2025ء تک بھارت ٹوٹ جائے گا
  2  جنوری‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
(گزشتہ سے پیوستہ) دوسری اہم تحریک تامل ناڈوبھی بھارت میں اپنی جڑیں مضبوط کرچکی ہے۔یہ ابتداء میں ایک لسانی تحریک تھی بعد میں قوت پاکرعلیحدگی کی جانب مائل ہوگئی،اگرچہ تامل بھی ہندو مذہب کے ماننے والے ہیں تاہم یہ تاملی زبان کوہندی سے زیادہ معتبرسمجھتے ہیں ۔ان کاکہناہے کہ حکومت ہم پرہندی مسلط کرکے تاملوں کوغلام بناناچاہتی ہے جوقطعاً منظورنہیں۔ یہ قضیہ اولاً ۷۴۹۱ء میں سامنے آیاجب کانگرس کی صوبائی حکومت نے اسکولوں میں جہاں تاملی بولنے والوں کی اکثریت تھی،ہندی کولازمی تعلیم کادرجہ دیاجس پرتاملوں نے اپنے بچو ں کوہندی پڑھانے سے انکارکردیا۔تقسیم ہند کے بعد۰۵۹۱ء کے عشرے میں تاملوں کااحتجاج وسعت اختیارکرگیاجس پرحکومت نے تشددکاراستہ اپناکران کی تحریک کوکچلنے کی کوششیں شروع کردیں۔تاملوں کے ساتھ انسانیت سوزمظالم کے ردِّ عمل میں یہ لسانی تحریک ۸۶۹۱ء میں باقاعدہ بھارت سے علیحدگی کی تحریک میں تبدیل ہوگئیاور اب’’تامل نیشنل ریٹریول ٹروپس‘‘ کے نام سے بھارت سے مکمل علیحدگی کیلئے مسلح جدوجہدکررہے ہیں۔ بھارت اوراس سے ملحق تامل زبان بولنے والے علاقوں میں اب یہ تحریک شدومدکے ساتھ اپنی منزل کی طرف بڑھ رہی ہے۔ بھارت کے نقشے پرنظرڈالیں توشمال مشرق کی جانب سات ریاستوں پرمشتمل پٹی دکھائی دیتی ہے جسے تاریخی طورپر ’’سیون سسٹر‘‘یعنی(سات بہنیں)بھی کہاجاتاہے جن میں آسام،ناگالینڈ،منی پور،تری پورہ،میزورام،اروناچل پردیش اورمینالیہ شامل ہیں۔ان ریاستوں کوبنگلہ دیش اوربھوٹان نے ڈھانپ رکھاہے۔ یہ ریاستیں بھارتی ریاست مغربی بنگال کی ایک پٹی کے ذریعے بقیہ بھارت سے منسلک ہیں۔یہ علیحدگی پسندگروہوں کامرکزتسلیم کی جاتی ہیں جن میں آسام ،ناگالینڈ،منی پوراورتری پورہ سب سے زیادہ حساس ہیں۔صرف آسام میں ۴۳علیحدگی پسندتنظیمیں سرگرم ہیں جن میں یونائیٹڈلبریشن فرنٹ ،نیشنل ڈیموکریٹک فرنٹ کے ماتاپورلبریشن آرگنایزیشن، برچھا کمانڈو فورس، یونائیٹڈ لبریشن ملیشیا،مسلم ٹائیگرز،آدم سینا،حرکت المجاہدینحرلت الجہاد، گورکھاٹا ئیگرفورس، پیپلز یونائیٹڈلبریشن فرنٹ سرفہرست ہیں۔ دوسری جانب ایسی ہی تحریکیں ناگالینڈ،منی پوراورتری پورہ میں بھی جاری ہیں۔ناگالینڈ میں نیشنل سوشلسٹ کونسل سب سے زیادہ مؤثرہے جبکہ منی پورمیں پیپلزلبریشن آرمی،منی پورلبریشن ٹائیگرزفورس،نیشنل ایسٹ مائنارٹی فرنٹ،کوکی نیشنل آرمی اورکوکی ڈیفنس آرمی جدوجہد میں مصروف ہیں۔اسی طرح تری پورہ آرمڈٹرائبل فورس،تری پورمکتی کمانڈوزاور بنگالی رجمنٹ جدوجہدکررہی ہیں جبکہ ریاست میزورام میں پروفیشنل لبریشن فرنٹ علیحدگی کی تحریک آگے بڑھارہی ہے۔ دراصل بھارت کثیرالثقافتی اورکثیرالسانی ومذہبی ملک ہے،اگرچہ وہ دعویٰ جمہوریت اورسیکولرکاکرتاہے تاہم اس کے باوجودبھی وہاں کی اقلیتیں سب سے زیادہ مظلوم ہیں۔دیگر مذاہب سے صرفِ نظرکرکے صرف ہندومت ہی کودیکھاجائے تومعلوم ہوگاکہ بھارت میں ہندوؤں کی نچلی ذاتیں بھی انتہائی غیرانسانی سلوک کاشکارہیں اگرچہ اقوام متحدہ سمیت انسانی حقوق کی تنظیمیں ان کے حقوق کیلئے آوازبلندکرتی رہی ہیں تاہم اس کے باوجودبھی ان کی شنوائی نہیں ہوتی۔یہی وجہ ہے کہ بھارت کے اچھوتوں نے بھی’’دی دلت فریڈم نیٹ ورک‘‘ کے نام سے آزدئ کی تحریک شروع کررکھی ہے۔ اس تناظرمیں عالمی میڈیاکابھی مانناہے کہ بھارت عسکریت پسندی کی وجہ سے اس وقت سب سے زیادہ ناپسندیدہ اورغیرمحفوظ ملک بن گیاہے جہاں ۷۱۳عسکری کیمپ کام کررہے ہیں۔یہ گویاعراق وشام کے بعدبم دہماکوں اورہلاکتوں کے لحاظ سے سب سے بڑاملک بن گیاہے۔عالمی میڈیاپرشائع ہونے والی رپورٹوں کے مطابق بھارت میں ماؤنواز باغیوں ،تامل علیحدگی پسندوں،خالصہ تحریک اورکشمیری مجاہدین سمیت آزادی کی دیگرتحریکیں عروج پرہیں جس کے سبب علیحدگی پسندوں کی قوت میں بتدریج اضافے کے بعد بھارت کے ۵۲۰۲ء تک کئی ٹکڑوں میں تقسیم ہوجائے گا۔ان حالات میں بھارت کیلئے اندرونی خلفشارسب سے بڑاخطرہ ہے۔دوسری جانب ہندوانتہاء پسندتنظیموں نے بھی بھارت میں تربیتی کیمپ کھول رکھے ہیں۔شیوسینا،راشٹریہ سیوک سنگھ اوربجرنگ دل کے مظالم اوراقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کی وجہ سی ہے حریت اورعلیحدگی پسندی کوتقویت ملی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ بھارت کی مقبوضہ اورحقوق سے محروم ریاستوں میں مظلوم اقلیتوں نے علیحدگی اورآزادی کی راہ چن کرمنزل کی جانب سفرجاری وساری رکھاہے۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved