امریکہ ‘جبر و مکر کی ایک داستان
  2  جنوری‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
(گزشتہ سے پیوستہ) پاکستانی قوم اپنے خاندانی نظام اور تہذیبی روایات سے دست کش ہو جائے اور نکاح، طلاق، وراثت، خاندانی ماحول اور باہمی رشتوں کے حوالہ سے مغربی تہذیب و ثقافت کی بالادستی کو قبول کر کے اس کا حصہ بن جائے۔ اسلامی عقائد کے ساتھ بے لچک کمٹمنٹ سے لاتعلق ہو جائے اور تحفظ ناموس رسالتؐ، عقیدۂ ختم نبوت اور مذہبی شعائر کی حرمت و تقدس سمیت تمام مذہبی معاملات کو دستور و قانون کے ماحول سے خارج کر دے۔ ایٹمی قوت کے مقام سے پیچھے ہٹے، اپنی عسکری اور دفاعی صلاحیت و قوت کو ’’آقاؤں‘‘ کی مقرر کردہ دائروں میں محدود کر دے اور خاص طور پر مسلم ممالک کی عسکری قوت و صلاحیت کے لیے مقرر کی گئی ’’ریڈ لائن‘‘ کو کراس نہ کرے۔ اقتصادی و معاشرتی ترقی اور خود کفالت کا خواب دیکھنا چھوڑ دے اور ’’سی پیک‘‘ سمیت تمام ایسے ترقیاتی پروگراموں پر نظر ثانی کرے جن سے چودھریوں کی چودھراہٹ متاثر ہوتی ہو۔ پاکستان خود کو عالم اسلام کے وسیع تر دائرے کا شعوری و نظریاتی کردار سمجھنا چھوڑ دے، اپنی تمام تر پالیسیوں کو داخلی و علاقائی دائروں میں محصور رکھے اور ملت اسلامیہ کے اجتماعی تصور سے دستبردار ہو جائے۔ یہ وہی کردار ہے جس کا خطرہ محسوس کرتے ہوئے افغان طالبان کی اسلامی حکومت کو ختم کیا گیا، ورنہ ان سے زیادہ شدت پسند حکومتیں دنیا میں قائم رہی ہیں اور اب بھی ہیں جن کے ساتھ یہ رویہ نہیں اختیار کیا گیا۔ یہ وہ چند پہلو ہیں جو پاکستان پر بڑھتے ہوئے عالمی دباؤ کے مختلف دائرے ہیں، اس کی ایک جھلک ایمنسٹی انٹرنیشنل کی حالیہ رپورٹ میں دیکھی جا سکتی ہے جس میں پاکستان کے دستور و قانون کی مختلف شقوں کو قابل اعتراض قرار دے کر ان پر نظر ثانی کے لیے زور دیا گیا ہے۔ جبکہ پاکستان کو اپنے تجارتی دائرے میں شامل کرنے کے لیے یورپی یونین کی عائد کردہ شرائط بھی اس صورتحال کی عکاسی کرتی ہیں اور بین الاقوامی معاہدات کا دباؤ ان سب پر مستزاد ہے۔ ستم کی بات یہ ہے کہ اس قسم کے کسی مسئلہ پر ان میں سے کسی ملک سے بات کی جائے تو ان کا دوٹوک جواب یہ ہوتا ہے کہ (۱) ہم اپنے قومی مفاد کے دائرے میں ہی بات کر سکتے ہیں۔ (۲) ہماری پالیسیاں عوام کے منتخب نمائندے طے کیا کرتے ہیں۔ (۳) ہم اپنے ملک کے دستور و قانون سے باہر نہیں جا سکتے۔ (۴) ہماری تہذیبی اقدار اور قومی روایات ہی ہمارے اصل راہنما ہیں۔ مگر جب پاکستان اور دیگر مسلم ممالک کی بات ہوتی ہے تو قومی مفاد، منتخب نمائندوں کے فیصلے، دستور و قانون کی بالادستی اور قومی و تہذیبی روایات کی ساری دلیلیں دھری کی دھری رہ جاتی ہیں اور ایک ہی بات حرفِ آخر قرار پاتی ہے کہ وہ کرو جو ہم کہہ رہے ہیں ورنہ ہمارے غیظ و غضب اور کاروائیوں کا نشانہ بنتے رہو جس کا عملی مشاہدہ افغانستان اور عراق میں لاکھوں انسانوں کے قتل عام کی صورت میں کیا جا چکا ہے۔ دوسری طرف ہمارا معاملہ یہ ہے کہ اس دباؤ بلکہ جبر اور دھاندلی کا احساس تو پایا جاتا ہے لیکن ہم اس کا سامنا طبقات کی صورت میں الگ الگ کر رہے ہیں۔ عسکری قوتیں اپنے دائرہ کے دباؤ میں اپنی صلاحیت کے تحفظ کی فکر میں ہیں۔معاشی اور اقتصادی حلقے اس دباؤ میں سے اپنے لیے راستے تلاش کر رہے ہیں۔ حتیٰ کہ شرعی و دستوری تقاضے کے باوجود سودی نظام سے خاتمہ کی کوئی راہ بھی دکھائی نہیں دے رہی۔ مذہبی اور نظریاتی حلقے اس دباؤ کے مقابلہ میں صرف اپنی حد تک مورچہ زن ہیں۔ اور مغربی ثقافت کی ترویج و اشاعت میں حصہ لینے والوں کے لیے حوصلہ افزائی اور مراعات جبکہ دینی اقدار کے لیے کام کرنے والے گروہوں کے لیے خوف و ہراس اور کردار کشی کا ایجنڈا کارفرما ہے۔ سیاسی حلقوں کو سرے سے اس کی کوئی فکر ہی نہیں ہے، انہیں صرف کرسی چاہیے اور لوٹ کھسوٹ کے مواقع میسر ہونے چاہئیں وہ جس راستے سے ملیں اور جس ذریعہ سے آئیں انہیں اس کے علاوہ اور کسی بات کی پرواہ نہیں ہے۔ میرے خیال اور مشاہدہ میں ذوالفقار علی بھٹو مرحوم اور جنرل ضیاء الحق مرحوم کے بعد سے ہمارے کسی حکمران کا کوئی سیاسی وژن اور ایجنڈا نہیں ہے۔ بھٹو مرحوم اور ضیاء الحق مرحوم کے سیاسی وژن کے بعض پہلوؤں سے اختلاف کیا جا سکتا ہے اور ان کا وژن بظاہر ایک دوسرے سے مختلف دکھائی دیتا ہے (اگرچہ میری رائے میں ایسا نہیں ہے) لیکن یہ بات طے ہے کہ ہمارے یہ دونوں مرحوم لیڈر پاکستان اور عالم اسلام کے لیے ایک واضح ایجنڈا رکھتے تھے جس کے لیے وہ پوری طرح مصروف عمل تھے۔ ان کے بعد اقتدار، کرسی اور لوٹ کھسوٹ کے مواقع کے سوا پاکستان کے سیاسی ماحول میں کسی کا کوئی وژن اور ایجنڈا دکھائی نہیں دے رہا۔ اس پس منظر میں میاں محمد نواز شریف کے اس ارشاد سے اتفاق کرتے ہوئے ہم یہ گزارش کرنا چاہتے ہیں کہ پاکستان کے خلاف عالمی دباؤ کا وسیع تناظر میں جائزہ لینے کی ضرورت ہے اور اس کا سامنا طبقاتی ماحول نہیں بلکہ قومی ماحول میں کرنا ضروری ہے۔ اگر اس عالمی دباؤ کے متنوع دائروں کے پیچھے ماسٹر مائنڈ اور کنٹرول روم ایک ہے تو اس کا سامنا کرنے کے لیے طبقاتی دائروں سے نکل کر مشترکہ ماسٹر مائنڈ اور کنٹرول روم کا اہتمام بھی وقت کا ناگزیر تقاضا ہے۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 




 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...

  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved