نیا سال' لاش کا تحفہ ' اصلی اور جعلی شراب کی بحث
  3  جنوری‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
کراچی میں 6سالہ معصوم بچہ نئے سال کی آمد کی خوشی میں ہوائی فائرنگ کرنے والے بدبختوں کی گولیوں کا نشانہ بن کر قبر کے پاتال میں اتر گیا... معصوم بچے ''سبحان'' کی والدہ اور بہنیں نئے سال کی خوشیا ں منانے والے شدت پسند جاہلوں سے کہہ رہی ہیں کہ تم نے عیسائیوں کے نئے سال کی آمد کی پہلی ہی رات 6سالہ ''سبحان'' کو قتل کرکے اس قوم کو ایک معصوم بچے کی لاش کا جو تحفہ دیا ہے... وہ نہایت خطرناک ہے۔ کیا ''سبحان'' کے قتل میں ان ٹی وی چینلز کے پنڈتوں کو ملوث نہیں سمجھنا چاہیے کہ جو 30دسمبر کی شام سے لے کر 31دسمبر کی رات 12بجے تک قوم کو عیسائیوں کا نیا سال منانے کی ترغیب دیتے رہے... سبحان کے قتل کا پرچہ حکومت سندھ پر بھی بننا چاہیے کہ حکومت چند سو بگڑے ہوئے جاہل شدت پسندوں کو ہڑبونگ مچانے اور ہوائی فائرنگ سے منع کرنے میں مکمل ناکام ثابت ہوئی۔ پاکستان میں''جاہلوں'' کا اتوار بازار سجا ہوا ہے... یہ خاکسار تو روز اول سے ہی انہیں امریکی پٹاری کے دانش فروش لکھتا چلا آرہا ہے کہ ... جو یورپ سے اس حد تک مرعوب ہیں کہ ان کا تھوکا ہوا بھی فوراً چاٹنے پر فخر محسوس کرتے ہیں' امریکی اور بھارتی پٹاری کے دانش چور مجھ سے اسی لئے خفا رہتے ہیں... کیونکہ میں امریکہ سمیت یورپ کی تہذیب ہو' یا ثقافت میں اسے اسلامی تہذیب و ثقافت پر ترجیح دینے کے لئے تیار نہیں ہوں۔ میرے نزدیک ''دانش'' یعنی ''دانائی'' کی بنیاد اللہ کا خوف ہے... اور قرآن و حدیث' علم و دانش کا اصل مرکز و محور ہیں... کیا انہیں مسلمانوں کا دانشور' اینکر' کالم نگار یا سیاست دان کہلانے کا حق ہے کہ جو مسلمانوں کو عیسائیوں کا سال منانے کی ترغیب دیتے ہیں؟ اللہ کے لاڈلے رسول آقا و مولیٰۖ نے فرمایا تھا کہ جس کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ دنیا میں جو جس کے ساتھ محبت کرے گا یا جس قوم کی نقالی کرے گا قیامت کے دن اس کا حشر اسی کے ساتھ ہوگا۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے یہ کیسے سیاستدان ہیں ... یہ کیسے دانشور' کالم نگار' اینکر پرسنز اور تجزیہ نگار ہیں کہ جنہیں اللہ کے سب سے پسندیدہ دین میں نعوذ باللہ کچھ نظر ہی نہیں آتا... جاہل سیکولر شدت پسندوں کا ٹولہ یہ سمجھتا ہے کہ جیسے نعوذ باللہ دین اسلام' لوگوں کی خوشیاں چھینتا ہے یا خوشیاں منانے سے روکتا ہے... سیکولر شدت پسندوں کا یہ ٹولہ چونکہ خود اسلام سے دور ہے... قرآن و حدیث پر عمل کرنا تو درکنار قرآن و حدیث پڑھنے کے لئے ہی تیار نہیں ہے... اس لئے یہ یہود و نصاریٰ سے مانگے تانگے کی ... چیزوں پر گزارہ کرنے کے عادی ہوتے ہیں... لباس سے لے کر تہذیب و ثقافت تک... حتیٰ کہ منہ بگاڑ بگاڑ کر انگلش بولنے تک... بسنت' ویلٹینائن ڈے سے لے کر حتیٰ کہ نیا عیسوی سال منانے تک انہیں ہر چیز غیروں سے درآمد کرنا پڑتی ہے... امریکہ' برطانیہ یا کسی تیسرے غیر مسلم ملک میں نئے عیسوی سال کی خوشیاں منائی جاتی ہیں تو اس کا انہیں حق حاصل ہے... لیکن پاکستان تو بیس لاکھ مسلمانوں نے جانیں قربان کرکے کلمہ لاالہ الا اللہ کے نام پر حاصل کیا تھا۔ لاالہ الا اللہ محض چند الفاظ کا نام نہیں... بلکہ ایک پورا سسٹم اور مکمل نظام حیات ہے... لاالہ الا اللہ ماں کی گود سے لے کر قبر کی گور تک' ہر ہر سیکنڈ انسانوں کو مکمل رہنمائی فراہم کرتا ہے... اگر اسلامی ملک میں غیر مسلموں کے دنوں کو ہی منانا تھا تو پھر بیس لاکھ سے زائد شہیدوں نے اپنا خون کیوں بہایا تھا؟ حیرت کی بات ہے کہ ہندو رہنما ڈاکٹر رمیش کمار ہوں یا عیسائی رہنما وہ ہر ٹاک شو' قومی اسمبلی حتیٰ کہ عدالت میں کھڑے ہو کر کہتے ہیں کہ شراب تمام مذاہب میں حرام ہے... ٹوبہ ٹیک سنگھ میں زہریلی شراب پینے سے اقلیتی برادری کے چالیس سے زائد لوگ ہلاک ہوئے تو اس بات کی شدت سے ضرورت محسوس کی جانی چاہیے تھی کہ پاکستان میں شراب پینے پلانے کے تمام اڈوں اور بھٹیوں کو فی الفور بند کرکے... ان مکروہ دھندہ کرنے والوں کو جیلوں میں ڈال دینا چاہیے۔ مگر حرام اور نجس شراب 'خانہ خراب کے حوالے سے حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک رینگی... اور رہ گیا میڈیا تو ایک شدت پسند لبرل کالم نگار اپنے کالم ''خطرناک تفریح'' میں لکھتا ہے کہ ''اگر زہریلی شراب پینے والے مالی طور پر کمزور نہ ہوتے تو انہیں چاہیے تھا کہ وہ قریبی شہر فیصل آباد چلے جاتے اور ''عمدہ مشروب'' فراہم کرنے والی کسی ''بھلے آدمی'' کی خدمات حاصل کرلیتے... اس اسلامی جہموریہ میں ''سنہری'' مشروب (شراب) کی صنعت کو کوئی زوال؟ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا... اس کی پیداوار برآمد کی جاتی ہے... اور ایسی اقلیتوں کا حلق تر کرنے کا سامان کیا جاتا ہے... جن کے مذہب میں اسے نوش کرنا ممنوع نہیں۔'' ''اسلامی'' جمہوریہ پاکستان پر کسی دیسی لبرل کی طرف سے ... اس سے بڑھ کر کوئی اور طنز ہو ہی نہیں سکتا... کیونکہ دیسی لبرلز جانتے ہیں کہ ان کے ''سنہری'' اور ''عمدہ'' مشروب یعنی شراب کو اسلام نے نجس اور حرام قرار دیا ہے ... کوئی اس چکوالی نئے لبرل سے پوچھے کہ کون سی اقلیت ہے کہ جن کے مذہب میں ان کا ''سنہری'' مشروب یعنی شراب جائز ہو؟ کیا قادیانیوں کے ہاں شراب جائز ہے؟ کیا ہندو یا عیسائی مذہب میں شراب جائز ہے؟ ہرگز نہیں... جب اقلیتوں کے مذاہب میں بھی شراب حرام ہے تو پھر نجس اور پلید ترین شراب کو عمندہ اور سنہری مشروب قرار دینے والوں کو کیا قرار دیا جائے؟ ''شراب'' تو ہر حال میں انسانی صحت کے لئے نقصان دہ ہوتی ہے... وہ مہنگی ہویا سستی ہو' کیا دیسی لبرلز! اپنے کالموں کے ذریعے یہ بتانا چاہتے ہیں کہ جو سستی شراب پیتے ہیں... صحت صرف ان کی تباہ ہوتی ہے...ہاں البتہ مہنگی شراب پینے والے ہٹے کٹے اور ہمیشہ جیتے ہیں... شراب خانہ خراب کا فوری نقصان یہ ہوتا ہے کہ یہ سب سے پہلے پینے والے کی عقل سلب کر لیتی ہے... جب نشہ اس کے دل و دماغ پر چھاتا ہے تو پھر ہر بڑے سے بڑ اگناہ کرنا اس کے لئے نہایت آسان ہو جاتا ہے' شراب جعلی ہو یا شراب اصلی ہو' دونوں صورتوں میں شراب مکمل حرام ہے ... اگر ریونیو کمانے کی خاطر حکومتیں شراب کو عام کر رہی ہیں تو یہ نہ صرف اسلام کے حکم کی خلاف ورزی ہے ... بلکہ آئین سے بھی بغاوت کے مترادف ہے' قوم کی اخلاقی حیثیت کا اندازہ شراب پر پابندی سے لگانے کی کوشش کرنے والے سیکولر شدت پسند... ذرا یہ بتانا پسند کریں گے کہ جن غیر مسلم ملکوں میں شراب پر پابندی نہیں ہے... اور وہاں کھلے عام شراب بیچنے بنانے اور شراب پینے کی اجازت حاصل ہے ... ان ملکوں میں بسنے والی قوموں کی اخلاقی حالت کیا ہے؟ کاش کہ حکمران آئین پاکستان کے مطابق پاکستان میں نیکی' بھلائی اور اسلام کے احکامات کے مطابق تہذیب و ثقافت کو پروان چڑھانے کی کوشش کرتے تو آج پاکستانی قوم اخلاقی حوالوں سے دنیا کی سب سے بہترین قوم ہوتی۔ اے کاش!

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 




 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...

  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved