ہسپتالوں میں اضافی بیڈز کہاں سے لائیں؟
  5  جنوری‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

کیا لیڈر ہیں اور کیا ان کی زبانیں؟ ایک نے کہا ''جاوید ہاشمی کا ذہنی توازن درست نہیں'' دوسرا بولا ''میرا اور عمران کا منیٹل اور نشے کا ٹیسٹ کروایا جائے...رپورٹ آنے پر قوم کی کپتان سے جان چھوٹ جائے گی۔'' آج کل کے جمہوری لیڈروں کے بدتمیزانہ بیانات نے جو گند ڈال رکھا ہے... اس سے معاشرے میں انارکی بڑھتی چلی جارہی ہے... سیاسی جماعتوں کے لیڈروں کے ایک دوسرے پر گھٹیا الزامات اور بازاری جملے بازیوں کی وجہ سے معاشرے کی گھٹن میں اضافہ ہوتا جارہا ہے... رہ گئی حکومت کی گڈگورننس تو قصور کی زہرہ بی بی لاہور کے تین ہسپتالوں میں دھکے کھانے کے بعد جب چوتھے یعنی جناح ہسپتال پہنچی... تو اسے ''اورنج ٹرین'' اور ''میٹرو'' سے مالا مال لاہور کے جناح ہسپتال میں کوئی خالی بیڈ بھی میسر نہ آیا... تو اسے ہسپتال ہی کے ٹھنڈے ٹھار فرش پر لٹا دیا گیا ... قصور کی زہرہ بی بی بغیر کسی علاج کے ٹھنڈے فرش پر ہی ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر گئی... کہا جاتا ہے کہ مریضہ اپنے علاج کے لئے جو رقم ادھار لے کر آئی تھی... وہ تین ایمبولینسوں میں ہسپتالوں کے چکر کاٹنے کے کرائے میں ہی خرچ ہوگئی... جیسے ہی زہرہ بی بی کی موت کی خبر نشر ہوئی تو صوبائی وزیر خواجہ سلیما ن رفیق بھی گونگلوں پہ لگی مٹی جھاڑنے کے لئے ہسپتال پہنچ گئے اور واقعہ کی انکوائری کے لئے تین رکنی کمیٹی مقرر کر دی... یعنی کہ ''ٹائیں' ٹائیں' فش'' سوال یہ ہے یہ کمیٹی کون سا تیر مارلے گی؟ یہ بات کون نہیں جانتا کہ صرف لاہور کے سرکاری ہسپتالوں میں ہی نہیں بلکہ راولپنڈی اسلام آباد سمیت ملک بھر کے سرکاری ہسپتالوں میں بھی بیڈز کی کمی کی وجہ سے بعض اوقات ایک ایک بیڈ پر تین' تین مریض پڑے کراہ رہے ہوتے ہیں... سرکاری ہسپتالوں میں ''بیڈز'' کی کمی دور کرنا کس کی ذمہ داری ہے؟ اس حوالے سے جناح ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر ظفر یوسف کا موقف سب سے ظالمانہ اور سنگدلانہ ہے... وہ کہتے ہیں کہ ''کبھی کسی مریض کو نیچے لیٹنے کے بارے میں نہیں کہا مریضہ خود ہی فرش پر لیٹ گئی تھی... اب اضافی بیڈز کہاں سے لے کر آئیں؟ مریضوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔'' یہ ہے خادم اعلیٰ کے اپنے شہر لاہور کے ہسپتالوں کی حالت زار... ڈاکٹر ظفر یوسف کو چاہیے کہ وہ عوام کو حکم نامہ جاری کر دیں کہ آئندہ سے وہ بیمار ہونا چھوڑ دیں... یا پھر جو بھی بیمار ہو... وہ اپنی ''بیماری'' دور کرنے کے لئے اورنج ٹرین اور میٹرو بس کی سیر کرنا شروع کر دے... اس سے مریض کو کافی افاقہ حاصل ہو جائے گا' وزیراعلیٰ شہباز شریف کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ سرکاری ہسپتالوں کے ذمہ داران کو ہدایات جاری کریں کہ جب ان کے ہسپتالوں میں بیڈز کم پڑ جائیں... اور مریضوں کو رکھنے کی جگہ نہ رہے... تو وہ ان مریضوں کو... پورے احترام کے ساتھ اورنج ٹرین اور میٹرو کی طرف روانہ کر دیا کریں۔ آئندہ اگر کبھی کوئی زہرہ بی بی جیسی مریضہ ہسپتالوں میں آئے تو اسے موٹروے کی طرف روانہ کر دیں تاکہ وہ مرنے سے پہلے چمکتی' دمکتی سڑکیں دیکھ کر خوش تو ہوسکے... کسی بھی مریض کو مرنے سے پہلے خوشی فراہم کرنا بھی تو خدمت خلق کے زمرے ہی میں آتا ہے۔ راولپنڈی کے بے نظر بھٹو ہسپتال کے ایک وارڈ میں تین' تین مریضوں کو ایک بیڈ پر پڑے ہوئے تو میں نے اپنی گنہگار آنکھوں سے دیکھا ہے' اور یہ سین بھی' کہ جب ایک مریض نے وارڈ کا دورہ کرنے والے سینئر ڈاکٹر سے اس بات کی شکایت کی... تو ان کے لشکر میں شامل ایک دوسرے ینگ ڈاکٹر نے شکایت کرنے والے مریض کو نہ صرف یہ کہ جھاڑ پلا دی... بلکہ کسی فرعون کی طرح ہسپتال کے دیگر عملے کو اس مریض کا علاج کرنے سے بھی روک ڈالا' سرکاری ہسپتالوں کی حالت زار' وہاں کے عملے... ینگ ڈاکٹرز اور دیگر سٹاف کے مریضوں اور ان کے لواحقین کے ساتھ عمومی روئیے... اس قدر تحکمانہ اور توہین آمیز ہوتے ہیں کہ ... جس پر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے... تعلیم کا شعبہ ہو یا صحت کا شعبہ' ان شعبوں کے چوکیداروں نے چوروں کے ساتھ مل کر خود ہی برباد کر ڈالا ہے۔ مجھے ترس آتا ہے ان ''بقراطوں'' پر کہ جو اس دور کو جدید قرار دیتے ہوئے نہیں تھکتے... مجھے ترس آتا ہے ... نئے سال کی خوشیوں کے نام پر لاکھوں کروڑوں روپے آتش بازی کی نظر کرنے والوں پر... مجھے ترس آتا ہے ' ترقی' ترقی کی رٹ لگا کر عوام کو بیوقوف بنانے والوں پر ... جس دور میں زہرہ بی بی ہسپتال میں پہنچنے کے بعد بھی علاج کے بغیر ہی کئی گھنٹوں تک ٹھنڈے فرش پر پڑے پڑے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر جائے... اسے جدید یا ترقی یافتہ کہنا جھوٹ کے مترادف ہے۔ قصور کی زہرہ بی بی لاہور کے جناح ہسپتال کے فرش پر تو مر گئی' مگر... دنیا والوں کے سامنے شریف حکومت کی ''گڈگورننس'' کو بے نقاب کر گئی۔ زہرہ بی بی کیا مرئی کہ حکمرانوں کی ''گڈگورننس'' کو بھی موت آگئی' ورنہ بھلا یہ بھی کوئی طعنہ ہے کہ ''مریضوں کی تعداد بڑھ چکی ہے... جس کی وجہ سے بیڈز کم پڑ چکے ہیں... توبہ ' توبہ' توبہ' اگر مریض بڑھ جائیں تو کیا انہیں ہسپتالوں کی بالکونیوں' پارکوں اور فرش پر بغیر علاج کے مرنے کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے؟ سرکاری ہسپتالوں میں بیڈز کی تعداد میں اضافہ کیوں نہیں کیا جاتا ؟ صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق نے انکوائری کمیٹی تو قائم کر دی لیکن کیا انکوائری کمیٹی اس ایم ایس کا محاسبہ کر پائے گی کہ جو دھڑلے سے یہ بات کہہ رہا ہے کہ مریضہ خود ہی فرش پر لیٹ گئی... اب اضافی بیڈ کہاں سے لے آئیں؟ اس جملے میں کیسی رعونت ہے؟ کیسی نخوت ہے؟ یا پھر بے بسی اور بے چارگی؟ کیا ''بیڈز'' مریضوں کی جانوں سے بہت زیادہ قیمتی ہیں؟ اورنج ٹرینوں' میٹرو اور سڑکوں کی تعمیر کیلئے اربوں' کھربوں روپیہ تو آسکتا ہے ... مگر ہسپتالوں میں بیڈز کی کمی کو پورا کرنے کے لئے... خزانہ خالی ہے تو کیوں؟ جب جاں بلب مریضہ کو ہسپتال انتظامیہ بیڈ نہیں دے گی تو وہ فرش پر نہ لیٹتی تو اور کیا ہسپتال کی چھت سے کود کر خودکشی کرلیتی؟ سرکاری ہسپتالوں کے ''ظفر یوسفوں'' کو کوئی بتائے کہ آخر وہ اضافی بیڈ لائیں تو لائیں کہاں سے؟ مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر قابو پائیں تو پائیں کیسے؟


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
50%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
50%
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved