نیاسال !
  1  جنوری‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭نیاسال پیچھے بہت کچھ چھوڑگیا اورآئندہ کے لئے بہت سے واقعات، بہت سے ہنگامے لایا ہے۔2016ء جاتے جاتے بھی آخری دن معروف کرکٹر امتیاز احمد کوساتھ لے گیا،88 سال کی عمر تھی۔ نئے سال کی ابتدائی خبریں کچھ یوں بنتی ہیں کہ پاکستان میں نیاچیف جسٹس آگیا ہے اور بھارت میں نیا چیف آف آرمی سٹاف جنرل روات آج حلف اٹھارہاہے۔ اس کا مختصر تعارف یہ ہے کہ وہ پاکستان اور کشمیری عوام کا سخت دشمن ہے۔ اسی ہفتے اقوام متحدہ کا سیکرٹری جنرل تبدیل ہورہاہے جب کہ امریکہ کا نیا صدر ڈونلڈ ٹرمپ 20جنوری کوعہد ہ سنبھالنے والا ہے۔ ایک خبر کے مطابق ملکی طورپر نیاسال شروع ہو تے ہی آصف زرداری طبی معائنہ کے نام پر پھربیرون ملک جارہے ہیں۔ برخوردار بلاول پہلے ہی دبئی جاچکا ہے (ن لوگوں کااب پاکستان میں دل نہیں لگتا!) ۔پاکستان کے حکمرانوں اوردوسرے رہنما ؤں کی طرح آصف زرداری کا بھی پاکستان میں طبی معائنہ نہیں ہو سکتا۔ یہ لوگ یہاں معائنہ کرانے کواپنی توہین سمجھتے ہیں۔ قائداعظم نے شدید علالت میں باہر جانے سے انکار کر دیا تھا۔ایوب خاں کے مارشل لا تک کسی صدریا وزیراعظم نے بھی بیرون ملک علاج نہیں کرایا۔ گورنر جنرل غلام محمد بھی شدید علالت کی حالت میں اس عہدہ سے فارغ ہوا تھا مگر سارا علاج کراچی میں ہی ہوتارہا۔آصف زرداری نے دبئی میں ڈیڑھ سال گزارا۔ ہمیشہ کہاگیا بیمار ہیں۔ بیماری کا کبھی پتہ نہ چلا ۔ اب بھی پتہ نہیں چلے گا۔ ٭امتیازاحمد پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے کیپٹن اور وکٹ کیپر رہے۔1952ء میں بھارت میں میچ سے کرکٹ شروع کی۔ انہیں اعزازحاصل تھا کہ ایک وکٹ کیپر کی حیثیت سے پہلی بار ڈبل سنچری بنائی۔ پاکستان ایئرفورس میں ونگ کمانڈر تھے۔ 41میچ کھیلنے کے بعد1962 ء میں کرکٹ سے ریٹائر ہوگئے۔ پھرپاکستان کرکٹ بورڈ کے ساتھ اہم ذمہ داریاں انجام دیتے رہے۔ انہیں اپنے دورکا بہترین کھلاڑی اورمختلف ایوارڈ ز ملنے کا اعزاز حاصل تھا۔ بہت شائستہ اور مہذب انسان تھے۔ یہ وہ دور تھا جب پاکستان کی کرکٹ ٹیم اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد پرمشتمل ہوتی تھی۔ ٹیم کے کیپٹن عبدالحفیظ کاردار پشاور یونیورسٹی میں پروفیسر اور وفاقی حکومت کے مشیر تعلیم تھے۔ فضل محمود ڈی آئی جی کے عہدہ سے ریٹائر ہو ئے۔ شجاع الدین فوج میں کرنل تھے۔ اعجاز بٹ نے گورنمنٹ کالج میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی، کرکٹ کنٹرول بورڈ کے چیئرمین بھی رہے۔ جاوید برکی وفاقی سیکرٹری کے عہدہ سے ریٹائر ہوئے۔ بہت سے اورنام بھی ہیں۔ ان لوگوں کوبیرون ملک صرف 25روپے روزانہ الاؤنس ملا کرتاتھا۔ کوئی سنٹرل کنٹریکٹ نہیں ہوتاتھااور اب ! میں نے کوشش کی کہ موجودہ تعلیم میں کوئی اعلیٰ تعلیم یافتہ کھلاڑی مل جائے۔ صرف ایک کھلاڑی کے بی اے ہونے کی اطلاع ملی۔ سنٹرل کنٹریکٹ کی لوٹ مار کے نام پر چار چار لاکھ روپے ماہوار لے رہے ہیں۔ سکولوں سے بھاگے ہوئے، گلیوں محلوں میں گلی ڈنڈا کھیلتے کھیلتے سفارشوں اوررشتہ داریوں کے ساتھ ٹیم میں آبیٹھے ہیں۔ بیرون ملک میچ فکس کرکے ٹیم کو ہرانے کا بھاری معاوضہ وصول کرتے اور پھر جیلوں میں چلے جاتے ہیں۔ غضب یہ کہ جیلوں سے رہا ہوکر پھرٹیم کا حصہ بن جاتے ہیں۔اور ٹیم شکستوں پر شکستیں کھارہی ہے۔ بات ذرا دوسری طرف نکل گئی۔ اخبار کے سپورٹس رپورٹرعبدالقیوم کے ساتھ صرف تین ماہ پہلے امتیازصاحب سے خاصی دیرملاقات رہی۔ 88 برس کی عمر میں بھی صحت مند دکھائی دے رہے تھے۔ بڑے تپاک سے ملے۔ ہم دیر تک باتیں کرتے اور پرانی یادیں تازہ کرتے رہے۔ حنیف محمد کے جانے کے بعد بہت افسردہ تھے۔ امتیازاحمد غالباً پاکستان کی ٹیم کے آخری زندہ کھلاڑی تھے۔ان کے ساتھ ہی تمام پرانی شائستہ اقدار ختم ہوگئیں۔ خدا تعالیٰ مغفرت فرمائے! ٭جاوید ہاشمی نے عمران خاں کے بارے میں سنسنی خیز قسم کے کچھ انکشافات کیے ہیں۔ ایک ٹیلی ویژن پر ٹاک شو میں موصوف کی باتیں انہی کی زبانی پڑھئے: فرماتے ہیں کہ '' عمران خاں نے دھرنے کا فیصلہ کیا تو میں نے اعتراض کیا۔ عمران نے کہا کہ نوازشریف کی حکومت ختم کرنے اور تحریک انصاف کی حکومت لانے کے بارے میں سب کچھ طے ہوگیا ہے۔ میں نے پوچھا کہ کیا مارشل لا لگ رہاہے؟ عمران نے جواب دیا کہ نہیں چیف جسٹس سے افہام و تفہیم ہوگئی ہے۔ وہ ملک میں ن لیگ اورپیپلزپارٹی کو کالعدم قراردے کر ملک میں جوڈیشل (عدالتی) مارشل لا لگا دیں گے اور تحریک انصاف کی حکومت بنوادیں گے۔ میں ہکا بکا رہ گیا۔ میں قرآن مجید ہاتھ میں لے کر بھی یہ ساری باتیں کرسکتا ہوں''۔ کالم کی تحریر تک اس سنسنی خیز قسم کے انکشاف پرتحریک انصاف کا جواب نہیںآیا۔ جواب یا وضاحت نہ آنے پر اس انکشاف کو کیا حیثیت دی جائے ؟ قارئین خود اندازہ کرسکتے ہیں ۔ ٭پنجاب میں ایک آرڈی ننس کے ذریعے آج سے انگریزوں کا نافذ کردہ ڈپٹی کمشنر وغیرہ کانظام بحال کردیاگیا ہے۔ اہم فرق یہ ہے کہ پولیس کو ڈپٹی کمشنر کے دائرہ اختیار سے نکال کر آزاد کردیاگیا ہے۔ پہلے ایس پی وغیرہ کی اے سی آر( خفیہ رپورٹ) ڈپٹی کمشنر لکھتاتھا اب پولیس کے اعلیٰ افسر خود یہ کام کریں گے۔ اس فیصلے پر پولیس والے تو بہت خوش ہیں مگر اسسٹنٹ کمشنر کے عہدہ کے افسروں نے ہڑتال تک کا رویہ اختیار کرلیا ہے۔ انگریزوں کے دورمیں کسی ضلع کا ڈپٹی کمشنر اپنے وسیع اختیارات ، رعب داب کے ساتھ ضلع کا حکمران بلکہ مالک سمجھاجاتاتھا۔ ضلع کے تمام محکمے اس کے ماتحت ہوتے تھے۔ وہ کسی بھی قسم کے انتظامی اختیارات بلا روک ٹوک استعمال کرسکتا تھا۔ بدامنی کی صورت میں فوج کو بلانے کا بھی پورا اختیار حاصل تھا۔ عملی طورپر وہ انگریز وائسرائے کا براہ راست نمائندہ بلکہ چھوٹی سطح پر وائسرائے جیسی ہی حیثیت رکھتاتھا۔ ایک عرصہ تک یہ انتظام چلتا رہا ۔پھر جنرل پرویز مشرف نے اس عہدہ کا نام بدل کر ڈی سی او ( ڈسٹرکٹ کوآرڈی نیشن افسر) رکھادیا۔ اب پھرڈپٹی کمشنر کا عہدہ بحال کردیاگیا ہے مگر پولیس کو ماتحت رکھنے کااختیار ختم ہونے سے وہ پرانا رعب داب اور شان وشوکت باقی نہیں رہی۔ ویسے دنیا بھر میں پولیس کو کسی کے ماتحت ہونے کی بجائے آزادانہ کام کرنے کااختیار حاصل ہوتاہے۔ مغربی ممالک میں تو پولیس مقامی بلدیاتی اداروں کے ماتحت کام کرتی ہے۔ ذرا ذرا سی بات پر ڈپٹی کمشنر کی اجازت لینے سے بہت سی بروقت ہونے والی کارروائیاں رک جاتی ہیں۔خیبر پختونخوا میں پولیس کو آزادانہ حیثیت دینے کے اچھے نتائج یوں نکلے ہیں کہ چار روز قبل ٹریفک پولیس کے ایک وارڈن نے دوران سفر موبائل فون سننے والے صوبائی وزیر کا چالان کرکے اس سے 500 روپے لے کر چھوڑا۔ وزیرنے بہت رعب ڈالا، ڈانٹ ڈپٹ کی مگر جرمانہ دے کر ہی جان چھوٹی۔ توقع ہے کہ پنجاب میں بھی پولیس اسی طرح آزادانہ کردارادا کرے گی۔ ٭ایس ایم ایس: میر انا م عقیل احمد ہے۔ اچانک کالے یرقان کاانکشاف ہوا، نہایت مہنگا علاج ہے۔سرکاری ہسپتالوں میں خوار ہونے کے باوجود علاج نہیں ہوسکا۔ چھوٹے بچے ہیں جوسکول میں پڑھ رہے ہیں۔ بے انتہا مہنگے علاج کرانے پر سب کچھ خرچ ہوگیا ہے۔ بچوں کی تعلیم ختم ہوگئی ہے۔ تقریباً دو لاکھ روپے کا مقروض ہوگیا ہوں۔ لوگ مزید قرض دینے کی بجائے قرض واپس مانگنے آرہے ہیں۔ ڈاکٹروں نے ROPEGRA 180mg کے48 انجکشن تجویز کئے ہیں جو تین لاکھ 60 ہزا رروپے کے آتے ہیں۔ بہت مجبور ہوکر قارئین سے درخواست ہے کہ میرا ایک بیٹا لے کر مجھے انجکشن فراہم کر دیں۔ عمر بھر شکر گزار ہوں گا۔ عقیل احمد ولد طلاء محمد، ابن انشا روڈ ، مکان نمبر8، 160 محلہ روئیداہ نگر ناظم آباد کراچی وسطی (رابطہ0304-5959478سٹی ہسپتال کراچی 021-99215733) (اس مراسلے کے ساتھ میڈیکل سرٹیفکیٹ ہیں۔ کوئی صاحب امداد کرناچاہیں توپہلے خود ذاتی طورپر مکمل اطمینان کرلیں۔ ویسے عقیل احمد کو مشورہ ہے کہ اتنے پیسے تو کہیں سے آنا مشکل ہے۔ فوری طورپر صوبائی اور وفاقی بیت المال کو درخواستیں بھجوائیں۔ یہ لوگ ایسے معاملات میں بہت مدد کرتے ہیں)۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved