ایک محنت کش کی قابل تحسین فرض شناسی!
  3  جنوری‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
٭جاوید ہاشمی اور عمران خاں کے درمیان بیت بازی کا سہ ماہی 'مشاعرہ' ٭جاوید ہاشمی: عمران خاں نے کہا تھا کہ چیف جسٹس سے بات ہو گئی ہے وہ جوڈیشل (عدالتی) مارشل لا کے ذریعے ن لیگ اور پیپلزپارٹی کو کالعدم کر کے تحریک انصاف کو حکومت میں لے آئیں گے۔ ٭عمران خاں کا جواب: جاوید ہاشمی کا دماغ خراب ہے۔ سب باتیں غلط ہیں اس عمر میں آ کر یہ شخص پاگل ہو گیا ہے۔ ٭جاوید ہاشمی: دماغ میرا نہیں عمران خاں کا خراب ہے۔ عمران خاں کو اپنے دماغ کے علاوہ ڈوپ ٹیسٹ بھی کرانا چاہئے کہ خون میں شامل وہ کون سی چیز ہے جو اس عمر میں ایکٹو (چست و متحرک) رکھتی ہے۔ دماغ کے ٹیسٹ کے بعد قوم کی عمران سے جان چھوٹ جائے گی۔'' ٭عمران خاں: ''جاوید ہاشمی کے پاگل پن کا جواب دینے کی ضرورت نہیں'' ٭جاوید ہاشمی: ''میں نام نہیں لینا چاہتا تھا۔ مجبور ہو کر بتا رہا ہوں کہ عمران خاں نے چیف جسٹس ناصرالملک کا نام لیا تھا جنہوں نے ججوں کی چھٹیاں ختم کر کے ان کا ہنگامی اجلاس بلا لیا تھا۔ عمران خاں نے کہا تھا کہ چیف جسٹس اسمبلیاں تحلیل کر دیں گے۔ سارے انتظامات مکمل تھے۔عمران خاں نے ہفتہ کی رات کو امپائر کی انگلی اٹھ جانے کا اعلان کیا تھا۔ مگر بات کسی طرح رہ گئی۔ میںعمران کو چیلنج کرتا ہوں کہ میرے ساتھ مناظرہ کر لیں۔ اس میں میرا سامنا کرنے کی جرأت نہیں۔ میں عمران خاں کو پاگل نہیں کہتا۔ اس کا دماغ کا علاج کرنے والے اسے فاتر العقل کہیں گے۔ میں یہ باتیں قرآن اٹھا کر بھی کہہ سکتا ہوں! اور ہاں عمران نے یہ بھی کہا تھا کہ پہلے طاہرالقادری قبضہ کریں گے پھر ہم جائیں گے!'' قارئین کرام! ان باتوں پر کسی تبصرہ کی ضرورت نہیں۔ مفادات آپس میں ٹکراتے ہیں تو اسی طرح چہروں کے نقاب اتارے جاتے ہیں۔ عمران خاں جاوید ہاشمی سے کیسے نمٹتے ہیں، یہ ان کا مسئلہ ہے ویسے جاوید ہاشمی صاحب! آپ نے آج تک وضاحت نہیں کی کہ آپ کی کن خوبیوں کے باعث آپ کو ملک کے بدترین آمر ضیاء الحق نے آپ کو نوجوانی میں نوجوانوں کی وزارت کا وزیر بنایا تھا۔کن کن باتوں کا ذکر کیا جائے۔ آپ نے ن لیگ کی طویل رفاقت صرف ایک بار ٹکٹ نہ ملنے کی وجہ سے چھوڑ دی! کیا یہ غلط ہے کہ آپ نے جنرل پرویز مشرف کے سامنے بھی ایک وزارت کا حلف اٹھایا تھا؟ ٭نیا سال بار بار آتا ہے 20 برس پہلے میں نے 'نیا سال' کے عنوان سے ایک نظم کہی تھی۔ آج اتفاق سے سامنے آ گئی تو اندازہ ہوا کہ یہ نظم تو آج بھی اسی طرح موثر ہے۔ اس نظم کو پڑھئے اور اندازہ لگائیں کہ کیا 20 برس کے بعد کوئی تبدیلی آئی ہے؟ کل کیا ہو گا! آس نگر میں رہنے والے سادہ سچے لوگو نیند کا موسم بیت گیا ہے اپنی آنکھیں کھولو کل کیا کھویا کل کیا پایا آئو حساب لگائیں آنے والا کل کیا ہو گا آئو نصاب بنائیں جانے والے کل میں ہم نے دکھ کے صحرا دیکھے آش، نراش میں گھلتی دیکھی غم کے دریا دیکھے سوکھے جسموں والے دیکھے بھوکے ننگے سائے لمحہ لمحہ رینگ رہے تھے سب کشکول اٹھائے جانے والے کل میں ہم نے دستاروں کو بیچا اونچے ایوانوں میں ہم نے سیپاروں کو بیچا جانے والے کل میں ہم نے دکھ کی فصل کو کاٹا بستی بستی بھوک افلاس کی اڑتی خاک کو چاٹا خالی ہاتھ اور ویراں آنکھیں پائوں زنجیر پڑی چاروں جانب زہر سمندر سر پہ دھوپ کڑی دھرتی پر بارود اگایا امن کے گانے گائے اک دُوجے کے خون سے ہم نے کیسے جشن منائے! آنے والا کل کیا ہو گا آئو کچھ کھوج لگائیں دیواروں پہ زائچے کھینچیں نامعلوم کو پائیں آنے والے کل میں شائد خوابوں کی تعبیر ملے بھوکی خلقت رزق کو دیکھے انساں کو توقیر ملے بچوں کی تعلیم کے نام پہ ماں نہ زیور بیچے اس دھرتی پر اب نہ کوئی زہر سمندر سینچے آس نگر میں رہنے والے سادہ اچھے لوگو ممکن ہو تو کل کا سوچو اپنی آنکھیں کھولو ٭مجھے بیچ میں ایک اہم محنت کش نور محمد کی فرض شناسی پر اسے محبت اور شاباش کا خراج پیش کرنا ہے۔ نور محمد خانیوال لودھراں سیکشن پاکستان ریلوے کا ایک نچلے درجے کا ملازم ہے۔ اس کا کام سکھ بیاس ریلوے سٹیشن کے اردگرد ریلوے لائن کی نگرانی کرنا ہے۔ وہ حسب معمول ڈیوٹی پر ریلوے لائن کے ساتھ چل رہا تھا۔ اچانک اسے ایک جگہ پٹڑی کا ایک حصہ ٹوٹاا ہوا دکھائی دیا۔ اسی دوران دور سے کراچی سے راولپنڈی جانے والی نان سٹاپ گرین لائن ایکسپریس آتی دکھائی دی۔نور محمد نے بہت بڑا خطرہ بھانپ لیا۔ وہ سرخ جھنڈی لہراتا ہوا پوری قوت سے گاڑی کی طرف بھاگا۔ ڈرائیور نے سرخ جھنڈی دیکھ لی اور گاڑی اس ٹوٹی ہوئی پٹڑی سے کچھ فاصلہ پر روک لی اس طرح نور محمد کی فرض شناسی سے ایک خوفناک حادثہ بچ گیا۔ زندہ باد نور محمد! تم نے فرض شناسی کی اعلیٰ مثال قائم کر دی ہے میں پوری قوم کی طرف سے تمہیں شاباش اور سلام پیش کر رہا ہوں۔ خبر کے مطابق ریلویے حکام نے اسے اس کارنامے پر پانچ ہزار روپے کا انعام بھی دیا ہے۔ صرف پانچ ہزار روپے! اسے تو فرض شناسی کی اعلیٰ مثال پر کوئی اچھا ایوارڈ اور معقول مالی امداد دی جانی چاہئے۔ نور محمد کی طرح ریلوے کے دوسرے ملازمین بھی اسی طرح فرض شناسی کا مظاہرہ کرتے تو بہت سے ناگوار واقعات بچ سکتے تھے۔ نور محمد کو ایک بار پھر شاباش؟ ٭مقبوضہ جموں و کشمیر کی اسمبلی کا ٹیلی ویژن پر منظر آ رہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کا گورنر نئے سال کے خطاب کے لئے اسمبلی میں آتا ہے۔ ترانہ بجنا شروع ہوتا ہے۔ اپوزیشن مقبوضہ کشمیر کے عوام پر بھارتی فوج کی پیلٹ بندوقوں کی فائرنگ کے خلاف زبردست نعرے اور احتجاج شروع کر دیتی ہے۔ گورنر تقریر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اپوزیشن کا شور شرابا زیادہ تیز ہو جاتا ہے۔ گورنر تقریر ادھوری چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔ ہنگامہ جاری ہے۔ ایک ہندو وزیر کہہ رہا ہے کہ بھارت کے ترانے اور گورنر کی شدید بے حرمتی ہوئی ہے! یہ کچھ تو ہو گا۔ کانٹے بوئے جائیں گے تو پھول کیسے اگ سکتے ہیں! ٭ایس ایم ایس: آزاد کشمیر میں باغ سے ہجیرہ خواجہ باہنڈی تک 65 کلو میٹر کا کرایہ 300 روپے لیا جا رہا ہے۔ یہ غریب عوام پر ظلم ہے۔ کوئی شنوائی نہیں ہو رہی۔ سرفراز خاں باغ (03476494737) ٭سرائیکی دھرتی کے مایہ ناز معذور سرائیکی شاعر فاروق راول بلوچ ٹانگوں کے درد کے باعث چلنے پھرنے سے قاصر ہیں وزیراعلیٰ سے درخواست ہے کہ ان کا سرکاری طور پر علاج کرایا جائے، رابطہ نمبر 03457183039 مرسلہ (03024106862) ٭میں نے واہ یونیورسٹی سے سائیکالوجی میں بی ایس آنرز کے امتحان میں گولڈ میڈل لیا ہے۔ میں اس شعبے میں مزید اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہوں مگر میرے پاس وسائل نہیں۔ والد صاحب دیہاڑی دار مزدور ہیں۔ دو بھائی بھی پڑھ رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب تک میری درخواست ہے کہ میرا اعلیٰ تعلیم کا خواب پورا کرا ددیں۔ بیٹی کا نام نمبر اور پتہ راوی نامہ کے پاس محفوظ ہے۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
100%




 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...

  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved