نیا سال،نئی امید
  3  جنوری‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
سول سروسز امتحانات کے بعد انٹرویو دینے وہ کمیٹی روم میں داخل ہوا۔ دعا سلام ہوئی۔اس نے کمرے کا ایک جائزہ لیا اور کرسی پر بیٹھنے لگا تو چیئر مین نے کہا ،آپ زرا کمرے سے باہر جا کر جلدی واپس آ کر اس کرسی پر بیٹھ سکتے ہیں۔اس نے ایسا ہی کیا۔ چیئر مین نے پہلا سوال کیا۔ بتائیں کمرے سے باہر جانے کے بعدسے آپ نے یہاں کیا تبدیلی محسوس کی ۔ کیا چیز نئی ہے۔اس نے ایک جائزہ اور لیا۔ کوئی نئی چیز نظر نہ آئی۔گھڑی ویسے ہی ٹک ٹک کر رہی تھی۔ وہ ذہین تھا۔ کہا یہاں کچھ نہیں بدلا، مگر وقت بدل گیا۔ نیو ائر نائٹ، ہنگامہ، شورشرابا، جشن کی محفلیں ، سب گزر گیا۔وقت بدل گیا۔استنبول کو یہ سال جاتے جاتے ایک بار پھر سوگوار کر گیا۔2017سب سے پہلے سموا، ٹونگا، کریبٹی(بحر الکاہل کے جزائر) میں داخل ہوا۔پھر نیوزی لینڈ سال نو میں داخل ہوا۔ منچلوں اور جشن پسندوں کو بھی رقص و سرور اور ہنگاموں کا کوئی بہانہ چاہیئے۔ سال 2016چلا گیا۔ 2017بھی ایک سال بعد چلا جائے گا۔ ہر گزرتے وقت کا احساس ضروری ہے۔ وقت کی قدردانی ہو۔ کچھ بھی ہو جائے۔ گزرا وقت دوبارہ نہیں آتا۔ مگر 31دسمبر2016کو جو سورج غروب ہوا ۔ اتواریکم جنوری2017کو وہی سورج طلوع ہوا۔ اب یادوں کی بات ہے۔ کل ہم سے اچھے کام بھی ہوئے ہوں گے اور برے بھی۔ مثبت بھی اور منفی بھی۔اچھے کاموں کو جاری رہنا چاہیئے بلکہ ان میںمزید بہتری کی گنجائش ہو گی اور غلطیوں، کوتاہیوں سے بچنا ضروری ے۔ ان کی اصلاح ہو۔ ازالہ بھی ہو۔کل جو ہوا ، اس کا جائزہ لیا جائے۔ اپنا احتساب ہو۔ اپنے گریبان میں جھانکا جائے۔ کسی کو اس کی فرصت نہیں۔ ہم صرف دوسروں کی غلطیاں مشتہر کرتے ہیں۔ دوسروں پر انگلی اٹھاتے ہیں۔ مگر ہر انسان اگر دوسروں پر ہی الزام تراشی کرتا رہے تو وہ بلا شبہ خود بچ نکلنے کی کوشش کرتا ہے۔اپنا احتساب نہیں ہو سکے گا۔ پھر یہ ہو گا کہ ہر کسی کو دوسرے کی ہی برائی نظر آئے گی۔ جب میں اپنی اصلاح کے بجائے دوسرے کی طرف دیکھوں گا تو پھر کسی کی بھی اصلاح نہ ہوگی۔ کیوں کہ ہر کسی کی توجہ اپنی طرف نہ ہو گی۔وہ دوسروں کو ہی نشانہ بنائے گا۔ اگر یہی سوچ عام ہو جائے تو پھر کوئی ٹھیک نہ ہو گا۔ سدھار آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہی بات بڑے پیمانے پر کی جا سکتی ہے۔ اسی کو ہم پیمانے ، آلہ بنا سکتے ہیں۔ اگر میں کسی پارٹی ، جماعت ، تنظیم، فرقے، قبیلے، دھڑے، علاقے، مذہب، زات، برادری، نسل، رنگ، نسب، میڈیا گروپ وغیرہ سے تعلق رکھتا ہوں تو پھر میں اپنی وابستگی کو بہتر اور دوسروں کو ہر برائی، خرابی کی جڑ قرار دوں گا۔ ایسا ہی ہوتا ہے۔ کوئی اس سے پاک و صاف نہیں۔ یہ بات سب برائیوں کی جڑ ہے۔ اس پر از سر نو غور کرنا ہو گا۔ اس کے بغیر دوسرا کوئی راستہ نہیں ہے۔ حکومت اور اس کی اتحادی پارٹی کی یہ سوچ ہوتی ہے کہ اپوزیشن الائنس ہی سب خرابیوں کی بنیاد ہے۔ اپوزیشن سارا الزام حکومتی اتحاد پر عائد کرتی ہے۔ ایک محلہ سے لے کر شہر، صوبے، ملک یہاں تک کہ عالمی سطح تک ایسا ہو رہا ہے۔نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اقوام متحدہ پر یہ الزام لگا رہے ہیں۔ عالمی اتحاد بنتے اور ٹوٹتے بھی اسی بنیاد پر ہیں۔ نظریات اور اقدار کی کوئی قدردانی نہیں۔ کسی جگہ طاقت، کسی جگہ دولت، کہیں اثر و رسوخ کام کرتے ہیں۔ یہ سب پر اثر انداز ہو کر سب کو اپنی لپیٹ میں لیتے ہیں۔ ٹیلنٹ چھپ جاتا ہے۔ گزشتہ سال میں کیا ہوا۔ ہم سے کیا کوتاہی ہوئی۔ کمی کہاں رہ گئی۔ نقصان کس کے سبب پہنچا۔ کیا چیز فائدہ مند تھی۔ غلط سے بچنے کی سبیل کی جا سکتی ہے۔ ایسا گزشتہ حماقت یا شعوری غیر شعوری غفلت کے ازالے کے بغیر نا ممکن ہے۔ یہ ازالہ تب ہو گا، اگر ہمیں اس کا ادراک یا احساس ہو۔ ہم نے جو عینک لگائی ہے ۔ اس کے دیکھنے اور پرکھنے کے انداز مختلف ہوں گے تو ہمارے ہاتھ کچھ نہ آئے گا۔ گزشتہ سال میں ہماری پالیسی، حکمت عملی کیسی تھی ۔ پلاننگ کیا تھی۔ منصوبہ بندی ، ٹارگٹ ، اہداف کیا تھے۔ کیا ہم نے یہ اہداف حاصل کر لئے۔اگر اہداف ہی نہ ہوں، منزل کا تعین ہی نہ کیا جائے تو پھر کارکردگی کا کوئی سوال نہیں ہوتا۔مگر جب ہدف لگایا جائے۔ تو اس تک پہنچنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ٹارگٹ دینے کے بعدہم اگر منیجر، کمشنر،امیر کو بدل دیں، تو اس کا انجام خراب ہوتا ہے۔ پھر اسے بھی جواز ملتا ہے۔ وہ بھی بہانہ بناتا ہے کہ اسے وقت سے پہلے اس منصب سے ہٹا دیا گیا یا اسے مناسب موقع ہی نہ ملا۔ جنگ چل رہی ہو تو سواری نہیں بدلی جاتی مگر ہم نے جنگ کے دوران اپنا جنرل بدل دیا تھا۔ نئے عیسوی سال کا آغاز یکم جنوری 2017،( 2ربیع الثانی 1438ھ )سے ہو چکا ہے۔اس لئے ہمیں اس نئے سال میں ایسی منصوبہ بندی کرنی ہے، جس کا فائدہ ہونے کی توقع ہو۔ ہمارا کام بہتر منصوبہ بندی ہے۔ کوشش کی جائے۔ مثبت سوچ ہو۔ نیت صاف کے ساتھ کام کیا جائے۔ کوئی خوش ہو یا ناراض ، اس کی کوئی پرواہ نہیں۔ مشاورت وسیع کی جائے۔ اپنی طرف سے کوئی غفلت نہ ہو۔ ہر چیز کا احاطہ کیا جائے۔ توقعات اور خدشات سامنے رکھے جائیں۔ عرب محاورہ ہے کہ پہلے اونٹی کو باندھ ڈالیں' پھر توکل کیا جائے۔ یہ توکل نہیں کہ گاڑی کو سڑک پر حفاظتی تدابیر کئے بغیرکھلا چھوڑ ا جائے۔ اس حالت میں توکل کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ توکل اور دعا ہمارے بڑے ہتھیار ہیں۔ دعا بھی بیٹھے بٹھائے نہیں کی جا سکتی۔ پہلے تیاریاں مکمل ہوں، ہر ممکن محنت کی جائے۔ پھر ہاتھ اللہ کے حضور بلند کریں۔ گڑ گڑا کر تائب ہوں۔ کامیابی کی درخواست کی جائے۔ پھر نتیجہ اللہ پر چھوڑ دیں۔ جیسے کہ ہمارے پیارے نبی ۖ نے کفار کے ساتھ ایک جنگ میں تمام تیاریاں مکمل کرنے کے بعد ، صفیں درست ہونے پر اللہ سے عاجزی سے دعا مانگی۔ اللہ نے آپۖ کی دعا قبول فرمائی۔ 2017نیا سال ہی نہیں ہر آنے والے لمحہ ہم سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ ہم لمحہ موجود کو ضائع نہ جانے دیں۔ اس کا مثبت فائدہ اٹھائیں۔ اسکی قدر کریں۔اس میں آنے والے وقت کی تیاریاں کر لیں۔ آج اس وقت کل کی تیاری کریں۔ پہلے زمین ہموار ہو۔ اس کو زرخیز بنانے کے لئے اس کی تیاری۔ اس کی سینچائی کا مناسب و معقول بندو بست ہو۔ اس میں موقع پر بیج ڈالا جائے۔ پھر اس کی دیکھ بھال، رکھوالی۔ اللہ نے چاہا تو فصل اچھی ہو گی۔ پیداوار میں اضافہ ہو گا۔ ہم اچھی فصل کاٹیں گے۔ آنے والے وقت مستقبل کے لئے یہی تمنا اور امید ہے۔ بس ہم اپنے کام سے کام رکھیں۔ دوسروں پر انگلی اٹھانے کے بجائے اپنے کام کی بہتری کی فکر کریں۔ اپنی زات کی تربیت کریں۔اپنی اصلاح پر توجہ دیں۔ تو ساری کائینات کی اصلاح ہو گی۔ کیوں کہ ہر کوئی اپنی پہچان ، اصلاح کرے گا۔ دوسروں کی پگڑی نہیں اچھالی جائے گی۔ کسی پر کیچڑ نہیں پھینکا جائے گا۔ کسی کی کردار کشی نہ ہو گی۔ ہم اپنی پارٹی ، جماعت ، تنظیم، فرقے، قبیلے، دھڑے، علاقے، مذہب، زات، برادری، نسل، رنگ، نسب، میڈیا گروپ وغیرہ کی بہتری، کامیابی، اصلاح پر توجہ دیں تو سب کی کامیابی ہو گی۔ ایک حدیث پاک ہے۔ من عرف نفسہ، فقد عرف ربہ، یعنی جس نے اپنے نفسکو پہچانا، پس اس نے اپنے رب کو پہچان لیا۔ ہمیں دوسروں کے ساتھ نیکی اور بھلائی کے کاموں میں تعاون کرنے کی ہدایت ہے۔ وقت گزر رہا ہے۔ یہ کسی کا انتظار نہیں کرتا۔ کوئی وقت کو روک نہیں سکتا۔ وقت کا درست استعمال کیا جا سکتا ہے۔ جو گزر گیا۔اس پر پچھتاوے سے کچھ نہیں ملتا۔عفو در گزر ہو۔ جو آنے والا ہے اس کی فکر کی جا سکتی ہے۔ماضی کو سامنے رکھ کر مستقل کے لئے کام کیا جا سکتا ہے۔تاریخ کا یہی سبق ہے۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved