ہماری شامت اعمال کی وجہ سے جو ملک پہلے... بارشوں سے محروم ہو' کئی دنوں سے قوم منتظر تھی کہ جناب ''حسن نثار'' کا کوئی سائنسدان آگے بڑھے اور سینہ تان کر بارشوں کو برسنے کا آرڈر جاری کرے... مگر افسوس کہ ایسا نہیں ہوسکا۔ اس نازک موقع پر نہ صرف سائنسدان پریشان ہیں... بلکہ سائنس بھی شرمندہ' ہر کوئی...یہی کہہ رہا ہے کہ ہمارے گناہوں کے سبب اللہ ہم سے ناراض ہے' لیکن جب عیسائیوں کے نئے سال کی آمد کو شیطان کے طریقوں کے مطابق منایا جائے گا... تو اس سے اسلام کی مخالف سیکولر سوچ کی عکاسی ہوگی اور شیطانی طریقوں کو پروان چڑھانے والے عذاب خداوندی کو دعوت دیں گے... اس لئے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کو چاہیے کہ ملک بھر میں نیو ائیر نائٹ منانے پر مکمل پابندی عائد کریں ... شراب و شباب کی محفلیں سجانے کی کوششیں کرنے والے شیطانوں کو گرفتار کرکے جیلوں میں ڈالا جائے۔ (وما توفیقی الاباللہ)


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
67%
ٹھیک ہے
33%
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved