بارشیں مبارک! مگر…!
  4  جنوری‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭قوم کو بارشیں مبارک! اس پر بعد میں لکھونگا۔ میں لاہورشہر میں رہتاہوں۔ یہ باغوں ،پھولوں، روشنیوں اور بھرپور علمی، ادبی وثقافتی سرگرمیوں کا شہرہے۔ میرے اس شہر کی آنکھیں آج آنسوؤں سے لبریزہیں۔اس کے چہرے کی رونق اورروشنی دھند لاگئی ہے۔اس شہر لاہور میں قصور شہر سے زہر انام کی ایک 60 سالہ نہائت غریب خاتون شدید تکلیف کے عالم میں کسی سے ادھار کرایہ مانگ کر لاہورآئی۔ اسے دل کی تکلیف تھی۔ دل کے علاج والے پنجاب کارڈیالوجی ہسپتال نے اسے کسی طبی امداد کے بغیر ساتھ والے سروسز ہسپتال میں بھیج دیا۔ سروسز ہسپتال کی ایمرجنسی والے ڈاکٹروں نے اسے کسی دوایا فوری طبی امداد کی بجائے جناح ہسپتال روانہ کر دیا۔ جناح ہسپتال والوں نے صاف انکار کر دیا کہ ایمرجنسی میں کوئی بستر نہیں اسے داخل نہیں کیاجا سکتا۔ غریب عورت تکلیف کی شدت سے نڈھال ہوکر ٹھنڈے فرش پر گرپڑی۔ اس فرش پر تین گھنٹے تڑپتی رہی اُسے کوئی علاج میسر نہیں ہوا،اور پھر موت نے اسے ہر تکلیف سے آزاد کردیا۔ اس دوران ذرا ذراسی بات پرسات سات دن ہسپتالوں کوبند کرکے بڑی سڑکوں پرپکِ نِک والے عیش وعشرت کے دلدادہ سنگ دل، بے حس، انسانیت کش ینگ ڈاکٹروں کے مافیا نے اس غریب عورت زہرا کے علاج پر کوئی توجہ نہیںدی۔ ہسپتال کا ایم ایس اور دوسرے لاکھوں کمانے والے بڑے بڑے ناموں والا کوئی ڈاکٹراس کا حال دیکھنے نہیںآیا! ادھار کرایہ لے کرلاہورآنے والی قصور کی غریب زہرا جس حالت میں تڑپتے ہوئے چل بسی، اس پرمیرا شہر لاہوربے حد غم زدہ اورشرمند ہے۔مجھے سمجھ میں نہیںآرہا کہ اس انتہائی اذیت ناک واقعہ پر کیا کہوں؟ کیالکھوں؟ خدا کا غضب نازل ہوان نام نہاد ڈاکٹروں پر، ایک غریب عورت تین گھنٹے تک ہسپتال کے اندر ٹھنڈے فرش پر… زیادہ لکھنے کی تاب نہیں۔مزید ڈراما یہ کہ جنا ح ہسپتال کاایم ایس بڑی ڈھٹائی سے بیان دے رہاہے کہ اس انسان دشمن واقعہ میںہسپتال کی انتظامیہ کا کوئی قصور نہیں۔ اناللہ واناالیہ راجعون! اور اب ڈاکٹروں کی بے کار قسم کی رسمی تحقیقاتی کمیٹی اپنے ہی ہم پیالہ ، ہم نوالہ ڈاکٹروں کے خلاف تحقیقات کرے گی!! استغفار! ٭میں آج شام کواسلام آباد میں ہونگا۔ اگلے چار دن اکادمی ادبیات پاکستان کی چار روزہ بین الاقوامی ادبی کانفرنس میں شریک ہوناہے۔ اس دوران اسلام آباد میں مختلف احباب سے بھی رابطہ رہے گا۔ رابطہ نمبر (0333-4148962)۔ اچھی خبر یہ ہے کہ اسلام آباد اور بالائی علاقوں میںبارشوں اوربرف باری کی ابتدا ہوچکی ہے۔ دوروزقبل محکمہ موسمیات کی غلط سلط بے تکی پیش گوئیوں اور وفاقی وزیرپانی وبجلی کے ڈراؤ نے بیانات نے ملک بھرمیں مایوسی اور بددلی پھیلادی تھی کہ ڈیم خشک ہورہے ہیں، اس سے پانی کی صورت حال پریشان کرسکتی ہے۔ ستم یہ کہ محکمہ موسمیات نے آج بھی پیش گوئی کی تھی کہ لاہور میں موسم خشک رہے گا۔ میں سو کر اٹھا تو بوندا باندی ہورہی تھی۔ ٹیلی ویژن آن کیا تو آزاد کشمیر میں مظفر آباد ، باغ ، وادی نیلم میں موسلادھار اور دیر اورگلگت ، سکردو کے علاقوں میں عام بارش کی اطلاعات نشرہو رہی تھی۔خدا تعالیٰ کا بے حد شکر! ٭ایک عرصے سے مختلف سطحوں پر کچھ الفاظ کا استعمال غیر محتاط اور غلط طریقے سے ہورہاہے۔ اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ مجھے اکثرایسے 'ایس ایم ایس' آتے ہیں جن کا آغاز 'السلام علیکم' کی بجائے 'السلام وعلیکم' یا'اسلام علیکم' سے کیا جاتا ہے۔ یہ دونوں صورتیں غلط ہیں۔ بعض حضرات جلد ی میں السام علیکم کہہ دیتے ہیں۔ اس کے معنی ہیں تم پر موت آئے۔ ان باتوں کا دھیان رکھنابہت ضروری ہے۔ ویسے تو عربی گرامر کے لحاظ سے ایک شخص کے لیے السلا م علیک، دوافراد کے السلام علیکما اور دوسے زیادہ افراد کے لیے السلام علیکم کے الفاظ استعمال ہونے چاہئیں۔ تاہم السلام علیکم کی اصطلاح عام ہوچکی ہے، اس لئے اسے قبول کیاجارہاہے۔ اب کچھ دوسرے الفاظ دیکھیں۔ 'چاق و چوبند' یا ' چاک وچوبند' غلط ہے، صحیح لفظ چاق چوبند ہے۔ مِٹّی اورمَٹّی دونوں درست ہیں۔ ایک لفظ 'علاوہ' بہت غلط العام ہوگیا ہے۔ اسے بڑے بڑے ادیب حضرات بھی 'سوا' (Except) کے طورپر استعمال کرتے ہیں۔ علاوہ کا مطلب ہے کچھ چیزیں اور ان کے ساتھ کچھ اور چیزیں! مثلاً وہاں سیبوں کے علاوہ آم بھی پڑے ہوئے تھے۔ علاوہ کا انگریزی متبادل ہے(In Addition to) ۔ جب کہ سوا کا مطلب (Except) ہے۔ مثال یہ ہے کہ اسلم کے 'سوا' کوئی بھی کامیاب نہ ہوسکا۔ یعنی اسلم کامیاب ہوا ، دوسرے ناکام رہے۔ آگے آئیں۔ عَنّصر غلط ہے، عُنصر صحیح ہے۔ عِندلِیب غلط ہے، عَندلِیب درست ہے۔ سِمَت یاسَمَت دونوں غلط ہیں، صحیح لفظ سَمْت ہے۔ عَفِریت کی بجائے عِفرِیت پڑھنا چاہئے۔ عَطَر کی جگہ عِطر پڑھاجائے۔ عَدَل غلط ہے، عَدْل صحیح ہے۔ عَصمت کوعِصمت پڑھیں۔عُضَو غلط ہے،عْضُو صحیح ہے۔ ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ بلبل کو لکھنؤ اور دہلی میں مونث اور پنجاب اور خیبر پختونخوا میں مذکر پڑھااور بولا جاتا ہے۔ میر تقی فرماتے ہیں''گلشن میں آگ لگ رہی تھی رنگِ گُل سے مِیر ، بُلبل پکاری دیکھ کے صاحب پَرے پرَے!'' اور علامہ اقبال کی بانگ درا میں نظم کا مطلع '' ٹہنی پہ اک شجر کی تنہا، بُلبل تھا کوئی اداس بیٹھا!''…( یہ سلسلہ جاری رہے گا)۔ ٭کچھ ادبی باتیں: گورنمنٹ انبالہ مسلم کالج کے شعبہ اُردو کے سابق چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم کمال کی شخصیت ہیں۔ پچھلے برس ریٹائرہونے سے پہلے اور پھر بعد میں 100سے زیادہ علمی ، ادبی ،تنقیدی اور نصابی کتابوں کا ڈھیر لگا دیا ہے۔ ان میں70 ادبی کتابیں ہیں۔ کوئی موضوع باقی نہیں چھوڑا۔(2016ء میں16کتابیں)۔ کچھ عرصہ پہلے دبستانِ سرگودھا اور ڈاکٹر وزیر آغا کی شخصیت اور کام کے بارے میں ضخیم کتابیں چھاپیں۔ اب ایک اور بڑا کام کیا ہے کہ ارسطواور ولی دکنی سے لے کر اب تک 125 بڑے اور نامور شاعروں اور ادیبوں کے تعارف اورسوانح حیات پر پونے سات سو صفحات پر مشتمل ایک ضخیم کتاب (تقریباً ڈیڑھ کلو وزنی) شائع کردی ہے اس میں میر تقی میر، غالب، میر درد، مرزا داغ اور اسی دور کے دوسرے نامور بڑے شاعروں سے لے کر سر سید احمد ، مولانا ظفر علی خاں، جگرمراد آبادی، جوش ملیح آبادی، اختر شیرانی ، فیض احمد فیض، احسان دانش ، احمد ندیم قاسمی، وزیرآغا،انتظار حسین اور ماضی قریب وحال کے تقریباًتمام معروف ادیبوں شاعروں کا تفصیلی تعارف اوران کے کلام کا نمونہ بھی شامل کردیا ہے۔ ڈاکٹرہارون الرشید تبسم نے مزیداہم کام یہ کیا ہے کہ ادبی کتابوں کی خالق معروف'' مقبول اکیڈمی ''کے بانی ملک مقبول احمدصاحب نے ( خداتعالیٰ انہیں بخیریت رکھے!) عصر حاضر کے 118 مشہور ادیبوں و شاعروں کے تعارف اور ان سے ملاقاتوں کی روداد خوبصورت پیرا یہ میں ''شاسا چہرے'' کے نام سے شائع کی تھی یہ نام ڈاکٹر تبسم کی فہرست میں شامل نہیں۔ ان ناموں کے بارے میں ملک صاحب کی مشاورت اور رہنمائی کے ساتھ ڈاکٹر عبدالرشید تبسم نے اہم اضافوں کے ساتھ ''شناسا چہرے ''کو ''کُندن چہرے'' کے نام سے اس انداز سے شائع کردیا ہے کہ ملک صاحب نے جن بہت سے ادیبوں شاعروں کی باتیں کیں ہے،ان کے بارے میں ڈاکٹر عبدالرشید تبسم سے خود ذاتی طورپر ایک صفحے کا تعارف اور پھرانہی کے بارے میں ملک مقبول احمد صاحب کی تحریر پر مبنی ایک صفحہ شائع کردیاہے۔ یہ کتاب بھی 320 صفحات پرمشتمل ہے۔ ڈاکٹر صاحب کی خوبی یہ ہے کہ ان کی 100 سے زیادہ کتابوں میںشائد ہی کوئی کتاب تین ساڑھے تین سو صفحات سے کم ہوگی۔ حیرت ہے کہ انہوں اتناکام کس طرح کیا ہے اوراب بھی کئے جارہے ہیں!( ان کی درازی عمر اور صحت کی دعا کرتا ہوں ان سے 0483711717نمبر پر رابطہ کیاجاسکتا ہے)۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved