بازیگر
  1  جنوری‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

بے شک انسان اپنی گفتگو نہیں بلکہ عمل سے پہچانا جاتا ہے۔ نوسرباز کی گفتگو بھی بڑی لچھے دار ہوتی ہے مگر عمل؟ بزم سیاست میں لفظوں کی ہیرا پھیری چلتی ہے مگر نوسربازی صرف پاکستان کے اہل سیاست کا خاصہ ہے۔بلاول نے کہا تھا 27دسمبر کو لانگ مارچ کا اعلان ہوگا۔ زرداری صاحب نے کہا 27دسمبر کو بڑا اعلان ہوگا۔ بڑا اعلان یہ ہے کہ زرداری اور بلاول پارلیمنٹ میں تشریف لارہے ہیں۔ اس اعلان میں قوم کے لئے ''بڑا'' کیا ہے اور کیا خوشخبری ہے۔ شاعر نے کہا تھا ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ دیتے ہیں دھوکا یہ بازی گر کھلا تازہ ترین ارشادات بلاول بھٹو زرداری کے ہیں اور وہ انتہائی ڈھٹائی سے ''اگلی باری پھر زرداری'' کا مژدہ قوم کوسنا رہے ہیں ان کی تقریریں سن لیجئے۔ اور ان کے اعمال دیکھ لیجئے' مجال ہے جو ذرہ بھر بھی ان کو شرمندگی کا احساس ہو۔ کیا باپ اور کیا بیٹا' ایک حرف ندامت بھی لبوں پر نہیں آیا' دعوی مگر یہ ہے کہ 2018ء میں اعلیٰ جناب وزیراعظم پاکستان ہونگے۔ گورنینس کا عالم یہ ہے کہ سندھ کا دارالحکومت کچرے کا ڈھیر بن گیا ہے اور صوبائی اداروں میں ملازمتوں کی بندربانٹ ایسے ہو رہی ہے کہ بے اختیار ''کوئی شرم ہوتی ہے' کوئی حیات ہوتی ہے'' کا جملہ زبان پر آجاتا ہے۔ صوبائی محکمہ صحت کے ایک ملازم نے عدالت عظمیٰ میں درخواست گزاری ہے کہ گھوٹکی ضلع سے تعلق رکھنے والے ایک ہی خاندان کے پچاس افراد کو محکمہ صحت نے بھرتی کر رکھا ہے۔ وہ سب چدھڑ فیملی سے ہیں اور ایک دوسرے کے کزنز ہیں۔ مسلم لیگ (ن) پر ''لاہور'' کو نواز دئیے کا الزام لگانے والوں نے ضلع لاڑکانہ میں 90ارب روپے سے زائد کا بجٹ لگا دیا ہے۔ سندھ ہائی کورٹ نے 90ارب روپے کے اخراجات کی تفصیل مانگی اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ''ڈائن بھی سات گھر چھوڑ دیتی ہے'' معزز عدالت کے سامنے لاڑکانہ سے تعلق رکھنے والے ایک شہری نے اپنی درخواست پیش کی ہے کہ لاڑکانہ کی تباہ حال سڑکوں' شاہرائوں پر موجود گٹر کے بدبودار پانی اور دھول سے اٹے شہر کی حالت زار کا نوٹس لیں اور ذمہ داران سے اس کثیر رقم کا حساب مانگا جائے جو اب تک لاڑکانہ کے نام پر خزانے سے لی گئی ہے۔ کل جب وفاق میں بلاول کے ''اباجی'' برسراقتدار تھے تو لوٹ مار کی کہانیاں اسلام آباد سے سننے میں آتی تھیں۔ ڈاکٹر عاصم اور توقیر صادق نے جو کرپشن کی وہ پیپلزپارٹی حکومت کے چہرے پر بدترین داغ کی صورت میں واضح ہے۔ ڈاکٹر عاصم آج 461ارب روپے کی غبن کے الزامات کی زد میں ہیں جبکہ توقیر صادق پر اندازاً82ارب روپے کی ہیرا پھیری میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ یہ ہے وہ جماعت جو 2018ء میں دوبارہ برسراقتدار آنے کا خواب دیکھ رہی ہے۔ لاہور میں ہفتہ بھر یوم تاسیس کی محفلیں سجانے سے پیپلزپارٹی کا کارکن اگرچہ موبلائز ہوا ہے مگر پاکستانی ووٹرز کے لئے بلاول بھٹو کی تقاریر میں کشش اور دلچسپی کی کوئی شے نہیں تھی' محض پنجاب کی قیادت بدلنے سے کیا ہوگا' اصل چیز تو یہ ہے کہ مرکزی قیادت بدلی جائے۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین اور شریک چیئرمین کے عہدوں پر اگر آصف زرداری اور بلاول تعینات رہیں گے تو ووٹر کیونکر ایک ایسی جماعت کی طرف راغب ہونگے جس کا ماض اور حال کرپشن اور بیڈ گورننس سے داغدار ہے۔ بلاول ابھی سیاسی طور پر میچور بھی نظر نہیں آتے' وہ لکھی ہوئی تقریر پڑھتے ہیں' ان کے خیالات میں گہرائی ہے اور نہ ان کے پاس پاکستان کو درپیش مسائل کا کوئی حل موجود ہے' ان کے پاس فقط نعرے ہیں' جیالوں کے لہو کو گرمانے کے لئے وہی گھسے پٹے نعرے۔ سچ یہ ہے کہ بلاول بھٹو ابھی تک اپنا امپریشن قائم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ درحقیقت ابھی انہیں کئی سال سیاست کی خارزار وادی میں گزارنا ہونگے تب جا کر کوئی بات بن سکتی ہے۔ بلاول نے اپنے سٹائل بہتر کرلیا ہے مگر اصل چیز سٹائل نہیں"Substance"ہے جو سٹائل سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ بلاول کے اندر اگر صلاحیت ہے تو وہ میڈیا کے ساتھ مختلف سیشنز کا انعقاد کریں اور ملکی معاملات پر اپنا نقطہ نظر فی البدیہہ پیش کرنے کی جسارت کریں۔ سوال و جواب ہوں اور سمجھ آئے کہ ''صاحبزادے'' کس قدر رہنمائی کے قابل ہیں۔ شہزادوں کی طرح انٹری کا دور گزر چکا' اکسیویں صدی میں بادشاہ یا ملکہ کے بیٹے کو سر آنکھوں پر بٹھانے اور حکمران تسلیم کرنے کا حوصلہ پی پی ورکرز میں تو ہوسکتا ہے لیکن پاکستانی عام اس رحجان کو قبول کرتے دکھائی نہیں دیتے۔ آج بلاول کی تمام سرگزشت ''کھوئے ہوئوں کی جستجو'' نظر آتی ہے اور یوں لگ رہا ہے کہ جارحانہ انداز سیاست اپنا کر وہ پنجاب کے ان لوگوں کو پیپلزپارٹی میں واپس لانا چاہتے ہیں جو عوامی مزاج کا اصل کباڑہ مسلم لیگ نے نہیں بلکہ تحریک انصاف نے کیا ہے جس نے ووٹرز کے ساتھ ساتھ پیپلزپارٹی کے باصلاحیت امیدواروں کو بھی اچک لیا ہے۔ آج پنجاب میں پیپلزپارٹی کی عملی تصویر یہ ہے کہ صوبائی و قومی اسمبلی کے اکثر حلقوں میں اس کے پاس جیتنے کی صلاحیت رکھنے والے مضبوط امیدوار موجود نہیں ہیں۔ نے ہاتھ پر ہے نہ پائے رکاب میں' والی صورتحال پیپلزپارٹی کو درپیش ہے لیکن کھوکھلے نعروں سے بیچارے کارکنان کی سوچوں کو یرغمال بنانے کی سرتوڑ کوشش ہو رہی ہے ۔ لفظوں کی گولہ باری سے مسلم لیگ (ن) کا نہ کچھ نقصان ہونے والا ہے اور نہ ہی تحریک انصاف کو پنجاب میں پیپلزپارٹی کی طرف سے کسی خطرے کا سامنا ہے۔ پنجاب کا معرکہ اگلے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کے درمیان ہی ہوگا اور پنجاب میں فتح یاب رہنے والی جماعت ہی آئندہ مرکز میں حکومت سازی کر سکے گی۔ اس میں کیا شبہ ہے کہ گورنینس کے اعتبار سے مسلم لیگ (ن) کے ساتھ مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں صرف تحریک انصاف ہے اور یہی ایک قومی سیاسی قوت ہے جو پنجاب کے ووٹرز کی فرسٹ اور سیکنڈ چوائس بن سکتی ہے ۔ پیپلزپارٹی اگر اپنی مرکزی لیڈر شپ میں پنجاب کے کسی نیک نام رہنما کو شامل کرلے اور بلاول آئندہ وزیراعظم بننے کا اعلان واپس لے لیں تو شاید پیپلزپارٹی پنجاب میں بہتر پرفارمنس دینے میں کامیاب ہو جائے۔ یہ کوئی انہونی تجویز نہیں ' مخدوم امین فہیم کی صورت میں ایک تجربہ ہوچکا ہے' اس میں کیا امر مانع ہے کہ چوہدری اعتزاز احسن جیسا قد آور رہنما پیپلزپارٹی کا حصہ بنا دیا جائے اور بھٹو زرداری فیملی پس پردہ رہ کر کام کریں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved