امریکہ اورروس میں نئی محاذ آرائی
  31  دسمبر‬‮  2016     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭امریکہ نے روس کے35سفارت کار ملک سے نکال دیئے۔72 گھنٹے کا وقت دیا۔ اب تک روانگی شروع ہو چکی ہوگی۔ امریکہ میں دو مقامات پرروس کے انٹیلی سنٹر بھی بند کردیئے ہیں۔ روس نے الزام لگایا ہے کہ اس نے اپنے ہاں امریکی سفارت کاروں سے بدسلوکی کی ہے۔ اصل وجہ کئی روز سے بار بار لگایا جانے والا الزام ہے کہ روس نے سرکاری طورپر امریکہ کے صدارتی انتخاب کے نتائج میںانٹرنیٹ کے ذریعے گڑ بڑکرکے اپنے دوست ڈونلڈ ٹرمپ کو کامیاب کردیا ہے۔ روس نے اس الزام کو تسلیم نہیں کیا نہ ہی امریکی سفارت کاروں سے بدسلوکی کا اعتراف کیا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ نے روس کے خلاف بعض پابندیوں کا امکان بھی ظاہر کیا ہے۔ روس نے امریکی اقدام کے خلاف سخت رد عمل کااظہار کیا ہے۔ بظاہر دوبڑی طاقتوں میں اچانک اتنی سخت کشیدگی امن عالم کے لیے تشویش ناک دکھائی دیتی ہے مگر ماضی میں اکثرایسا ہوچکا ہے۔1960ء کے عشرہ میں روس نے کیوبا میں امریکہ کو زد میں لینے والے متعدد میزائل نصب کردیئے تھے اس پر صدر کینیڈی نے امریکی بحریہ کو کیوبا کا سخت بحری محاصرہ کرنے کا حکم جاری کردیا تھااور روس نے کیوبا سے سارے میزائل ہٹا دیئے تھے۔ موجودہ صورت حال بہت مختلف ہے۔ موجودہ امریکی حکومت کی میعاد صرف 20دن کی رہ گئی ہے۔ 20جنوری کو روس کے گہرے دوست ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کے نئے صدر کے عہدہ کا حلف اٹھانا ہے۔ ٹرمپ کے روس کے صدر پیوٹن سے ذاتی تعلقات ہیں۔ٹرمپ کا روس میں اربوں ڈالر کا کاروبار پھیلا ہوا ہے مزید یہ کہ ٹرمپ نے روس سے وسیع پیمانہ پر کاروبار کرنے والے 'ایکسون آئل کمپنی'کے سربراہ ٹِلر کو وزیر خارجہ بنادیا ہے جوخود روس کی ایک بڑی تیل کمپنی کا ڈائریکٹر بھی ہے اور سائبیریا کے علاقے میں تیل اورگیس کی تلاش کے ایک بڑے ٹھیکے میں حصہ دار بھی ہے۔ ظاہر ہے ٹرمپ اورٹلّر روس کو ناراض رکھ کراپنے ذاتی مفادات کو کیسے داؤد پرلگا سکتے ہیں۔ ٹرمپ پہلے ہی روس کوانتظار کرنے کا اشارا دے چکا ہے۔ سواوباما حکومت کی موجودہ پابندیاں صرف 20دنوں میں کیا نتائج دکھاسکتی ہیں، ٹرمپ کے آتے ہی ختم ہوجائیں گی۔ تاہم فی الحال عارضی سی سنسنی ضرور پھیل گئی ہے۔ ٭ملکی سیاست میں افراتفری سی مچ گئی ہے۔حکومت اور عمران خاں، دونوں بالواسطہ طورپر آصف زرداری کے ساتھ مفاہمت کے اشارے بھیج رہے ہیں۔ میاںنواز شریف کی ہدائت پر مسلم لیگی توپ خانے نے بھی اپنے حریفوں پر گولہ باری کی شدت کم کردی ہے۔ پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کی قیادتیں کھلم کھلا سپریم کورٹ کے آئندہ کردار کے بارے میں تضحیک آمیز ریمارکس دے رہی ہیں۔ ملکی سیاست پر اتنی بات ہی کافی ہے۔ ٭بیچ میں ایک خبر! امریکی وزارت دفاع نے پابندی لگادی ہے کہ اس کے سکھ ا ور مسلمان ملازمین نصف انچ سے زیادہ داڑھی نہیں رکھ سکتے! ٭سندھ کے ریگستانی علاقہ تھر میں مزید9 بچے غذائی قلت اور بھوک کے باعث انتقال کر گئے۔ اس سال اب تک (30دسمبر) بھوک پیاس کے باعث مرنے والے بچوں کی تعداد476ہوگئی ہے۔آصف زرداری تھرجانے کی بجائے اپنی انتخابی مہم چلانے کے لیے نواب شاہ چلے گئے۔ بلاول زرداری کی الیکشن کی مہم بھی شروع ہوگئی ہے۔ بلاول آج تک تھرکے علاقوں میں نہیں گیا۔ ان لوگوں کا یہ مسئلہ ہی نہیں۔ ویسے وزیراعلیٰ مراد شاہ کتنی بار وہاں گئے ہیں؟مجھے یاد نہیں پڑتاکہ کبھی مولانافضل الرحمان، عمران خاں، سینیٹر سراج الحق اور دوسرے 'قومی' رہنما بھی وہاں گئے ہوں۔یاد نہیں آرہا کہ وزیراعظم کب وہاں گئے تھے؟ شائد ایک آدھ بار گئے ہوں ۔انتہائی ستم کہ ایک سال میں476 بچے جاں بحق ہو گئے اور کسی کوان کا ذکر کرنے کی بھی توفیق نہیں ہوئی۔ باپ بیٹا اسمبلی کی سیٹوں پر بیٹھنے کے لیے بے تاب ہو رہے ہیں۔ وزیراعظم صاحب کوباربارمظفرآباد یاد آجاتا ہے۔ تھرکے بچوں کا خدا حافظ! ٭بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے وزیراعظم پاکستان نوازشریف کو ان کی سالگرہ (25دسمبر) پر مبارک باد کا پیغام بھیجا۔ محترمہ مریم نواز نے فوراً شکریہ کا پیغام بھیج دیا۔ اب وزیراعظم نوازشریف نے بھارت کی وزیر خارجہ سُشما سوراج کے شوگر کے باعث گردے فیل ہوگئے ہیں اور کسی دوسرے شخص کے گردے لگائے گئے ہیں۔''حسابِ دوستاںدردِل ''صرف یہ کہ جس وقت وزیراعظم پاکستان نے بھارتی وزیر خارجہ کو خیرسگالی اور ہمدردی کا پیغام بھیجا، عین اسی وقت بھارتی فوج نے آزاد کشمیر میں کنٹرو ل لائن ( عباس پور) پر فائرنگ شروع کردی۔ اس سے انسانی جانی نقصان تو نہ ہوا مگر ایک بھینس فائرنگ کی زد میں آگئی۔ ممکن ہے نریندر مودی کی طرف سے دوست میاں نواز شریف کے لیے نئے سال کی مبارک باد کا پیغام بھی آجائے۔ ٭مجھے یہ خبر عجیب سی لگی کہ محکمہ بجلی نے گھنٹہ گھر کی بجلی کاٹ دی ہے۔ میرا ذہن کسی اورطرف جانے لگاتھا کہ مزید خبرآگئی کہ یہ بات فیصل آباد کے گھنٹہ گھر کی ہے جہاں آٹھ سڑکیں ملتی ہیں! ٭نئے سال کی آمد پر چینی دوروپے، پٹرولیم تین سے چار روپے تک مہنگا! اس سے کہیں زیادہ اہم اورپریشان کن بات یہ ہے کہ ڈالر کی قیمت اک دم تقریباً 109 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ چند رو ز پہلے تک یہ قیمت105 روپے تک محدود تھی۔ وزیر خزانہ چند روز قبل کہہ چکے ہیں کہ ڈالر کی قیمت میں ایک روپیہ اضافہ سے بیرونی قرضوں میں تقریباً62 ارب روپے کا اضافہ ہو جاتاہے۔ یہ توچار روپے کا اضافہ ہے جومزید اوپر جانے کا امکان ہے۔ اس کے باعث ملک کی درآمدات کم ہو سکتی یا ان کی مہنگائی میں زبردست اضافہ ہو سکتا ہے۔ خارجہ پالیسی، دفاعی پالیسی، ثقافتی پالیسی! کس کس پالیسی کی 'عظیم الشان' کامیابیوں کی داددی جائے اوراب مالیاتی پالیسی! تیل مہنگا ہونے سے ٹرانسپورٹ مہنگی اس سے ہر قسم کا کاروبار مہنگا! ٭خواجہ محمد آصف نے کہاہے کہ پہاڑوں پربرف بہت کم پڑی ہے، سارے ڈیم خشک ہورہے ہیں۔ گندم کی فصل کو بہت کم پانی ملنے کاخدشہ ہے۔ دنیابھرمیں چار سال سے گرمی بڑھ جانے سے ہر جگہ گلیشیئر پگھل جانے کی اطلاعات آرہی تھیں۔ پاکستان میں دنیا کے بہت بڑے برفانی گلیشیئر پائے جاتے ہیں۔ ان پر پچھلے چند برسوں سے برف بہت کم پڑ رہی تھی اور پہلے والی برف بھی غائب ہو رہی تھی۔ یہ قدرتی آفات کاحصہ سہی مگراس مسئلہ کاحل کیاسوچاگیا؟ ذوالفقارعلی بھٹو کی مستقبل پر بہت تیز نظرتھی۔ انہوں نے پنجاب اور سندھ میں وسیع پیمانہ پر سینکڑوں ٹیوب ویل لگوادیئے تھے جو ایک طرف تو سیم کا پانی نہروں میں پھینکتے تھے اس کے ساتھ زیر زمین پانی کے وسیع ذخیروں کو بھی اوپر لارہے تھے۔ ذوالفقارعلی بھٹو کے جانے کے بعد یہ سینکڑوں ٹیوب ویل نہ صرف بند بلکہ غائب ہوگئے! محکمہ آبپاشی کے افسروں نے انہیں اونے پونے بیچ کر اپنی تجوریاں بھرلیں! کیا خواجہ محمد آصف کے ذہن میں کبھی ٹیوب ویلوں کے اس منصوبے کو پھرسے شروع کرنے کا خیال آیا؟ صرف خوفناک پیش گوئیاں کی جارہی ہیں۔ عملی طورپر اس صورت حال کا کیا حل سوچا جارہاہے۔ موصوف فرماتے ہیں کہ پانی کی کمی تو ہوگی مگر بجلی کی کمی نہیں ہوگی۔ تواچھی بات ہے بڑی تعداد میں بجلی سے چلنے والے ٹیوب ویل لگوادیں، کچھ تو مسئلہ حل ہو سکتا ہے! ٭بس ایسے ہی خیال آگیاہے کہ بے نظیرانکم سپورٹ والی فرزانہ راجا آج کل کہاں ہے! سنا ہے کہ امریکہ بھاگ کر وہاں کی شہریت حاصل کرلی تھی۔ امریکی شہریت حاصل کرنے کا ایک براہ راست طریقہ ہے کہ وہاں کم ازکم پانچ لاکھ ڈالرکی کوئی سرمایہ کاری کردی جائے۔ فرزانہ راجا پر تو اپنے عزیز واقارب میں بے نظیر انکم سپورٹ کے اربوں فنڈ تقسیم کرنے کاالزام ہے۔ دس ماہ پہلے ریڈ وارنٹ جاری ہونے کی خبر بھی آئی ،پھر؟ سارامعاملہ ٹھپ !


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved