ڈاکٹر عافیہ اور وزیر داخلہ کے نام خط؟
  2  جنوری‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
یہ بات سچ ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی مظلومیت کی زندہ تصویر ہے... ڈاکٹر عافیہ صدیقی معصومیت کی معراج ہے... یہ بات بھی سچ ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی امریکہ کے عقوبت خانوں میں صلیبی دہشت گردی کا شکار ہے، لیکن اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی بھولی بسری داستان ہے تو اس سے زیادہ بیوقوف کوئی دوسرا ہو ہی نہیں سکتا... میں نے جمعہ کے اجتماعات سے لیکر عید کے اجتماعات تک‘ سیرت النبیﷺ کانفرنسوں سے لیکر جہاد کانفرنسوں تک ہزار ہا لوگوں کو ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لئے رو رو کر دعائیں مانگتے ہوئے دیکھا ہے ڈاکٹر عافیہ صدیقی لاکھوں نہیں کروڑوں مسلمانوں کی بہن ہے... میں ایسے بھائیوں کو جانتا ہوں کہ جنہوں نے اپنی اس بہن کی گرفتاری کا ایک ایک دن... گن رکھا ہے، ہفتے، مہینے اور سال تو بہت دور کی بات ہے، ان کی ڈائریوں میں تو منٹوں اورسیکنڈوں کا حساب بھی موجودہے، اور وہ اپنی پاکبازبہنا کے عقوبت خانوں میں بیتے منٹوں اور سیکنڈوں کا حساب بے باک کرنے کیلئے تڑپ رہے ہیں۔ ظلم کی بھی کوئی انتہا ہوتی ہوگی؟ ستم کی بھی کوئی حد ہوتی ہوگی؟ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے معاملے پر تو امریکہ نے ظلم و ستم، جبر و تشدد، اوروحشت و درندگی کی ساری حدیں توڑ ڈالیں، امریکہ نے توجو کرنا تھاوہ کیا، اس لئے کہ مسلمانوں کے خلاف امریکی یہودی دہشت و وحشت کی علامت ہیں، مسلمانوں کوذلیل و رسوا کرنے کی کوشش کرنا یہود و نصاری کی پرائی عادت ہے اور جب مسلمانوں میں پرویز مشرف جیسے لوگ انہیں سستے داموں مہیا ہو جائیں۔۔۔تو پھر صلیبی، یہودی دہشت گردی سے شیطان بھی پناہ مانگنے پر مجبور ہو جاتاہے۔ مارچ2003ء میں رسوا کن ڈکٹیٹر پرویز مشرف نے تمام اسلامی اخلاقی اور آئینی اقدار کو پامال کرتے ہوئے۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو تین معصوم بچوں سمیت کراچی سے اغوا کروا کر امریکیوں کے حوالے کر دیا تھا۔۔ ڈاکٹر عافیہ کی والدہ، ان کی بہن ڈاکٹر فوزیہ اور گھر کے دیگر افراد اپنی بیٹی کی تلاش میں مارے مارے پھرتے رہے... ان دنوں کون سادر ہے جو انہوں نے نہ کھٹکھٹایا ہو؟ کون سا مقتدر شخص ایسا ہے کہ جس کے سامنے انہوں نے اپنا درد نہ رکھا ہو؟ لیکن پرویزی دور کا وزیر داخلہ ان مظلوموں کو دھوکا دیتا رہا اور جھوٹ بولتا رہا۔ تاآنکہ افغانستان میں بدنام زمانہ امریکی عقوبت خانے بگرام ایئر بیس میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی نشاندہی ہوئی، پھر کیا تھا،معصوم سی ڈاکٹرعافیہ صدیقی پر خوفناک امریکی مظالم کی ایسی ایسی داستانیں سامنے آئیں کہ جنہیں سن کر جنگلوں کے درندے بھی شرمندہ ہو گئے اور انسان یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ تعصب کے بھرے ہوئے صلیبی امریکی اس قدر غلیظ، نیچ اورشیطان صفت بھی ہو سکتے ہیں؟ گھٹیا، نیچوں کم ذاتوں اور بد ذاتوں کا بھی شائد کوئی سٹیٹس ہو؟ مگر امریکیوں نے تو ڈاکٹر عافیہ صدیقی پر مظالم اور ان کی بے حرمتی کے حوالے سے سارے ریکارڈ توڑ کر انسانیت کو رسوا کر دیا۔ خبر آئی ہے کہ امریکہ میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے وکیل اسٹیفن ڈاونز نے وزیرداخلہ چوہدری نثار کو ایک خط لکھا ہے ...اس خط میں وکیل نے مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتی عزم کی کمی کی وجہ سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو امریکی قید خانے میں مرنے کیلئے نہیں چھوڑنا چاہئے، ڈاکٹر عافیہ کے وکیل نے حکومت پاکستان سے ان کی رہائی کیلئے مدد کی اپیل کی ہے،پاکستان کے جمہوری بادشاہ مسٹر نواز شریف ہیں۔ جی ہاں، یہ وہی نواز شریف ہیں کہ جو نہ صرف یہ کہ کبھی اپنی تقریروں میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی مظلومیت کا ذکر کیا کرتے تھے...بلکہ انہوں نے عافیہ صدیقی کی بہن ڈاکٹرفوزیہ صدیقی اور ان کی والدہ محترمہ عصمت صدیقی سے وعدے بھی کئے تھے کہ اگر ان کی حکومت آئی تووہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو ضروررہا کروائیں گے۔ جب امریکی قاتل ریمنڈ ڈیوس کو امریکہ بھجوانے کی تیاریاں ہو رہی تھیں تو تب قوم کی خواہش تھی کہ ریمنڈ ڈیوس کے بدلے ڈاکٹرعافیہ صدیقی کو رہا کروالیا جائے... مگر تب آصف علی زرداری کی حکومت یہ سب کرنے میں مکمل ناکام ثابت ہوئی، پھر خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ مسٹرنواز شریف تیسری دفعہ حکومت بنانے میں کامیاب ہوگئے... اب جبکہ ان کے اقتدار کے چار سال پورے ہونے کو ہیں... انہوں نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو رہا کروانا تو درکنار پاکستان کی اس پاکباز بیٹی کا نام لینا بھی چھوڑ دیا، ممکن ہے کہ وہ اپنے اقتدار کاپانچواں سال مکمل کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔لیکن ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے معاملے پر ان کی بیوفائی تاریخ کاایک ایساباب بن چکا ہے کہ جس کو کوئی مٹانا بھی چاہے تو وہ کبھی مٹا نہ پائے گا، نجانے کیوں قوم ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے معاملے پر اپنے حکمرانوں سے مایوس ہوتی جارہی ہے۔ اب جبکہ غدار وطن ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی کیلئے امریکہ ہمارے حکمرانوں پر دباو ڈال رہا ہے، قوم نہ چاہتے ہوئے بھی حکمرانوں سے توقع لگا بیٹھی ہے کہ ... اگر خدانخواستہ امریکی دباو پر ڈاکٹر آفریدی کو امریکہ کے حوالے کرنا ہی پڑا، تو بدلے میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ کرلینا چاہئے، مگر کیا چوہدری نثار یا نوازحکومت ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لئے کوئی موثر کردارادا کر پائے گی؟ یہ وہ ملین ڈالر کا سوال ہے کہ جس کا جواب کسی کے پاس نہیں... مارچ2003 سے لیکر دسمبر2016 تک... ان تیرہ سالوں اور نو مہینوں میں مسلمانوں کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی پر کیا بیتی؟ اس داستان غم کا ایک ایک حرف خون میں ڈوبا ہوا ہے! اپنوں کی غداری، امریکی شیطانوں کے مظالم، قید خانوں کے مناظر، عقوبت خانوں میں گونجنے والی چیخیں انسانیت پر ہمیشہ ماتم کناں رہیں گی، کونسی وزارتیں، کونسی وزارت عظمی؟ کونسی چودراہٹ؟ کون سی دانشوری؟ کالم نگاری اور کون سا سرمایہ ... اور سرمایہ دار؟ کون سا سیاست دان اور کون سا جرنیل؟ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی عزت و عظمت کے مقابلے میں سب ہیچ ثابت ہوئے۔ کون سے انسانی حقوق ؟ کون سے عورتوں کے حقوق ؟ کون سا مکالمہ اور کون سی بین المذاہب ہم آہنگی؟ یہ نعرے لگانے والے سب کے سب ڈاکٹرعافیہ کے سامنے بونے ثابت ہوئے، امریکہ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی پر مظالم کے پہاڑ گرا کر انسانیت کو بے عزت کر ڈالا، امریکیوں نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو3فروری2010 کو86سال قید با مشقت کی سزا سنا کر انصاف کوسولی پر لٹکا دیا، امریکیوں نے پاکبازبیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے ساتھ وحشیانہ سلوک کر کے عورتوں کے حقوق کو کچل کر رکھ دیا۔ کیافائدہ میٹرو بسوں کا؟ کیا حاصل اورنج ٹرینوں اور موٹروے کا؟ عزت سڑکوں، موٹروے اوراورنج ٹرینوں سے نہیں ملا کرتی ... جس قوم کی بیٹیاں صلیبیوں کے قید خانوں کا رزق بن جائیں... اور وہ قوم اپنی بیٹیوں کے لئے کچھ نہ کر پائے، وہ قوم نہیں بلکہ زندہ لاشوں کا ریوڑ ہوتا ہے‘ ممکن ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی امریکی قید خانوں میں ہی مر جائے... وہ تومر کر بھی رفعتوں کے آسمان کو چھولے گی... مگر پھر زندہ لاشوں کا ریوڑ کدھر جائے گا؟ یہاں اگر کوئی اور اورنج ٹرینوں میں گھومنے میں کامیاب بھی ہو گیا... لیکن یوم آخرت میں تو حساب دینا ہی پڑیگا، سوچ لو... سوچ لو... اب بھی وقت ہے سوچ لو!

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved